”میری زندگی بھی کوئی زندگی ہے—ذیڈاے قریشی


اس موجودہ دنیا میں کوئی بھی ایسا شخص ڈھونڈنا مشکل ہوگا جسکو کوئی پریشانی لاحق نہ ہو، ہاں مگر نوعیت میں فرق لازم ہے کیونکہ یہ بھی فطرت کا حصہ ہے، مثلاً کسی کو معاشی پریشانی کا سامنا ہوگا تو کسی کو معاشرتی، اگر کسی کو ازدواجی پریشانی کا سامنا ہوگا تو کسی کو خاندانی،اسی طرح کسی کو طبعی مسائل کا سامنا ہوگا تو کسی کو تعلیمی وغیرہ وغیرہ لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ کسی کو کوئی پریشانی لاحق نہ ہو۔

لیکن!

ان مسائل اور پریشانیوں کا بہت آسان حل موجود ہے جو کہ آپکو دوسروں کو خوشیاں دے کر باآسانی مل سکتا ہے۔

ایک فرضی واقعہ سناتا ہوں!

دو مریض ہسپتال میں بستر مرگ پر تھے، فرق صرف اتنا تھا کہ ایک کا بستر کھڑکی کے بلکل قریب تھا جہاں سے وہ زندگی کی روانی کو دیکھ سکتا تھا لیکن دوسرا مریض ساتھ والے بستر پر تھا۔

اب معاملہ کچھ یوں تھا!

کہ کھڑکی کے قریب والے بھائی سارا دن ساتھ والے مریض کو کھڑکی سے دیکھ کر زندگی کی روانی، دنیا کا حُسن اور فطرت کے دلکش مناظر سناتا رہتا تھا لیکن ایک دن اللہ کے مقرر کردہ وقت پر اُسکی وفات ہوگئی تو ساتھ والے مریض نے نرس سے کہا مجھے کھڑکی والے بستر پر منتقل کردیں تاکہ میں بھی دلکش زندگی سے روبرو ہو سکوں،تو پھر اُسکو منتقل کردیا گیا
لیکن!
جب اُس نے کھڑکی سے باہر کی دنیا دیکھنا چاہی تو اُسکو فقط ایک دیوار نظر آئی، اُس نے نرس کو بُلایا اور کہا کہ مجھے تو یہاں سے صرف دیوار نظر آرہی ہے جبکہ یہاں سے تو ایک ندی، بچوں کا پارک اور بہت سے دلکش مناظر نظر آتے تھے۔

نرس نے سوال کیا کہ آپکو یہ کس نے کہا ہے؟

مریض نے جواب دیا کہ جو مریض اس بستر پے پہلے رہتا تھا وہ مجھے سارا دن کھڑکی سے مناظر دیکھ کر بتایا کرتا تھا اور یوں میرا سارا دن بہت خوشگوار گزرتا تھا۔

یہ سن کر نرس کی آنکھوں میں آنسو آگئے، مریض نے پوچھا کہ آپ رو کیوں رہی ہیں تو نرس نے جواب دیا کہ وہ مریض تو نابینا تھا۔

اب آپ خود سوچیں!

ایک انسان جس نے خود دنیا کا کوئی بھی منظر نہ دیکھا ہو اور بستر مرگ پر بھی وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہونے کیساتھ، اپنے تمام غم بُھلا کر ایک انسان کو زندگی اور خوشی کا احساس دلاتا رہا، اُسکا آخرت میں مقام کیا ہوگا؟

اللہ نے ہمیں سب کچھ عطا کیا لیکن پھر بھی ہم کسی کو حوصلہ نہیں دیتے، ہمت نہیں بڑھاتے تو پھر ہماری زندگی کیا ہوگی فقط سانسوں کی ڈوری جو کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے۔

اسی لیے تو بڑے کہتے ہیں!

کہ اپنے لیے تو ہر کوئی جیتا ہے لیکن اوروں کیلئے کوئی کوئی جیتا ہے وہی دراصل زندگی کا سکندر وہی ہوتا ہے۔

اللہ ہم سب کو دوسروں میں خوشیاں بانٹنیں کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

زیڈاےقریشی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ،
ویزٹنگ لیکچرار (قانون)، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد۔


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *