”عہدے سے رُخصتی اور دنیا سے رُخصتی پر پاکستانی اپروچ“—ذیڈاے قریشی


میں نے کچھ دن قبل اپنی فیس بک وال پر سٹیٹس دیا کہ عہدے اور دنیا سے رُخصتی بھی ایک فطری عمل ہے کیونکہ مدت ملازمت بھی مقرر شدہ ہوتی ہے اور ایک دن ہر ایک انسان کو ریٹائیر ہو کر اپنی جگہ نئے آنے والے لوگوں کے لیے خالی کرنا پڑتی ہے، بلکل اسی طرح دنیا سے رُخصتی کا وقت بھی اللہ رب العزت نے مقرر کر رکھا ہے اور ہر انسان کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملنا ہے بس فرق صرف اتنا ہی ہے کہ ایک تاریخ کا انسان کو خود اور دوسری تاریخ کا اللہ رب الکائنات کو پتہ ہوتا ہے۔

آج آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کا دن تھا اور اُنہوں نے بہت ہی دیانتداری سے اپنی کمان نئے آرمی چیف کے حوالے کر دی ہے جو کہ بہت ہی شاندار روایت اور جمہوریت پسندی کی علامت بھی ہے، لیکن ہمارے کچھ صحافی اور سیاسی بھائیوں کا ہاضمہ اس روایت کی تکمیل سے کافی خراب ہوگیا ہے، اب اُن سب کو راحیل شریف کی برائیاں، غلطیاں اور کوتاہیاں یاد آرہی ہیں، مگر مجھے لگتا ہے کہ دراصل وہ اُن کی ذہنی بیماری کا نتیجہ ہے وگرنہ یہی لوگ ہوتے تھے کہ شریف صاحب کو اپنے اور ملک کی سلامتی اور ترقی کا سرتاج سمجھا کرتے تھے لیکن جب اِن سب کے ناپاک عزائم و ارادے پورے نہیں ہوۓ تو ایک سرتاج شخصیت، اب مفاد پرست اور پتہ نہیں کیا کیا ہو گئی ہے۔

افسوس صد افسوس!

پاکستان میں دو طرح کے آرمی چیف گزرے ہیں، پہلی قسم ہے آمریت پسند مثلاً ضیاء الحق اور مشرف۔ دوسری قسم میں آتے ہیں جمہوریت پسند مثلاً جنرل اشفاق پرویز کیانی اور جنرل راحیل شریف۔۔۔

اگر ہم پہلی قسم کے آمر جرنیلوں کو ہی دیکھ لیں کہ جب انہوں نے جمہوریت پر شب خون مارا تو کبھی مرد مومن، مرد حق کے نعرے لگے تو کبھی مشرف تیرے جان نثار بے شمار، بے شمار وغیرہ لگتے رہے لیکن جب اُنکا اصل اور حقیقی چہرہ بے نقاب ہوا تو پھر ہم نے اُنھیں بھی غدار اور پتہ نہیں کیا کیا نہیں کہا۔۔۔

اور اسی طرح آج ہم نے پھر اپنی تاریخ دھرائی ہے کہ جب ایک آرمی چیف اپنی کمان خوش اسلوبی سے نئے چیف کو سونپ رہا ہے تو ہمیں اس میں برائیوں کا سمندر نظر آنا شروع ہوگیا ہے اور اسکی ساری نیک نامی مٹی میں ملانا ہی اپنا اولین فریضہ لگنے لگا ہے، مگر ہم سب یہ بہت جلدی بھول گئے کہ جب دہشتگردوں کا صفایا ہو رہا تھا یا معاشی ترقی کے منصوبے ”سی پیک“ کی بنیاد رکھی جا رہی تھی تو ہم سب ہر ہی کام میں ”شکریہ راحیل شریف“ کہا کرتے تھے لیکن ہم یہ سب کچھ بہت جلدی بھول جاتے ہیں کیونکہ ہم من حیث القوم ہی خواہشات کی تکمیل سے جُڑے ہوۓ ہیں، خواہ وہ درست ہوں یا نہیں۔

لیکن ایک فرق ضرور ہے، ہماری قوم میں سے جو بھی شخص دنیا سے رُخصت ہو تو اُسکو ہمیشہ اچھے الفاظ اور نیک نامی سے ہی یاد کیا جاتا ہے شاید یہ ہمارے عقیدے کا جزو سمجھا جاتا ہے لیکن وہ بدقسمت جو فقط نوکری سے ریٹائرڈ ہو اُسکے ساتھ ایسا کرنا شاید ہماری ذہنی بیماری کا نتیجہ ہوتا ہے یا پھر من حیث القوم منافق ہونے کی نشانی ہے۔

اس سارے معاملے کو دیکھ کر مجھے کچھ یاد آرہا ہے کہ!
کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے، کوئی اخلاقیات ہوتی ہیں مگر یہ کیسی روایات بنائی جارہی ہیں۔


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *