میں لکھاری کیوں بنا؟–


15129897_343456152679750_348466919_n-1
یہ تحریر لکھاری ویب سائٹ کیلئے میری پہلی تحریر، اسیلئے موضوع کا انتخاب بھی کچھ اسی مناسبت سے پسند کیا۔ اُمید ہے کہ حاضرین کو میری یہ تحریر پسند آۓ گی۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ میں لکھاری ضرور ہوں مگر اپنے لیے ”اَناڑی لکھاری“ کا لقب کافی موزوں اور پسندیدہ ثابت ہوگا اور اگر لکھاری ادارہ نے اجازت دی تو میرے کالم کا نام ”اناڑی لکھاری“ ہی ہوگا کیونکہ میں ایک اناڑی سا لکھاری ہوں، ہمیشہ تجربہ کار لکھاریوں سے سیکھنے اور استفادہ اُٹھانے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔

اب اپنے موضوع کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میں دنیا میں کسی بھی شے کو بے وجہ اور بے مقصد پیدا نہیں کرتا، اسکا مطلب یہ ہوا کہ دنیا میں جو بھی شے اللہ نے پیدا فرمائی اُسکی بنیاد کسی مقصد سے چھپی ہوئی ہے۔ جو کہ میرے اندازے کیمطابق دنیا کے بہت سے لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ اُنکا دنیا میں آنے کا مقصد کیا تھا۔ اگرچہ میں بھی انسان ہی ہوں لیکن مجھے بھی معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کس مقصد کیلئے اس دنیا میں پیدا کیا؟

اگر انسان تصور کرے کہ اللہ نے انسان کو فقط اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے تو یہ سراسر غلط ہے کیونکہ یہ اللہ کی اطاعت اور بندگی کے مقاصد میں سے ایک مقصد ضرور ہوگا لیکن کُلی مقصد نہیں ہے، ہم انسان کی پیدائش کو مختلف جزوی مقاصد کیساتھ بآسانی جوڑ سکتے ہیں کیونکہ انسان کو اپنے لیے زندگی بسر کرنے کی ضروریات کا اہتمام بھی خود ہی کو کرنا پڑتا ہے جب وہ عاقل اور بالغ ہوجاتا ہے تو اُسکو افزائش نسل کے لیے شادی اور بچوں کی اچھی پرورش کی ذمہ داریاں بھی اُٹھانا پڑتی ہیں جیسکہ ہمارے والدین سے لیکر حضرت آدمؑ تک ایسا ہی سلسلہ چلتا رہا ہے۔

اوپر دی گئی تفصیل سے ہم یہ اخذ کر سکتے ہیں کہ دینی اور دنیاوی ذمہ داریاں الگ الگ ہیں لیکن ان کا آپس میں بہت ہی گہرا تعلق ہوتا ہے کیونکہ اسی وجہ سے ہی اللہ نے دو طرح کے حقوق انسانوں پر لازم قرار دیئے ہیں۔
١. حقوق اللہ (عبادات)
٢. حقوق العبد (معاملات)
اسطرح ہم پر جزوی ذمہ داریاں لاگو ہو گئی ہیں لیکن کیا اس پر ہی اکتفا کر لینا چاہیے یا پھر ہمیں باقی ذمہ داریوں پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ مثال کے طور پر آج کے موضوع سے ہمیں کچھ حد تک معاشرتی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہے۔

جس طرح علم کا حصول انسانوں پر فرض کیا گیا ہے اسیطرح اس علم کو دوسروں تک پہچانا بھی ایک فرض ہے۔ اس عمل کو ترویج علم کہتے ہیں جو کہ حصول علم سے بڑی ذمہ داری ہوتی ہے اسکا مطلب یہ بلکل بھی نہیں ہے کہ میں بہت بڑا عالم فاضل ہوں اور باقی سب میرے بھاشن سننے کے پابند ہیں بلکہ انسان ہمیشہ ہی طالب علم ہی رہتا ہے کیونکہ طالب علم کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ علم کی طلب رکھنے والا تو گویا ہر ہی انسان ماں کی گود سے لیکر قبر تک طالب علم ہی ہوتا ہے۔

میں بھی اپنے آپ کو ادنی سا طالب علم تصور کرتا ہوں، اب بات ہوجاۓ میں اناڑی سا لکھاری کیوں بنا؟

جی ہاں جس طرح علم کا حصول اور اُسکی ترویج فرض ہے اُسی طرح اپنی سوچ اور شعور جو کہ اللہ رب العزت کی خاص عنایت ہوتی ہے اُسکو دوسروں تک صیح طریقے اور ایمانداری سے پہنچانا بھی ہم پر لازم ہے اس سے قطع نظر کہ آپ سے ساری دنیا ہی اختلاف کرے لیکن آپکو اپنا فرض نبھانا چاہیے اور ہمیشہ اختلاف راۓ رکھنے والوں کا دل سے احترام کرنا چاہیے کیونکہ جب آپکی راۓ سے کوئی اختلاف کرتا ہے تو آپکو خود دوسروں کی آراء سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے لیکن جب آپ اپنی سوچ دوسروں تک نہیں پہچائیں گے تو وہ آگے نہیں بڑھ سکے گی بلکہ اُدھر ہی رُک جاۓ گی۔ اگر آپکی سوچ غلط ہوگی تو لوگوں کی اصلاح سے درست ہوجاۓ گی اور آگے دوسروں تک اُسکی اصل اور صیح شکل میں ترویج بھی ممکن ہوجاۓ گی۔

دراصل یہ لکھاری ہونا بھی سیکھنے اور سیکھانے کا ہی عمل ہے جو کہ سب لکھاری انسان نیک نیتی سے کرتے ہیں، اسی لیئے ہمیں اس شعبے سے منسلک تمام لوگوں کی آراء کا کھلے دل سے احترام کرنا چاہیے کیونکہ اس عمل سے فائدہ صرف علم ہی کا ہوتا ہے۔

میں اکثر اپنے طلباء سے کہا کرتا ہوں کہ میں حادثاتی اُستاد ہوں کیونکہ مجھے بچپن میں کرکٹر بننے کا شوق تھا اور لڑکپن میں فوجی بننےکا لیکن اللہ کو میرے لیے کچھ اور ہی منظور تھا سو میں وکیل بن گیا لیکن شاید اللہ کو مجھ سے تعلیم اور ترغیب کا کام بھی لینا تھا تو اُستاد جیسا اعلیٰ مقام بھی عطا کردیا۔ اس لیئے ہمیں علم کے حصول کے لیے کوشش کرنے چاہیے اور پڑھنے لکھنے اور سیکھنے کے عمل کو کبھی بھی نہیں روکنا چاہیے۔

اگر ہمیں لوگوں اور معاشروں میں انقلابی سوچ کی آبیاری اور فروغ کیطرف راغبت کرنی ہو تو ہمیں صرف ایسے ہی انقلاب کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہوۓ نظر آئیں گے جو قلم کی طاقت سے وارد ہوۓ ہیں ناکہ ہتھیاروں کی طاقت سے۔۔۔
ہم اگر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کو ہی دیکھ لیں اور آزادی پاکستان کے پیش خیمہ کو تو خواب غفلت سے بیداری کا اصل عنصر اقبال کا قلم ہی نظرآۓ گا تو گویا یہ ایک حقیقت ہے کہ قلم کی طاقت سے ہی دنیا کو فتح کیا جا سکتا ہے۔

ان سب عناصر کو مدنظر رکھتے ہوۓ میں نے بھی ”اَناڑی لکھاری“ بننے کا فیصلہ کیا اور آپ سب سے دعا کی درخواست ہے کہ میرے لیے دعا فرمائیں کہ اللہ رب العزت مجھے دین اور دنیا کی فلاح کے لیے زور قلم عطا فرمائیں۔ آمین

زیڈ اے قریشی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ،
وزیٹنگ لیکچرار (قانون)،
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *