سوال تو بنتا ہے۔۔ ظفراللہ



زرداری دور میں بال کی کھال اتارنے والی، ٹماٹر، پکوڑوں، اخباری تراشوں اور سموسوں پر سوموٹو لینے والی، ہر کونے کھدرے میں خود ثبوت ڈھونڈنے والی اور مچھر چھاننے والی عدلیہ کیا نواز دور میں پانامہ کا موٹا تازہ اونٹ بآسانی نگل پاۓ گی؟؟؟؟

قطری شیخ کے خط کو مستقل طور پر قائداعظم رحمۃاللہ کی تصویر کے برابر لٹکا دیا جاۓ گا یا اس پر بھی سموسے پکوڑے رکھے جائیں گے؟؟؟
پانامہ کیس 2+2 کی طرح واضع ہے۔۔ ٭حکمران ملکیت کا خود اعتراف کر چکے ہیں۔۔
٭عمران خان و سراج الحق سے ثبوت طلب کرنے کے بجاۓ نواز شریف و اہل خانہ کے 99 رنگے متضاد بیانات اور التوفیق ٹرسٹ کیس کو عدالتی کاروائی کا حصہ بناتے ہوۓ تسلیم شدہ پراپرٹی کا حساب مانگا جاۓ۔۔
نیز 01۔۔ امارات میں قائم کردہ فیکٹری کے منی ٹریل اور خرید و فروخت کی دستاویزات طلب کی جائیں۔۔
02۔ شیخ القطر کو 1980 میں میاں شریف اور الثانی گروپ کے مابین ھونے والی بزنس ڈیل کی دستاویزات، فلیٹ نمبر 16/16 اے اور فلیٹ نمبر 17/17 اے کے ملکیتی پیپرز(یو۔کے 1994/95) ٹیکس پیڈ ڈاکومنٹس (قطر) منی ٹریل اور حسین نواز کے نام فلیٹ ٹرانسفر پیپرز (2005/6) کے ساتھ سپریم کورٹ آف پاکستان میں طلب کیا جاۓ۔۔
ورنہ قوم یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوگی کہ اس کے ساتھ ہمیشہ کی طرح “گناہ کر کے حج کر لے اور چوری کر کے جج کر لے” والا معاملہ ہو گیا ہے۔۔


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *