Uncategorized

تقریر معنی و مفہوم—حافظ عطاء اللہ شفیق


لفظ تقریر یہ عربی زبان کا لفظ ہے. جس کے معانی گفتگو اور بیان، بحث و مباحثہ، وعظ اور تذکرہ کے ہیں.
انسانی جذبات اور احساسات کا اظہار تقریر ہے.
اور فصاحت و بلاغت کے زیور سے آراستہ خطاب و گویائی کو تقریر کہتے ہیں.
اور خطابت کا مطلب ہے بولنا، خطاب کرنا، دوسروں تک اپنی بات پہنچانا اور دلائل سے لوگون کو سمجھانا.
عربوں میں خطانت کو ایک باضابطہ فن تسلیم کیا جاتا تھا.
گفتگو کا سلیقہ بنی نوع انسان کے بنیادی اوصاف میں سے ہے.
حسن خطابت دراصل انسانی جذبات و احساسات کا فطری اظہار ہے.
سید سلیمان ندوی رح فرماتے ہیں جس کو یہ عطیہ مل جائے حق یہ ہے کہ وہ اس کی قدر کرے.اس قوت کو ان کاموں میں صرف کرے جن سے مخلوق خدا کو فائدہ پہنچے.
خطابت کے لئے فصاحت و بلاغت انتہائی ضروری امر ہے.
“فیروزاللغات” میں اس کے معانی “خوش کلامی و خوش بیانی ” کے ہیں..
مولانا اصغر روحی رح نے اپنی مشہور کتاب “دبیر عجم” میں لکھا ہے ” کلمہ فصیح وہ ہے جس سے پڑھتے وقت زبان ٹھوکر نہ کھائے یا ثقل سے خالی ہو”.
المختصر جذبات کے اظہار کا نام تقریر اور فصاحت وبلاغت اس کا نقطہ عروج ہے.


Add Comment

Click here to post a comment