Uncategorized

اردو کا افسانہ، محمد حمزہ حامی


اردو ادب میں بڑھتے ہوئے سیاسی رحجان پر ایک نثری نظم . 
“اردو کا افسانہ” 
اردو ایک ادھ کھلی تازہ کلی 
چاک گریباں گلی گلی 
اپنا تارتار دامن 
اپنے زخم دکھاتی پھرتی ہے 
حالِ دل سناتی پھرتی ہے 
نوحہ کناں ہے 
اپنے نیم مردہ وجود پر 
اپنے ہر پالنہار کے اجڑے مکاں پر 
کہتی پھرتی ہے 
روداد اپنے رنج و الم کی 
گریہ کرتی ہے 
یوں اپنے ہی گھر میں لٹ جانے پر 
اپنے چہرے پر لگے بدنما داغوں پر 
ماتم کرتی ہے 
بس اک صدا لگاتی ہے 
اب بچائے کوئی مجھ کو 
ان متشاعروں سے 
ان سیاسی ادیبوں سے 
میں وراثت ہوں ان کی 
کہ جنہوں نے پالا ہے مجھے 
خونِ جگر پلا کر 
ائے میرے وارثو 
اب لوٹ آو اپنے مزاروں سے 
کہ تمہاری وراثت اب 
نیلام ہوئی جاتی ہے 
اے میرے غالب ، میرے میر و جالب 
اے میرے فیض و فراز ، اے میرے محسن 
میرے آتش و جگر ، قتیل و انشاء 
میرے اقبال ، میرے ساحر و ساغر 
اے میرے بابا صاحبا 
میری قدسیہ ، بجھیا ، اے میرے انتظار و منٹو 
اور میری تنہائی کی ساتھی 
پروین شاکر 
اب آو کہ اپنی اس یتیم کو 
پُرسہ دو 
کہ اب میرا افسانہ بھی 
تمام ہوا چاہتا ہے 
محمد حمزہ حامی