Uncategorized

پے درپے کامیاب جلسوں کے بعد مالم لیگ ن نے ساہیوال میں بھی میدان مارلیا ہے اور زبردست کامیابی حاصل کرلی ہے۔میاں نواز شریف کا بیانیہ سر چڑھ کر بول رہا ہے اور ساہیول میں بھی نوا زشریف کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے عوام سڑکوں پر نکل آئی۔تحریک انصاف کے لاہور میں فلاپ جلسے کے بعد مسلم لیگ ن نے ساہیوال میں میدان سجایا اور اس قدر بڑی تعداد میں عوام آئے جس کی نظیر نہیں ملتی یہ جلسہ ہر لحاظ سے کامیاب رہا ہے اور اس میں لوگوں کے لئے کھڑے ہونے کی جگہ بھی نہیں بچی تھی اس جلسے میں ن لیگ کی جانب سے ہزاروں کی تعداد میں کرسیاں لگائی گئیں تھیں اور یہ کرسیاں بھی جوڑ جوڑ کر لگائی گئیں تھی۔مگر اس کے باوجود جگہ کم پڑ گئی اور عوام کا سمندر امنڈ آیا۔یہ بلاشبہ ساہیوال کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ قرار دیا جاسکتا ہے۔لوگوں کا جوش و خروش دیدنی تھی اگر پی ٹی آئی کے جلسے سے موازنہ کریں تو تحریک انصاف کے فلاپ جلسے میں کوئی جوش خروش نہیں تھا جبکہ یہاں عوام فل چارجڈ تھی اور ووٹ کو عزت دو کی آوازیں بند ہونے کا نام۔نہیں لے رہیں تھی۔بیشتر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ایسے جلسے بہت ہی کم دیکھنے کو ملتے ہیں اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نواز شریف پاکستان کے کس قدر مقبول لیڈر بن چکے ہیں۔

یہ جلسہ کئی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل۔تھا اس جلسے کی اہم بات اس جلسے میں صرف ساہیوال کے لوگ شریک تھے یعنی کہ۔مقامی لوگ اس جلسے میں دوسرے شہروں سے لوگ نہیں لائے گئے جیسا کہ پی ٹی آئی نے پورے پاکستان سے لوگ لاکر جلسہ۔کیا۔مگر لاہور کی عوام ہی اس میں شریک نہ ہوئی اور کہنے والے نے کہا کہ جلسہ لاہور دا مجمع پشور دا تے ایجنڈا کسی ہوردا۔
چونکہ یہ جلسہ تحریک انصاف کے جلسے کے فوری۔بعد ہورہا تھا اس لئے یہ ماضی کے جلسوں کی۔نسبت ذیادہ اہم تھا جس میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت نے مسلم لیگ ن کو کافی ریلیف دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ مقتدر حلقے الیکشن کرانے کو تیار ہوگئے تھے اور عمران خان سے ڈیمانڈرکھی گئی تھی کہ دو لاکھ کا جلسہ کریں تو ہم الیکشن کرادیں گے مگر کپتان ناکام ہوگئے جس کے بعد نادیدہ قوتوں کو احساس ہوچکا ہے کہ عمران خان پر بار بار کی انویسٹمنٹ کرنا دانشمندی نہیں ہے۔اس لئے ان قوتوں۔نے نواز شریف کے ساہیوال جلسے کو ٹیسٹ کیس کے طور پر واچ لسٹ میں رکھ چھوڑا تھا اور نواز شریف کے کامیاب جلسے کے بعد یہ قوتیں۔مزید بیک فٹ پر ہوگئی ہیں۔اس جلسے سے جہاں نواز شریف کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے وہیں عوامی ترجیحات بھی سامنےآرہی ہیں اور یہ بالکل واضح ہوچکا ہے کہ عوام اب ووٹ کے تقدس کی اہمیت کا جان چکے ہیں اور اسی لئے ان کے ووٹ اور ان کی پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے اور عزت نہ کرنے والوں کو عوام جلسوں۔میں بھی مسترد کررہے ہیں بلکہ الیکشن میں بھی یہ لوگ مسترد ہوں گے۔
ایک اہم بات جو کپتان کے جلسے کے بعد سامنے آئی ہے کہ بول نیوز چینل جو کہ۔میڈیا کے منہ پر کسی کالک سے کم نہیں ہے یہ چینل شریف فیملی کی زاتیات پر رپورٹنگ کے نام پر پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کا بیانیہ بیان کرتے نہیں تھکتا تھا اور نواز شریف کو نااہل نواز شریف اور نااہل وزیر اعظم لکھتا تھا۔اب اس چینل نے یوٹرن لیکر نوازشریف کو سابق وزیراعظم نواز شریف لکھنا شروع کردیا ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے پالشی گروپ اب بیک فٹ پر جارہا ہے اور ن لیگ مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔
الیکشن میں دھاندلی اس صورت کامیاب ہوتی ہے کہ جب مقبول سیاسی جماعت کو غیرمقبول کردیا جائے عوام کی نظر میں اس کی ساکھ متاثر کردی جائے
جلسے میں سب سے اہم چیز نواز شریف کا خطاب تھا جس میں انہوں نے اپنی کاکردگی بتائی اپنے کام بتائے عوام کیلئے جو منصوبے۔مکمل کئے وہ بتائے انہوں نے انتہائی مختصر مگر پر اثر تقریر کی جبکہ عمران خان کے فلاپ جلسے۔میں چیئرمین تحریک انصاف نے انتہائی طویل تقریر میں کے پی کے میں کوئی قابل۔زکر کاردگی نہیں بتائی بلکہ وہ ذیادہ تر لفاظی کرتے رہے یہاں تک کہ عوام بور ہوکر جلسے سے جانا شروع ہوئی تو کپتان نے اپنی تقریر مجبوراً ختم کی ورنہ شاید ان کا دل نہیں تھا کہ اتنی جلدی تقریر ختم کریں۔جبکہ نواز شریف کی تمام باتیں شرکاء نے ایسے سنیں کہ جیسے اس سے اہم کام اور کوئی نہیں تھا۔نواز شریف نے جہاں۔ملک کو درپیش مسائل پر بات کی وہیں انہوں نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عمران خان فیل ہورہے ہیں اور اس بار تو کچی فیل ہوئے ہیں۔نواز شریف نے جو سب سے اہم بات کی وہ یہ تھی کہ ہمارا مقابلہ نظر نہ آنے والی قوتوں سے ہے جنہیں سب جانتے ہیں۔عمران، زرداری اور آزاد لوگوں کو ووٹ دینے کا مطلب ان قوتوں کو ووٹ دینا ہوگا۔یہ انتہائی اہم بات ہے اور ملک کا تین بار وزیراعظم۔رہنے والے نوازشریف اگر یہ بات کررہے ہیں تو یقیناََ وہ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ایسا کہہ رہے ہوں گے عوام کو ضرور سوچنا ہوگا کہ عمران خان جب تعلیم کی بات کرتے ہیں تو انہوں نے کے پی کے میں کونسا نیا تعلیمی ادارہ بنایا؟ کوئی ایک ایسا کام نہیں کیا جو فخر سے عوام کوبتاسکیں جبکہ پنجاب حکومت کے پاس لائن لگی ہوئی ہے۔اتنے منصوبے ہیں کہ شہباز شریف گنوانا شروع کریں تو کئی ماہ لگ جائیں گے مگر منصوبے ختم۔نہ ہوں گے