اسلام

اسلام آج قابل عمل ہے یانہیں؟ ڈاکٹرعبدالرشید

​اسلام ہرزمانے میں قابل عمل تھا، آج بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا۔اصل سوال جس پر انخصار ہے، وہ یہ ہے کہ کیا کوئی قوم دنیا میں ایسی موجود ہے کہ جو پورے پورے اسلام کو اپنانے کے لئے تیار ہو؟ 

ہماری تاریخ کا آغاز ہی اس چیز سے ہوا تھا کہ عرب کی پوری پوری قوم اس بات کے لئے تیار ہوگئی تھی کہ اپنے پورے معاشرتی، معاشی ،سیاسی اور تمدنی نظام کو اسلام پر قائم کرے۔اپنی انفرادی سیرتوں اور اجتماعی احوال کو اسلام کے مطابق ڈھالے ۔اس نے عہد کیا تھاکہ دنیا میں اسلام کی علمبردار بن کر اٹھے گے، اسی کے لئے جیے گی اسی کے لئے مرے گی۔

جب ایک ایسی قوم پیدا ہوگئی تو دیکھ لیجئے کہ کس طرح وہ دنیا پر ایٹم  بن کر پھٹی ۔اور کس طرح اس کے اثرات آج تک موجود ہیں۔

اگر اس طرح سے کوئی قوم پوری طرح سے اسلام کو اپنائے اور اپنا پورا نظام زندگی اس کے مطابق چلائے اور اسی کے لئے جینے اور مربے کو تیار ہو تو میرا خیال ہے کہ آج دنیا میں اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہے۔

لوگوں کے لئے ناممکن ہے کہ چلتے پھرتے اسلام کو دیکھیِں اور اس کو قبول نہ کریں ۔البتہ اگر آپ زبانی تقریروں اور کتابوں کے ذریعے سے اسلام پھیلانے کی کوشش کرتے رہیں گے تو قیامت تک آپ یہ شغل جاری رکھئے۔دنیا کو اس بات پر قائم کرنا مشکل ہوگا کہ اسلام قابل عمل بھی ہے ۔

بحوالہ 

اسلام عضر حاضر میں از سید ابوالاعلیٰ مودودی 

بشکریہ

اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی

1 Comment

Click here to post a comment