کالم

زرداری صاحب کے لیے سب اچھا نہیں ہے -انس انیس

سابق صدر آصف علی زرداری صاحب اٹھا ماہ کی خود ساختہ جلاوطنی کاٹ کر وطن عزیز پہنچے تو اہلیان کراچی نے ان کا بھرپور استقبال کیا؛ یہ الگ بات ہے کہ گئے گزرے دور میں بھی پیپلز پارٹی کو اہلیان کراچی اور سندھ کے باسی اپنی محبتوں سے نواز رہے ہیں جب کہ بقیہ تینوں صوبوں سے پیپلز پارٹی؛ ایک تھی پیپلزپارٹی کی مصداق بن چکی؛ سندھ کی عوام کو جوابا پیپلزپارٹی کی طرف سے ابلتے گٹر ٹوٹی پھوٹی سڑکیں دی گئی؛ نالوں کا پانی سڑکوں پر بہہ رہا ہے خصوصاً بارش کے دنوں میں کراچی پیرس کا منظر پیش کر رہا ہوتا ہے؛ ٹارگٹ کلنگ؛ فتنہ و فساد؛ غربت بیروزگاری لوڈشیڈنگ مہنگائی کے تحفے دیے گئے ؛ گورنر ہاؤس سندھ میں زرداری صاحب کی چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف سے اونچ نیچ ہو گئ اس کے بعد زرداری صاحب کے اینٹ سے اینٹ بجا نے کے بیان نے مزید جلتی پر تیل چھڑک دیا؛ جس کی وجہ سے میاں صاحب نے طے شدہ ملاقات منسوخ کرنے میں ہی عافیت جانی اس بیان نے زرداری صاحب کی پالیسی کو سخت نقصان پہنچایا حتی کہ ان کے گھیرا تنگ کرنے کی خبریں تواتر سے آتی رہیں؛ پارٹی کے سنجیدہ رہنماؤں اور زرداری کے دوستوں نے ان کو بیرون ملک جانے کا مشورہ دیا؛ چنانچہ زرداری صاحب بوریا بسترا سمیٹ کر کان لپیٹ کر دبئی کی طرف عازم سفر ہوئے اور پورے اٹھارہ ماہ بعد بالآخر انہوں نے وطن عزیز کی طرف واپسی کا فیصلہ کیا اور کراچی کی دھرتی پر قدم رکھا؛ ان اٹھارہ ماہ میں پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو نے پارٹی کی منتشر قوتوں کو یکجا کیا مایوس نظریاتی کارکنوں میں نئ روح پھونکی؛ مفاہمانہ پالیسی کو ختم کرنے کی سعی کی تخت لاہور کے خلاف اور پنجاب کی سطح پر پارٹی کارکنوں کو متحد کیا یہی وجہ ہے کہ مایوس نظریاتی کارکنوں کو بلاول کی صورت میں نیا مسیحا نظر آنے لگا امید کی کرن روشن ہونے لگی کراچی میں اسی سالہ بزرگ قائم علی شاہ کو ریٹائر کر دیا گیا اور ان کی جگہ نوجوان وزیر اعلی مراد علی شاہ کو وزارت کے لیے منتخب کیا گیا جس کی وجہ سے کراچی سے کچھ کوڑا کرکٹ صاف ہونے لگا؛ نئے وزیر اعلی کچھ کرنے کے درپے نظر آ رہے تھے ان کے اندر وزیر اعلی پنجاب والا جوش و خروش بھی نظر آ رہا تھا مگر برا ہو پارٹی کے کرپٹ رہنماؤں کا جن کو کرپشن؛ غیر قانونی کاموں کی اس قدر چاٹ لگ چکی کہ اب انہیں روکنے ٹوٹنے والا کوئی نہیں یوں نظر آ رہا ہے کہ وزیر اعلی کی حیثیت بھی برائے نام کی سی ہے جو ان کے تمام کالے کرتوتوں کے سامنے بےبس نظر آ رہے ہیں ابھی یہ قصہ ختم نہیں ہوا کہ سندھ حکومت نے حساس مذہبی معاملات میں بھی دخل اندازی شروع کر دی جو رہی سہی کسر کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے؛ زرداری صاحب مفاہمت پر یقین رکھتے ہیں جبکہ اکثر پارٹی رہنما اور کارکنان یہ سمجھتے ہیں کہ مفاہمتی پالیسی ان کی پارٹی کے لیے زہر قاتل کی حیثیت رکھتی ہے؛ اسی مفاہمانہ پالیسی نے پارٹی کو تینوں صوبوں سے آؤٹ کر دیا اور اس کی جڑوں کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا؛ جبکہ ان کے فرزند لچک دار پالیسی پر یقین رکھتے ہیں ان کے بس میں ہوتا تو زرداری صاحب کو باہر کھڑا کرتے لیکن زرداری صاحب کی پارٹی پر مضبوط دسترس؛اور بینظیر کے تمام اثاثوں پر قبضہ ان کے سدراہ بنا ہوا ہے؛ یہی وجہ ہے بلاول کی دال نہیں گھل رہی ان کے جوشیلے بیانات؛ نعرے محض ہوا میں تحیل ہو رہے ہیں اگر بلاول نے کہی والد صاحب کی مخالفت مول بھی لی تو ان کو کس بہانے منظر سے غائب کر کے بیرون ملک روانہ کر دیا جائے گا؛ پیپلزپارٹی فی الوقت ایک بڑے بحران سے گزر رہی ہے ماڈل ایان کیس ڈاکٹر عاصم کا کیس اور اس طرح کے کئی کیسیس زرداری صاحب کے درد سر بنے ہوئے ہیں؛ عزیز بلوچ نے الگ انکشاف کی تجوری کھول دی ہے جو اگر منظر عام پر آ چکی تو پورا بھونچال بپا کر دے گی ان کیسوں کو وفاقی وزیر داخلہ کسی نہ کسی طرح منطقی انجام تک پہچانا چاہتے ہیں جو کسی صورت پیپلزپارٹی اور نون لیگ کا ایک محدود حلقہ بشمول وزیر اعظم کے نہیں چاہتا؛ یہی وجہ ہے کہ زرداری صاحب جس دن آ رہے تھے اسی دن ان کے قریبی ساتھی انور مجید کو غیر قانونی اسلحہ سمیت دھر لیا گیا؛ یہ چھاپہ ظاہر ہے کسی ٹھوس معلومات کی بنا پر مارا گیا یہ کچھ دن پہلے یا موخر بھی ہو سکتا تھا لیکن عید زرداری صاحب کی آمد پر چھاپہ مارنا اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ زرداری صاحب کے لیے سب اچھا نہیں ہے؛ اس وجہ سے استقبال پر آنے والے کارکنوں سے زرداری صاحب نے انتہائی دانشمندانہ اور ہوش مندانہ بصیرت افروز خطاب کیا جس میں جذباتیت نہ ہونے کے برابر تھی؛ یہ تمام حقائق زرداری صاحب کو مفاہمت کی طرف لے جانے پر مجبور کر رہے ہیں تاکہ کچھ لو اور کچھ کی پالیسی پر عمل کیا جائے؛ یہ چھاپے زرداری صاحب کو پیغام دے رہے ہیں کہ ان کے لیے سب اچھا نہیں ہے لہذا وہ اپنے کپڑوں سے باہر نہ نکلیں؛