بلاگ

حج سبسڈی فیصلے کا پوسٹ مارٹم-ثاقب ملک

اس پورے ایشو میں دو ایسے سوالات ہیں جو ذہن میں آتے ہیں:

1. کیا ایک مسلمان ملک کی حکومت کا کسی مسلمان کی عبادات میں کوئی رول ہوتا ہے یا نہیں؟

2. کیا سبسڈی ختم کرنے سے قبل حکومت نے ہر ممکن کوشش کی تھی کہ سبسڈی کے ساتھ یا اسکے بغیر حج عام عوام کے لئے افورڈ ایبل ہی رہے؟

(1)پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ قرآن میں بطور خاص حج کے لئے کسی مسلمان حکمران کے واسطے کوئی لازمی امر موجود نہیں ہے. نماز، زکواۃ اور نیکی کو فروغ دینے کا حکم واضح طور پر دیا گیا ہے. یعنی حج پر قسم کی مالی رعایت دینا حکومت پر فرض نہیں. اسی طرح آئین پاکستان مسلمانوں اور ہر قسم کے مذہب کے ماننے والوں کو اپنے مذاہب کی پیروی کرنے اور اس میں آسانی فراہم کرنے کی ضمانت دیتا ہے، مگر کسی خاص عبادت کے لئے مالی امداد کا تصور موجود نہیں.

لیکن تھوڑا غور کیا جائے تو یقیناً یہ کہا جا سکتا ہے کہ حج ایک عبادت ہے اور اگر حکومت وقت اس میں آسانی پیدا کرتی ہے تو یہ نیکی کا فروغ ہوگا. اس عمل سے قرآن کے حکم کی بالواسطہ تعمیل ہوگی،اور اللہ کے حکم کی پیروی ہوگی. آئین پاکستان بھی عبادات میں سہولت پیدا کرنے کی بات کرتا ہے.

یوں بھی ہر امیر غریب، کالے گورے کا حج میں اکٹھے ہونا تو اس عبادت کی اہم ترین کڑی ہے.

پہلے سوال کے جواب سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ گو حکومت پر براہ راست فرض نہیں کہ وہ حج پر سبسڈی دے مگر “ان ڈائریکٹ” یہ اسکی ذمہ داری ہے.

( 2) اب جہاں تک حقائق کی بات ہے تو نیچے دیئے گئے انفو گرافک میں اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں سبسڈی کے ساتھ بھی حج ہمارے عوام کی اوسطاً سالانہ آمدن سے دوگنا مہنگا تھا. سبسڈی ختم کرنے کے بعد اب حج تین ساڑھےگنا مہنگا ہوچکا ہے. سادہ سا سوال ہے کہ حکومت سے ہر معاملے میں قیمتیں کم کرنے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے تو حج سے کیا عداوت ہے؟

دیگر مسلمان ممالک پر نظر دوڑائیں تو ملائشیا اور انڈونیشیا میں حج تمام مسلمان ممالک میں سب سے سستا ہے. انڈونیشیا میں ہر فرد سے دو ہزار ڈالر لیکر ایک فنڈ میں جمع کرا دیا جاتا ہے جس سے مستحق افراد کو سبسڈی دے کر حج کرایا جاتا ہے. گو انہیں بسا اوقات بیس برس تک انتظار کرنا پڑتا ہے. ملائشیا کی اوسط آمدن انکے حج اخراجات سے زیادہ ہے یوں انکے لئے مہنگا نہیں. ترکی میں تو ہر 65 سال یا اس سے زائد العمر فرد کے لئے حج مفت ہے. بنگلہ دیش میں حج سب سے زیادہ اخراجات کا تقاضا کرتا ہے.

مختصر یہ کہ حکومت کا کام ہے کہ عوام کے لئے سہولت پیدا کرے اور کم سے کم اخراجات میں حج کا بندوبست کرے نا کہ منہ پھاڑ کر صاحب استطاعت کا بہانہ تاک تاک کر عوام کے منہ پر تھوپتی پھرے. ہر قسم کے اخراجات کم کرنا تو تحریک انصاف حکومت کے بنیادی منشور کا اہم ترین حصہ ہے. حج پر کیوں کسی قسم کی کوشش نہیں کی گئی؟ غریب افراد کو سبسڈی دینا گو مذہبی فریضہ نہیں مگر، بنیادی سہولیات، عبادات اور تفریحات کو صرف صاحب ثروت اور امیر نہیں مگر غریب غرباء کی پہنچ میں رکھنا ایک انصاف پسند معاشرے کا جزو ہوتا ہے.

اللہ نے تو چھوٹ دی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ زندہ انسان لوگوں کے درمیان رہتے ہیں اگر صرف پیسے والوں کے ہی “بلاوے” آنے ہیں تو یہ عام لوگوں میں عدم مساوات کو مہمیز دینے، دین کے لئے اضطراب اور بے چینی اور معاشرے میں چھلانگیں مارتی ناانصافی کو مزید فروغ دے گی.

بالفرض اگر ایسے فیصلے مجبوری بھی ہوں جیسا کہ موجودہ حالات مشکل ہیں، تو ایک حکمت سے آہستہ آہستہ بوجھ بڑھایا جاتا ہے تاکہ عوام کو کم سے کم تکلیف پہنچے.