میرے مطابق

تسبیح اور مسواک والے بابا کا حج – رعایت اللہ فاروقی

جس زمانے میں اسلام آباد کے آئی 10 سیکٹر میں قیام رہا جمعہ اکثر مولانا عبدالخالق صاحب والی جامع مسجد سلمان فارسی میں پڑھا کرتا تھا. اس مسجد کے گیٹ پر ایک بابا جی تسبیح اور مسواک فروخت کیا کرتے تھے. جو بھی ان سے تسبیح یا مسواک خریدتا وہ اس سے ایک درخواست ضرور کیا کرتے

“میرے لئے دعاء کر دیجئے کہ اللہ حج کرادے”

اکثر نمازی ان کی اس درخواست پر عمل کرتے جبکہ بعض بے تکلف قسم کے یہ بھی کہہ جاتے

“بابا جی ! حج تسبیح اور مسواک بیچنے سے نہیں ہوسکتا، اس کے لئے بہت پیسے چاہئے ہوتے ہیں. آپ کے پاس زاد رہ نہیں ہے تو آپ پر تو حج فرض ہی نہیں ہے، ٹینشن کیسی ؟”

جانتے ہیں بابا جی اس کا کیا جواب دیتے ؟ وہ فرماتے

“بات صرف فرض کی ہوتی تو کیا غم تھا، بات تو اس عشق کی ہے جو اللہ کے گھر اور اس کے محبوب کے روضے سے لپٹنے کی آرزو جگائے بیٹھا ہے. میرے پاس پیسے نہیں ہیں تو کیا ہوا، اللہ تو ہے نا، وہ چاہے تو اسباب پیدا کر سکتا ہے اور اسی لئے میں آپ سے دعاء کا کہہ رہا ہوں”

ایک روز یہی بابا جی اپنی تسبیح اور مسواکوں والا بڑا سا تھیلا کمر پر لادے آئی 10 مرکز والی سڑک پر چلڈرن پارک کے قریب سے گزر رہے تھے کہ ایک کار انہیں کراس کرکے کچھ آگے گئی اور رک گئی. بابا جی پیچھے سے سر جھکائے چلتے اس کار کے قریب سے گزرنے لگے تو کار سے آواز آئی

“سنئے !”

بابا جی نے رک کر کار میں جھانکا تو ڈرائیونگ سیٹ پر ایک ماڈرن سے صاحب اور پسنجر سیٹ پر ان سے بھی زیادہ ماڈرن بیگم صاحبہ کو پایا. صاحب نے پوچھا

“بابا جی ! اس تھیلے میں کیا ہے ؟”

بابا جی نے بتایا کہ تسبیح اور مسواکیں ہیں تو صاحب نے پوچھا

“یہ سب کتنے کی ہوں گی ؟”

بابا جی نے اندازا ایک محتاط قیمت بتائی تو صاحب بولے

“بابا جی ! یہ سب پچھلی سیٹ پر رکھ دیجئے”

اور یہ کہتے ہوئے صاحب نے پرس نکال کر بابا جی کی بتائی ہوئی قیمت انہیں ادا کردی. بابا جی کا سارا مال ایک ہی گاہک نے خریدا تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ رہا. وہ اس خوشی میں پہلی بار اپنے گاہک سے یہ کہنا بھول گئے کہ

“میرے لئے دعاء کر دیجئے کہ اللہ حج کرادے”

ہمارا خدا بہت ہی عجیب ہے، وہ اکثر اس لمحے ظہور کرتا ہے جب ہم بالکل مایوس ہونے کے قریب پہنچ جائیں یا اس لمحے جب اسے بھول جائیں. قیمت وصول کرکے بابا جی دو قدم ہی چلے تھے کہ کار کا ہارن بجا. انہوں نے پلٹ کر صاحب کی جانب دیکھا تو صاحب نے وہ سوال پوچھا جس نے بابا جی کی سانسیں بے ترتیب کر ڈالیں

“بابا جی ! آپ نے حج کیا ہے ؟”

جواب بابا جی کی زبان نہیں آنکھوں کی جھڑی نے دیا. صاحب نے ڈیش بورڈ سے چیک بک نکالی اور ایک تگڑا چیک کاٹ کر بابا جی کو دیتے ہوئے کہا

“بابا جی ! آپ حج پر جائیں”

بابا جی ابھی صاحب کو دعائیں دینے سے ہی فارغ نہ ہوئے تھے کہ پہلی بار پسنجر سیٹ پر بیٹھی بیگم صاحبہ گویا ہویں

“بابا جی ! آپ کی بیگم زندہ ہیں ؟”

بابا جی نے اثبات میں سر ہلایا تو بیگم صاحبہ نے اپنے میاں کو دیکھتے ہوئے کہا

“ایک اور کاٹ دو”

اور صاحب نے اتنی ہی رقم کا ایک اور چیک کاٹ دیا. بابا جی کا عشق اسی سال انہیں اللہ اور اس کے رسول کے دیار لے گیا اور اس لئے لے گیا کہ باباجی کو “استطاعت” سے کوئی غرض نہ تھی. حج فرض ضرور استطاعت والوں پر ہے مگر یہ تو خدا کے مجنونوں کی عبادت ہے اور ایسے مجنون اکثر غریب ہی ہوتے ہیں. استطاعت نہ ہونا انہیں حج سے بے فکر نہیں کر دیتا بلکہ ان کی بیقراری بڑھا دیتا ہے. استطاعت نہ ہونے کا مطلب حج سے بے فکری نہیں بلکہ یہ ہے کہ اگر آپ اس حالت میں فوت ہوگئے تو آپ سے حشر میں حج کی باز پرس نہیں ہوگی، مگر یہ بات قوم یوتھ کے بنی اسرائیلی مولوی کیا جانیں، یہ تو عشق کی باتیں ہیں جو خدا کے مجنوں ہی جانتے اور سمجھتے ہیں !

رعایت اللہ فاروقی صاحب