ملکی خبریں

پاکستان میں مہنگائی کی شرح ساڑھے 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

پاکستان میں مہنگائی میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور اب ادارہ شماریات کے اعداد شمار نے بھی گواہی دے دی ہے کہ مہنگائی ساڑھے چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے گوکہ تحریک انصاف کے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا دعویٰ ہے کہ مہنگائی میں زیرو فیصد اضافہ ہوا ہے

تاہم ادارہ شماریات کچھ اور ہی کہانی سنارہاہے ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق مطابق ملک میں ایک سال کے دوران مہنگائی کی شرح 7.19 فی صد تک پہنچ گئی جس کی وجہ سے چینی، دال، پھل اور سبزی سمیت سب اشیاء مہنگی ہوئیں۔ دسمبر کے مقابلے میں جنوری میں مہنگائی مجموعی طور پر ایک فیصد بڑھ گئی۔

جنوری میں بجلی کا ٹیرف ساڑھے 8 فیصد بڑھ گیا جب کہ ادویات کی قیمتوں میں 15 فیصد ہوا۔ گھروں کے کرائے میں 2.38 فیصد اضافہ ہوا، ٹماٹر 28 فیصد، چینی 6 جبکہ پھل 3 فیصد مہنگے ہوگئے۔ دالوں اور خشک میوہ جات کی قیمتوں میں بھی 2،2 فیصد اضافہ ہوا۔

سالانہ بنیاد پر گیس کی قیمت میں سب سے زیادہ 85 فیصد اضافہ ہوا اور 50 فیصد اضافے کے ساتھ بسوں کے کرایوں میں بھی اضافہ ہوگیا۔

صحت کی سہولیات 8.40 فیصد مہنگی ہوئیں، سگریٹ 20 فیصد، ڈیزل 19، ایل پی جی گھریلو سلنڈر 15 جب کہ چائے کی پتی 17 فیصد مہنگی ہوئی۔ کاسمیٹکس، پانی اور تعمیراتی سامان 13 فیصد اور گاڑیاں 14 فیصد مہنگی ہوئیں۔

مئی دوہزاراٹھارہ میں ن لیگ مہنگائی کی شرح 4 فیصد پر چھوڑ کر گئی۔ نگران حکومت نے اگست 2018 تک پانچ اعشاریہ آٹھ تک پہنچایا جب کہ تحریک انصاف کی حکومت نے جنوری 2019 میں اسے 7.2 فیصد تک پہنچا دیا جو اگست 2014 کے بعد مہنگائی کی بلند ترین شرح ہے۔