تجزیہ

تحریک انصاف کا ایک اور یوٹرن

تحریک انصاف نے یوٹرن لینے کی روایت کو ایک بار پھر برقرار رکھا ہے گوکہ وزیراعظم عمران خان کہہ چکے ہیں کہ یوٹرن لینا عظیم لیڈر کی نشانی ہے

تاہم پھر بھی ماہرین سیاسیات سمجھتے تھے کہ پارلیمانی امور میں شاید تحریک انصاف یوٹرن نہیں لے گی

مگر ماہرین سیاسیات کا ایسا سوچنا تحریک انصاف کو راس نہ آیا اور پی ٹی آئی نے ایک بار پھر قومی اسمبلی جیسے اہم فورم سے متعلق یوٹرن لے لیا ہے۔

معاملہ دراصل یہ ہوا ہے کہ وفاقی وزراء کی الزام تراشیوں اور اپوزیشن کے جوابی وار سے ایوان کا چلنا مشکل ہوچلا تھا جس پر قومی اسمبلی کے اسپیکر اسدقیصر جن کا تعلق تحریک انصاف سے ہے اور عمران خان کے قریبی سمجھتے جاتے ہیں انہوں نےقومی اسمبلی کا ماحول پارلیمانی تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنے کے لیے قائم ’’کنڈکٹ‘‘ کمیٹی قائم کی۔
بتایا گیا کہ وزیراعظم عمران خان اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے لے کر آصف علی زرداری تک اس کمیٹی کے رکن ہیں۔یہ کمیٹی اسد قیصر نے اپوزیشن اور حکومتی ارکان سے مشاورت کے بعد تشکیل دی تھی
تاہم تحریک انصاف کے رہنماؤں نے ایسے پارلیمانی فورم کو رد کر دیا جس میں براہ راست وزیراعظم عمران خان کو اپوزیشن قیادت کے ساتھ بیٹھنا پڑتا۔
جس کے بعد اب ترجمان قومی اسمبلی کی جانب سے یہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے کہ “کنڈکٹ” کمیٹی کے ممبرز پارلیمانی لیڈرز کی بجائے ان کے نامزد کردہ ارکان ہو سکتے ہیں۔
پوچھنے والا پوچھ سکتا ہے کہ اگر اسد قیصر نے مشاورت سے فیصلہ کرہی لیا تھا تو عمران خان ایسے بھی کیا دودھ کے دھلے اور فرشتے ہیں کہ شہباز شریف اور آصف زرداری کیساتھ بیٹھنے سے انہیں کوئی گہن لگ جانا تھا جو پی ٹی آئی سیاسی لیڈرشپ نہ مانی مگر تحریک انصاف شاید آئندہ کیلئے یوٹرن کو انتخابی نشان بنانا چاہتی اس لئے پریکٹس ابھی سے جاری ہے