بلاگ

چائے والے کے بعد اب کافی والا – مسعود ابدالی

ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی بہت فخر سے کہتے ہیں کہ وہ اپنا پیٹ پالنے کیلئے چائے بناکر بیچتے تھے۔

اب انھیں کے نقشِ قدم پر ایک کافی فروش نے 2020 میں امریکی صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا اشارہ کیا ہے۔

فرق صرف اتنا ہے کہ مودی جی ایک بوسیدہ ٹھیلے یا کھوکھے پر چائے بیچتے تھے جبکہ 65 سالہ ہاورڈ شلٹز (Howard Schultz) مشہور زمانہ اسٹاربکس (Starbucks)کافی کے سربراہ تھے۔ ہارورڈ شلٹز امریکہ کے ان ماہرینِ تجارت میں ہیں جو ادارے سے اپنی وفاداری کے اظہار کیلئے بلا معاوضہ کام کرتے ہیں۔ چونکہ بلاتنخواہ ملازمت امریکی قانون کے تحت بیگاری شمار ہوتی ہے اسلئے شلٹز صاحب کی تنخواہ ایک ڈالر ماہانہ تھی۔ 


نیو یارک کے ایک یہودی گھرانے میں جنم لینے والے ہاورڈ شلٹز نے پیشہ وارانہ زندگی کاآغاز ہی کافی سے کیا۔ وہ پہلےایک سوئستانی کمنپی Hammrplastکے سیلز مین تھے۔یہ کمپنی کافی مشین بناتی ہے۔ Starbucksبھی کافی بنانے کیلئےاسی کمپنی کی مشینیں استعمال کرتی تھی چنانچہ شلٹز صاحب کا اسٹار بکس سے رابطہ ہوا اور وہ دامنِ اسٹار بکس سے وابستہ ہوگئے بلکہ اسی کے ہورہے۔ وہ گزشتہ سال جون میں ریٹائرمنٹ تک اسٹاربکس کی نوکری کرتے رہے۔


مسٹر شلٹز ایک مزدور دوست آجر ہیں ۔ انھوں نے اسٹرابکس کے تمام ملازمین کو صحت و تعلیم کی سہولت مفت فراہم کی اور ان مراعات کا دائرہ دہاڑی داروں تک پھیلا ہوا تھا۔ اسٹاربکس اپنے ملازمین کو اپنے مسابقت کاروں سے زیادہ تنخواہ دیتا ہے اور ادارہ عمر رسیدہ لوگوں کو ترجیحی بنیادوں پر ملازمت کے مواقع فراہم کرتا ہے۔


ہارورڈ شلٹز کا کہنا ہے کہا گر انھوں نے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا تو وہ ڈیموکریٹ یا ریپبلکن کے بجائے آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اتریں گے۔ انکے اس اعلان سے ڈیموکریٹک پارٹی ناخوش ہے اسلئے کہ اپنے لبرل سیاسی منشور اور مزدور نواز روئے کی بنا پر وہ ڈیموکریٹس کے ووٹ کاٹیں گے۔