بلاگ

امریکہ اور طالبان میں دلچسپ مکالمے کااحوال،مسعودابدالی

امریکی وفد کے سربراہ زلمے خلیل زاد مدرسے کے پڑھے ہوئے لوگوں کا ذکر بہت حقارت سے کرتے ہیں۔

ہمارے یہاں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو مدارس کو جہالت کی اکیڈمی سمجھتے ہیں۔

چنانچہ جب زلمے خلیل زاد ملاوں سے مذاکرات کیلئے قطر آنے لگے تو موصوف نے اپنے قریبی ساتھیوں کو بتایا کہ انھیں سب سے زیادہ فکر اس بات کی ہے کہ ہم اپنا موقف ان اجڈ مولویوں کا سمجھائیں گے کیسے۔ تاہم اب امریکیوں کا کہنا ہے کہ ملا ہماری توقع سے کہیں زیادہ معاملہ فہم اور سمجھدار تو ہیں ہی وہ اپنا موقف جس دلنشین اور مدلل انداز میں پیش کرتے ہیں وہ سننے سے تعلق رکھتا ہے۔ 


انکا کہنا ہے کہ مولوی نہ تو ہم سے مرعوب ہیں اور ہم پر رعب ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم وہ غیر محسوس انداز میں ہمیں بار بار یہ تاثر دے رہے ہیں کہ افغانستان سے روانگی امریکہ کے اپنے مفاد میں ہے۔

اس سلسلے میں دو نکات پر دلچسپ نوک جھونک:
امریکہ:اب ہم آپکے دوست ہیں اور کچھ عرصے کیلئے افغانستان میں ایک دو اڈے رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم معاوضہ دینے کو تیار ہیں


طالبان: افغا ن دوستوں سے معاوضہ نہیں لیتے۔ آپ یہاں اڈے رکھیں اور ہم بھی اپنا ایک اڈہ امریکہ میں قائم کرلیتے ہیں ۔ اب تو ہم دوست ہیں نا!!


امریکہ: اشرف غنی کی حکومت کو افغان عوام نے منتخب کیا ہے۔ اسے آپ قانونی حکومت کیوں نہیں مانتے؟


طالبان؛ہماری تجویز ہے کہ گزشتہ انتخابات میں شکست کھانے والی ہیلری کلنٹن کو امریکہ کا چیف ایگزیکیٹو تسلیم کرکے انھیں صدر ٹرمپ کیساتھ شریک ِ اقتدار کردیا جائے اسطرح آپکے یہاں بھی ایک قانونی حکومت قائم ہوجائیگی۔