مدارس اور عصر حاضر کے چیلنجز — حافظ عطاءاللہ شفیق


15036521_1813596472218483_4649491105063706453_n
اسلامی معاشرے کے لیے قرآن و سنت کی تعلیم بہت ضروری ہے. یہی بات ہے کہ دینی مدارس نے ماضی بعید ہی نہیں بلکہ ماضی قریب اور حال میں اپنی متعدد ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے نہایت گراں قدر خدمات انجام دی ہیں اور انہیں خدمات کو دیکھ کر علامہ اقبال، علامہ ظفر احمد عثمانی وغیرہ یہ الفاظ کہا کرتے تھے کہ ان مدرسوں کو اسی حالت میں رہنے دو. غریب مسلمانوں کے بچوں کو انہی مکتبوں میں پڑھنے دو. اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا.؟ جو کچھ ہوگا میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں. مدارس کی خدمات اور ایثار و قربانی کو ہر دور کے لوگوں نے تسلیم کیاہے.
مدارس نے علوم نبوت کے تحفظ ان کی تعلیم و اشاعت اور مغربی افکاری و تمدن کا جواب دینے میں جو بہترین خدمات انجام دی ہیں ان کا اعتراف نہ کرنا اور انہیں خراج تحسین پیش نہ کرنا بخل ہوگا. لیکن ایک زندہ قوم کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی کوشش اور معرکے کا کھلے دل سے جائزہ لیں. کامیابیوں پر اللہ کا شکر ادا کریں . کوتاہیوں اور خامیوں کا تعین کرے اور اصلاح کی فکر کرے..
دینی مدارس کے حوالے سے زیر بحث مسئلہ انفرادی طور پر ہم میں سے ہر ایک کو بے حد عزیز ہے. قومی اور ملی سطح پر اس کی بے پناہ اہمیت ہے. عالمی تناظر میں بڑے سوچے سمجھے طریقے سے اسے ہدف بنایا جارہا ہے.اس پر سوچ بچار اور مستقبل کی راہیں تلاش کرنا ہماری ذمہ داری ہے. یہ ہمارا مشترکہ مسئلہ ہے.
دوسروں کی الزام تراشی اور مخالفت کے محض رد عمل ہی پر اپنی ساری صلاحیت کو جھونکنے کی بجائے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خود اپنا جائزہ لیں اور سنجیدگی سے غور کریں کہ جن مقاصد کے لئے امت کے عظیم خادموں اور محسنوں نے دینی تعلیم کے پودے کی آبیاری کے لئے ماضی میں یہ ساری کوششیں کیں اور آج بھی کررہے ہیں. ان مقاصد کے حصول کے لئے آج کے حالات میں کیا کردار کیا جاسکتا ہے..
اس وقت ہمارے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اسلامی ریاست،اسلامی معاشرے، اسلامی تہذیب اور امت مسلمہ کے لئے معیاری اور مثالی نظام تعلیم کے خدوخال کو نمایاں کیا جائے اور اسے بہ تمام و کمال روبہ عمل لایا جائے. ایک ایسا نظام تعلیم جو دین اسلام کے تابع ہو اور زندگی کے ساری ضرورتوں کو پورا کرنے اور معاشرے کی ہر نوع کی احتیاج کے لیے موزوں افراد کا تیار کرنے کا کام انجام دے سکے.
یہ چیلنج ہمارے اہداف، ہماری منزل اور ہمارے زادہ راہ سے متعلق ہے. جس سے کسی بھی صاحب ایمان ، ذی علم اور ذی شعور مسلمان کے لئے صرف نظر ممکن نہیں.
ہمیں ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو دین کے فہم و ادراک کے ساتھ ساتھ وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ان مسائل و معاملات کا درست جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتی ہو.
ان میں خطابت کا شعبہ ہو، معیشت کا ہو یا سائنس، ادب، فوج، سیاسیات، قانون، ٹیکنالوجی کا میدان ہو. ہر شعبے میں دین اسلام کے تقاضوں کے مطابق اور امت مسلمہ کے خوابوں کی تعمیر والے ایسے ایسے ماہرین اور قائد پیدا ہوں جو ایک طرف اپنے فن میں پوری استعداد رکھتے ہوں تو دوسری ان کا ایمان، فہم دین، اپنے علم اور اپنے شعبے کو مقصد حیات سے مربوط کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں.
دینی مدارس کو نقصان پہنچانے، غلط رنگ میں پیش کرنے اور نظام کار کو کمزور بنانے کے لئے اندرونی اور بیرونی سطح پر جو کوششیں ہورہی ہیں انکا علاج محض جوابی تقریریں کرنا نہیں ہیں نہ اس دو طرفہ حملے کے جواب یہ ہے کہ آنکھیں بند کر کے اپنی کمزوریوں کو بھی دانش اور بصیرت کا پرتو قرار دیا جائے.
بکلہ اس مسئلے کا علاج یہ ہے کہ دینی نظام تعلیم کی خوبیوں، خامیوں اور اصلاح طلب پہلوئوں کا پوری بالغ نظری سے تجزیہ کرکے اصلاح احوال کی سنجیدہ کوششیں کی جائیں.
میں امید رکھتا ہوں کہ ان امور پر آپ جیسے ارباب علم و دانش کی گراں قدر آرء اور تجاویز دینی مدارس کے مقاصد مستقل اور پہلے سے زیادہ موثر کردار کے لئے یقینا مفید اور بارآور ثابت ہونگے.
#


You may also like...

1 Response

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *