معاشرے میں عورت کا کردار—سلیم صدیقی پورنوی


15151405_343911065967592_769218472_n

اقوامِ عالم کا تاریخی نقطۂ نظر سے مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت آفتابِ نصف النہار کی طرح روشن ہوجاتی ہے کہ ابتدائے آفرینش سے ہی عورت کا کردار معاشرے کیلیے انتہائی
اہم رہا ہےـ
حضرت ابراہیم کی ماں سے لے کر حضرت عیسی اور نبی پاک صلی اللہ علیہ کی والدہ ماجدہ تک عورت ذات اپنے کردار میں مجلّی و مصفّٰی نظر آتی ہےـ
مگر یہ بھی مسلَّم الثبوت ہے کہ عورت کو کسی طبقے نے قدر کی نظر سے نہیں دیکھا، اور اس کے کردار کو کسی دھرم نے نہیں سراہاـ
ہر طبقے میں عورت کو حقارت سے دیکھا گیا ، ہر سماج میں ذاتِ عورت کو سامان ِ تضحیک و اسبابِ عیش و عشرت سمجھا گیا، اسے جو مقام ملنا تھا وہ کبھی نہیں دیاگیا بلکہ اس کے بدلے میں ہر جگہ اسے ذلیل و رسوا کیا گیاـ
دنیائے فلسفے کا امام افلاطون بھی عورت کے تئیں غلط فہمی سے باہر نہ نکل سکا
الغرض… کسی سوسائٹی نے عورتوں کو مکمل حقوق نہیں دییے، کسی سوسائٹی میں انہیں برابری کے درجے سے کبھی نوازا نہیں گیا، حتیٰ کہ انہیں آزادی کے ساتھ جینے کی بھی اجازت نہیں دی گئی ـ
اہل ہنود جنہیں اپنے تمدن پر بڑا ناز ہے ان کی تاریخ اٹھا کر دیکھیے تو حیرت ہوگی کہ ان کے یہاں عورت ذات کو کس درجہ منحوس سمجھا جاتا تھا ـ
خود ہندو مؤرخین لکھتے ہیں کہ ہندو لڑکی کی آج شادی ہوئی اور اتفاق سے آج ہی اس کا شوہر مرگیا تو ہندو سماج اس عورت کو منحوس کہ کر شوہر کی چتا پر جلاکر بھسم کردیتاـ
اور یہ بھی ہندو دھرم ہی کی تاریخ ہے کہ اگر کسی گھر میں لڑکی پیدا ہوجاتی تو سماج والے اس گھر والے کا جینا دوبھر کردیتے ، انہیں بدبخت کہتے ـ بالآخر گھر والے اس لڑکی کو کسی مندر میں ڈال آتے،اب اس کا گزارا مندر کے دان پرساد پر ہوتا ـ اور جب وہ جوان ہوجاتی اسے ناچنے گانے اور عصمت فروشی کیلیے کسی کوٹھے پر بھیج دیتے جب تک جوانی رہتی کوٹھے پر گزارا ہوتا اور جب اس کے ناچنے گانے کی عمر ختم ہوجاتی تو اسے بھیک کا کٹورا پکڑا دیا جاتا
چنانچہ !!
وہ بھیک مانگ مانگ کر اپنی زندگی بسر کرتی اور اسی حالت میں دنیا سے چلی بھی جاتی مگر اسے بہو بنا کر سسرال نہیں بھیجا جاتا تھا ”
یعنی اس لڑکی کا دنیا میں پیدا ہونا اس کا اپنا جرم تھا ،لہٰذا ہندو سماج اس کی سزا یہ طئے کرتا تھا کہ وہ دربدری کی زندگی کاٹےـ
یہ حال ہے اس قوم کا جو اپنے آپ کو دنیا کی سب سے متمدن قوم کہتی ہے ـ
بہر کیف……ہر جگہ عورت کی حیثیت غلامانہ رہی، اسے اپنی مرضی کی زندگی گزارنا میسر نہ تھی ـ
آج سے تین سو سال پہلے پوری دنیائے عیسائیت کے اہل علم و دانش پادریوں کو یوروپ میں جمع ہوکر عورت کے بارے میں غور و فکر کی گئی تھی جس میں یہ فیصلہ سنایا گیا تھا کہ “عورت ایک ناپاک حیوان ہے جو شیطان کا جال ہے اسی کی ذریعے سے فحاشی و عیاشی پھیلائی جاتی ہے، اس لیے عورت کی منھ پر پٹی باندھ دی جائے تاکہ وہ مردوں سے بات تک نہ کر سکے” ـ
اور تو اور دنیا کے جانے مانے محقق شکسپئیر نے بھی لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ عورت سے دور رہا جائے ـ
یعنی ہر سماج نے عورت ذات کو ضعیف الفطرت ناقص العقل فحش کی جڑ ہونے کا الزم لگایا ـ.ــــ.ـ
مگر تاریخ کو دوسری جہت سے وہاں کھڑے ہوکر دیکھیں جہاں سے اسلام کی تعلیم اور عورتوں کے متعلق اسلام کا نقطۂ نظر صحیح تصویر کے ساتھ دیکھ سکیں گے
تو عورت ذات انتہائی مقدس نظر آتی ہے اس کا کردار انتہائی محترم دکھائی دیتا ہے ـ
یہ عورت کا ہی کردار اور دوڑ دھوپ ہے کہ اسلام نے قیامت کیلیے صفا مروہ کی دوڑ دھوپ کو حج کا رکن قرار دیا ـ جس سے قیامت تک آنے والے انسانوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ عورت کے وجود کو تسلیم کیے بغیر مرد ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتےـ
عورت کا کردار تعلیمی میدان میں بھی لائق ستائش ہے
چنانچہ! محدث حافظ ابن عساکر فرماتے ہیں کہ ہمارے اساتذہ میں ۸۰ خواتین ہیں ـ جس وقت ہندوستان میں عورت کو چتا پر جلایا جاتا تھا اور یوروپ میں شیطان کا ایجینڈا کہ کر اس سے دور رہنے کی نصیحت کی جاتی تھی اس وقت غرناطہ میں اسلام کی ۸۰ عورتیں ایسی تھیں جو ساٹھ علوم پر یدِ طولی رکھتی تھیں
اس لیے بلا جھجک یہ تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ عورت کا کردار معاشرہ کیلیے ایسا ہی ہے جیسا کہ بدن کیلیے ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے ـ


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *