برائلر مرغی اور ہماری سوچ—-سعدیہ کامران


عنوان پڑھ کر ذہن میں اسکے مفسدات کاخیال آنا لازم ہے۔ پھر بھی ہمارے یہاں یہ برائلر مرغی کھائی جاتی ہے۔ کیا کریں مجبوری ہے ۔ بچوں کا ساتھ ہے۔ ایک تو ہم مجبور بڑے ہیں۔
ہر چیز میں مجبوری ۔ کھانے میں مجبوری ۔رشتوں میں دین میں مجبوری۔ مجبوری ہی مجبوری یہ بھی کوئی ذندگی۔
میں کہاں نعمت کا عنوان دے کر مجبوری کے ہاتھوں مجبور ہوگئی۔
اصل میں برائلر مرغی کے نعمت ہونے کا خیال ذہن میں یوں کوندا ۔ جی جی کوندا کہ آج کل کی بچیاں اسی برائلر چکن کے کھانے کی وجہ سے 9 – 9.5 سال میں بلوغت کو پہنچ رہی ہیں۔ٹھیک اسی طرح جس طرح عرب میں ( جیسے کہ عرب میں ہم نے اپنے بچپن سے سنا ہے )
موسم کی بنا پر بلوغت کو پہنچ جاتی تھیں۔ اور اسی وجہ سے انکی شادیاں بھی ہوجاتی تھیں۔ اور کوئی قباحت نہی تھی۔
برائلر کو اپنے لئے نعمت جانیں۔اس نے بڑے اہم نکتے کی طرف توجہ دلوائی ہے۔
کئی رپورٹس آئی ہیں یا دیکھی ہیں سنی ہیں کہ کم عمری میں ماں بن گئی۔ بس اسی بات پر 9 سال والی روایت ثابت ہوگئی۔
آج کی لڑکیاں فلمیں ڈرامے دیکھ دیکھ کر بلوغت سے پہلے ہی اپنی اماؤں کی امائیں بن جاتی ہیں۔
اور ان خرافات نے انکے دماغوں کو اتنا بڑا کردیا ہے کہ انکی مسکراہٹ بھی ذو معنی ہوگئی ہے۔خاموشی میں بھی انکی آنکھیں بات کرتی ہیں۔
وہ معصومیت نا جانے کہاں مرگئی ہے۔ اماؤں کو ہوش نہی ہے۔ کہ ہوکیا رہا ہے ۔ بس بچوں سے جان چھوٹ جائے۔پیدا بھی مکمل ہونے کے ٹھپے کے واسطے کرتی ہیں۔
اب ساری باتیں ایک طرف سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امام بخاری رحمت ﷲ علیہ غلط تھے۔———– نہی ۔ ہرگز ہرگز ہرگز نہی ۔ ﷲ پاک تباہ و برباد کردے جو صحابہ یا امام و محدیثین سے بغض رکھتا ہے۔
وہ محدث تھے انھوں نے پوری روایت دیانت کے ساتھ آگے بڑھائی ہے۔کیونکہ 6 / 9 سال کی روایت کی سند اور سلسلہ مضبوط تھا معطل نہی تھااسی لئے اسکو بخاری میں جگہ ملی ۔
اسی سند اور سلسلے کی مضبوطی کی بناء پر اور روایت بھی ہیں جوامی عائشہ رضیﷲ عنہا کے 16/ 17 اور 19 سال کا پتا دے رہی ہیں۔اور اس عمر میں آج بھی شادیاں ہوتی ہیں بلکہ یہ پسندیدہ عمر ہے۔
بلکہ اس میں نصیحت بھی ہے۔ کہ teen age لڑکی کی دلداری کیسے کیا جائے۔ اسکو جوتے مار کر اسکی شخصیت کو نا کچلا جائے۔بلا ضرورت روک ٹوک اور ذمہ داری نہی ڈالی جائے۔اور اس عمر میں ماں بننے کی ذمہ داری نہی ڈالی جائے۔
پڑھانے لکھانے اور حصول علم میں اسکی مدد کی جائے۔
حبشی غلاموں کے تماشے والا واقعہ ذہنوں میں لائیے۔
امی جان رسولﷲ کے مبارک کاندھے پر رخسار لگائے کھڑی ہیں ۔اور نبی رحمت اپنی زوجہ کے ساتھ اس سارے وقت میں انجوائے کر رہے ہیں۔
کتنی پیاری تربیت ہورہی ہے۔ مل کر تفریح۔قربت دلداری۔
اور سب سے بڑھ کر نبی رحمت کوئی running کمینٹری فتوی نہی دے رہے۔ نعوذو باﷲ کسی تشنج میں مبتلا نہی دیکھ رہے۔
اور نہ زوجہ کو کوس رہے ہیں کہ بی بی تم کھیل وتماشے کے لئے نہی جنمی گئی۔
اور ہمیں گشت پر جانا ہے۔ تخلیہہہہ۔
یہ سب کسی کو نظر نہی آتا ۔ اور کم عقلوں کی طرح بلا وجہ 9 سال پر لڑے مرے فتوے دیے جارہے ہیں۔ ارے اندھیرے میں رہنے والوں اگر 9 سال سے منکر حدیث بن رہا ہے تو 19 سال کی روایت جو بخاری شریف میں ہی ہے اسکا انکار کرکے کیا منکر حدیث نہی ہورہا۔
امام بخاری محدث تھے انکی ڈیوٹی انکے فرائض میں سے تھا کہ مضبوط سلسلے کی احادیث جمع کریں۔اگر تیسری یا چوتھی رائے ہوتی تو بھائیوں اور بہنوں وہ بھی درج ہوتی۔
کعب بن اشرف مردود ازواج رسول کی ہجو کیا کرتا تھا انکی نجی ذندگی کو انکی صورت اور خاکئہ جمال کو مردود اپنی شاعری میں بیان کرتا۔ نبی ﷲ کو تکلیف دیتا۔توہین رسالت کا مرتکب جہنم رسید ہوگیا۔
لیکن ان لوگوں کا کیا جو ایسی روایتیں جو ازواج اور رسولﷲ کی ہجو کرتی ہیں ۔ تو کیا ان کو مقدس ہجو مان کر چھوڑ دیا جائے۔نبیﷲ پر مقدس گندگی انڈیلنے والے ﷲ کی عدالت میں بھی اور Ppc 295 کے قانون کے تحت تختئہ دار کے حق دار ہیں۔


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *