فکر اقبال کی ہمہ جہتی— رؤف تبسم


14996297_1201776843242626_1093067496_n
پاکستان میں کسی سیاسی جلسے میں چلے جائیں یا مذہبی اجتماع میں, کوئی سماجی تحریک ہو یا علمی پلیٹ فارم, آپ کو ہر جگہ اقبال کی بازگشت سنائی دے گی. کہیں پہ اقبال کے اشعار پیش کیے جا رہے ہوں اور کہیں ان کے افکار. حتٰی کہ سوشلسٹ ان کو مارکسی سمجھتے ہیں اور ملا ان کو مذہبی سمجھتے ہیں. غرض یہ کہ ہر طبقہء فکر اقبال کو اپنا ہم خیال تصور کرتا ہے. سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے ؟

اس سوال کا جواب پانے کے لیے ہمیں اقبال کے حالاتِ زندگی کا بغور جائزہ لینا ہو گا. درحقیقت اقبال کی زندگی کے تمام پہلوؤں پہ بخوبی نظر تھی. وہ محض ایک شاعر یا مفکر نہ تھے بلکہ ان کو ایک ایسے انسان کے طور پہ دیکھنا چاہیے جو زندگی کی سیاسی, سماجی, فکری اور علمی بنیادوں کو نہ صرف اچھی طرح سمجھتے تھے بلکہ ان کے مطابق اپنی زندگی کے تمام پہلوؤں پر بھی نظر رکھتے تھے.

وہ بنیادی طور پہ مفکر تھے شاعر نہ تھے. درحقیقت شاعری تو ان کے لیے تبلیغ ِ فکر کا ذریعہ تھی. وہ اس کے ذریعے اپنے پیغام کو دنیا تک پہنچانا چاہتے تھے اور اپنے مقصد میں کامیابی کی اس انتہا تک پہنچے کہ فنِ شاعری میں بھی اوج کمال حاصل کیا. اگر ان کی فکر کی تبلیغ کا ٹول اتنا اعلیٰ اور مکمل ہے تو ان کی فکر کی بلندی کا ذرا تصور کیجے اور سر دھنیے کہ وہ کس قدر عظیم انسان تھے.

وہ انسانوں میں فکری تنوع سے بخوبی آگاہ تھے اور ان کے مزاج کو تفاوت کو اچھی طرح سمجھتے تھے. اس لیے ان کا پیغام ہمہ گیر اور ہمہ جہت ہے. ان کے پیغام میں دنیا کے تمام انسانوں کے لیے رہنمائی کا سامان ہے.

انکی فکری بلندی کی پیروی انسان کو پاتال سے نکال کر اوج پہ پہنچاتی ہے. ان کے افکار ہر دور کے انسانوں کے لیے رہنمائی کا معیار ہیں. ان کی مستقبل بین عقل نے دہر کے تمام باسیوں کے لیے ایسا پیغام ترتیب دیا جس پہ چل کے دنیا کے دکھوں کو کم کیا جا سکتا ہے. جس کے ذریعے بنی نوع انسانیت کے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں.

اقبال کا فلسفہء خودی ایک کامل انسان کی تعلیم و تربیت کا مکمل نصاب ہے. اس میں جہاں فرد کی خودی کی تربیت پہ زور دیا جاتا ہے, وہیں اجتماعیت کی طرف راغب کیا جاتا ہے. ان کی دو مشہور مثنویوں اسرارِ خودی اور رموزِ بے خودی میں اسی فلسفہ کی تشریح کی گئی ہے.

اس فلسفہ کو سمجھ کے اگر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے تو انسانی معاشرہ ایک مثالی معاشرہ بن سکتا ہےآج کا المیہ یہ ہے کہ اقبال کو مختلف خانوں میں بانٹ دیا گیا ہے. سُنی کا الگ اقبال ہے, شیعہ کا الگ. ملا کا الگ اقبال ہے مارکسی کا الگ. سیاست دان کا الگ اقبال ہے اور استاد کا الگ.

اس تقسیم در تقسیم کے عمل نے پاکستان میں فکرِ اقبال کو پنپنے نہیں دیا. ہر کوئی ایک نکتے کو لے کر اس پہ بضد ہے کہ وہی اقبال بین ہے اور باقی سب فکر اقبال سے نابلد ہیں. ہمارا معاشرہ اجتماعیت کا تقاضہ کرتا ہے اور اس کے لیے اقبال کے افکار کو اجتماعی نکتہء نظر سے سمجھنے اور اس پہ عمل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا جو خواب اقبال نے دیکھا تھا, وہ شرمندہء تعبیر ہو سکے.


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *