معاشرے میں‌بڑھتی بے حسی– راحیلہ ساجد


13062421_1577075745955081_9023399615138537982_n

آج کل فيس بک پر ايک ويڈيو کا کافی چرچا ہے جس ميں ايک خاتون ايک بچی کوگود ميں لے کر چپ چاپ بےحس و حرکت بيٹھی ہے اور ايک آدمی اس عورت کے لمبے خوبصورت بال قينچی سے کاٹ رہا ہے ۔ اب خدا جانے يہ ويڈيو اصلی ہے يا فيک مجھے اس سے مطلب نہيں ۔۔۔ ليکن ميں نے اکثر کمنٹس ميں سوال ديکھا کہ کيا جو آدمی ويڈيو بنا رہا تھا وہ بےغيرت ہے اس نے اسے کيوں نہيں بچايا؟

تو مجھے ايک اور ويڈيو ياد آ گئی جو کچھ عرصہ پہلے فيس بک پر آئی تھی ۔ جس ميں ايک جوان لڑکی سامنے ليٹی زندگی اور موت کی کشمکش ميں تھی اور اس کا بھائی آرام سے بيٹھا موبائل پر مصروف تھا اور تب بھی ايک شخص اس لڑکی کو بچانے کے بجاۓ اس کی اس جان کنی والی ويڈيو بنا کر فيس بک پر شيئر کر رہا تھا ۔ آپ لوگوں کو يقينا” ياد ہو گا ۔۔

فيصلہ خود کيجيے کہ زيادہ سنگين حالات کس ويڈيو ميں تھے ؟ جہاں ايک خاتون کے بال کاٹے جا رہے ہيں يا جہاں ايک لڑکی جان سے جا رہی ہے اور کوئی تيسرا بجاۓ ان کی مدد کے ، ويڈيو بنا کر اس کو شيئر کرہا ہے ۔ اگر ايک جان نکلتی لڑکی کی مدد کے بجاۓ ويڈيو بنائی جا رہی تھی تو اس ميں تو صرف بال کاٹے جا رہے تھے۔

اسے بےحسی کہيں ، مردہ دلی کہيں يا پھر اسے کيا نام ديں کہ دونوں صورتوں ميں فوکس ويڈيو بنانے پر ہے ، مدد پر نہيں ۔ جہاں سيل سے فون کر کے کسی کو مدد کے ليے بلايا جا سکتا تھا ، ايمرجنسی کال کی جا سکتی تھی يا کم از کم کسی کو ارجنٹ ميسج بھيجا جا سکتا تھا اور ان دونوں صورتوں ميں شايد ايک کی جان بچائی جا سکتی تھی اور دوسری کی عزت نفس ليکن افسوس کہ سيل کا استعمال صرف ويڈيو بنانے کے ليے کيا گيا ۔

ہم لوگ تو اتنے بےحس ہوتے جا رہے ہيں ہماری نظر ميں انسانی جان اور عزت کی کوئی وقعت نہيں رہی ۔ ايکسيڈنٹ ہو جاۓ تو اکثر لوگ متاثرہ اشخاص کی مدد کے بجاۓ وہاں ويڈيو بنانے لگ جاتے ہيں ۔ زخمی يا ہلاک ہونے والی شخص کی تصاوير فيس بک پر شيئر کرنا جيسے ايک معمول بن چکا ہے ۔ خون سے لتھڑی ميت ہو يا ايک عام طبعی موت ان کی تصاوير فيس بک پر شيئر کرنا کيوں ضروری ہے ؟؟؟؟؟ مجھے تو سمجھ نہيں آتی ۔۔۔ آپ کی سمجھ ميں آتی ہے تو پليز مجھے بھی سمجھايے ۔


You may also like...

1 Response

  1. Zahid Bhatti says:

    فیس بک ، ٹوئیٹر ، وہاٹس اپ اور دیگر سوشل سائٹس پر ایسی بے حسی کے منظر ہر روز دیکھنے کو ملتے ہیں اور لائک اور افسوس کا اظہار کرنے والوں کی ایک لمبی فہرست بھی دیکھنے کو ملتی ہے ….جب میں یہ ویڈیو دیکھ رہا تھا جس میں آدمی عورت کے بال کاٹا راہا ہے تبھی میری نظر ایک کمینٹ پر پڑی ………….

    (“”ضرور اس عورت نے کوئی بےحیائی والا کام کیا ہو گا جس کی اس کو سزا مل رہی ہے،ورنہ کوئی پاگل ہے جو بلاوجہ بال بھی کٹے اور ویڈیو بھی اپلوڈ کرے……………””)

    دکھ کی بات تو یہ تھی کہ کمینٹ پاس کرنے والی بھی ایک عورت تھی …. ایسے اور بھی ہزروں کمنٹس تھے…….. یہ کمنٹس پڑھ کے مجھے یہ احساس ہوا کہ ہم انسان کتنے بے حس ہوتے جارہا ہیں بلکہ بے حسی کی ہر حد پر کر راہا ہیں
    شاید ہم بھول گے ہیں کہ ھمیں “اشرف المخلوقات” جیسے عظیم لقب سے نوازا گیا ہے…….!!
    آاللہ آپ کے احساس و جزبات کو یوں ہی لہلہاتا رکھے……!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *