شعروشاعری شعروشاعری

عشق ایسی غلطی ہے –عائشہ غوری


عشق ایسی غلطی ہے
ایک بار ہوجائے
زندگی بھر اس غلطی کے
ہم شکنجے میں رہتے ہیں
چھڑا کر اپنے دامن کو گر
آگے جانا چاہیں تو
لپٹ کر پاؤں پڑتا ہے
کسی جھاڑی کی مانند ہے
آگے بڑھنے نہیں دیتا
جو اس میں ڈوب جائے تو
اسے ابھرنے نہیں دیتا
جو آبلہ پاؤں میں پڑ جائے
اسے بھرنے نہیں دیتا
جو زخم اس میں لگ جائیں
ہرے بھرے ہی رہتے ہیں
عشق تو عشق ہوتا ہے
حقیقی ہو کہ مجازی ہو
وجود زندگانی کو
جلا کر راکھ کرتا ہے
گر تم اس میں ڈوب جاؤ تو
کبھی اس میں ابھرنے کی ناکام کوشش مت کرنا
جھلسا کر خاک کردے گا
جلا کر راکھ کر دے گا
عائشہ غوری


Add Comment

Click here to post a comment