اسلام شخصیات

حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ کی سوانح حیات -مفتی محمد وقاص رفیعؔ


حضرت مولانا خلیل احمد سہارن پوریؒ ہمارے ماضی قریب کے ان جید اور ممتاز علماء میں سے ہیں کہ جن کے احسانات سے مسلمانانِ ہند و پاک کسی طرح بھی سبک دوش نہیں ہوسکتے ۔ آپؒ اپنے دور کے عظیم محدث ، نامور محقق ،بے بدل فقیہ اور بہترین مناظر تھے۔ آپؒ کا تعلق قصبۂ انبیٹہ کے مشہور و ممتاز ایوبی خاندان سے تھا ، جہاں پہلے آپؒ کا سلسلۂ نسب دسویں پشت پر جاکر اپنے پیر و مرشد قطب الاقطاب حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب ؒ سے اور آخر میں مشہور میزبانِ رسولؐ سیدنا ابو ایوب انصاریؓ سے جاکر ملتا ہے ۔
مولانا خلیل احمد سہارن پوریؒ اواخر ماہِ صفر 1269 ھ کو اپنے نانہالی قصبہ نانوتہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد ماجد شاہ مجید علی ریاستی ملازمت کی بناء پر برسوں گھر سے دور رہتے، اس لئے آپ بمع اپنی والدہ کے نانہال ہی رہنے لگے ۔ چنانچہ آپؒ کی ابتدائی پرورش اور تربیت کی تمام تر ذمہ داری آپ کے ماموں اور نانا ہی کے ذمہ تھی ۔
آپؒ فطرتاً انتہائی ذکی اورذہین تھے۔ چنانچہ آپؒ کی عمر مبارک جب پانچ برس کی ہوئی تو آپ کو ابتدائی قرآنی قاعدہ کی بسم اللہ …الخ کرائی گئی، اس کے بعد آپؒ نے جلد ہی ناظرہ قرآن مجید ختم کیا اور اردو وفارسی کی ابتدائی تعلیم انبیٹہ اور نانوتہ میں مختلف اساتذہ کرام سے حاصل کی ۔
1283 ھ میں جب آپؒ کے کان میں قیام دار العلوم دیوبند کی خبر پڑی تو والدین کی اجازت سے آپؒ دیوبند تشریف لے گئے اور تقریباً چھ ماہ تک وہاں تعلیم حاصل کرتے رہے، لیکن اس دوران وہاں آپ کا دل بالکل نہیں لگا ۔ اُدھر دوسری طرف سہارن پور میں جب مدرسہ مظاہر العلوم کا بھی افتتاح ہونے لگا تو آپ ؒ دارالعلوم دیوبند کو خیر آباد کہہ کر مظاہر العلوم سہارن پور چلے گئے اور وہاں رہ کر حدیث اور فقہ اور اصول و تفسیر کی اکثر و بیشتر کتابیں مولانا محمد مظہر صاحبؒ سے، جب کہ منطق و فلسفہ اور ہیئت و ریاضی کی کتابیں دوسرے اساتذہ سے پڑھیں ۔ حتیٰ کہ محض 19 سال کی عمر میں پانچ سال کی قلیل مدت میںدرس نظامی کا کورس مکمل کرکے 1288 ھ میں مدرسہ مظاہر العلوم سہارن پور سے آپؒ نے سند فراغت حاصل کی۔
علوم عقلیہ و نقلیہ سے فراغت حاصل کرنے کے بعد معرفت الٰہیہ کی جستجو میں آپؒ کی نظر انتخاب قطب الاقطاب حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی صاحبؒ پر جاٹھہری اور آپؒ حضرت گنگوہیؒ کے ہاتھ پر بیعت کرنے ان کے یہاں حاضر ہوگئے ۔ حضرت گنگوہیؒ نے پہلے تو انکار فرمایا، لیکن جب بعد میں آپؒ کی سچی عقیدت اور دلی محبت کو محسوس کیا تو فوراً آپؒ کو بیعت کرلیا اور پھر کچھ ہی عرصہ بعد خلافت جیسے عظیم منصب پر آپؒ کو فائز کردیا ۔
فراغت کے دوسرے سال 1289 ھ میں آپؒ کا پہلا عقد نکاح اور رخصتی ہوئی۔ ایک سال بعد اللہ تعالیٰ نے آپؒ کو ایک بیٹا محمد ابراہیم اوراس کے بعد یکے بعد دیگرے اڑھائی اڑھائی سال کے وقفہ سے دو بیٹیاںعطا کیں، لیکن دوسری بیٹی کی پیدائش ماں اور بیٹی دونوں کے لئے آخرت کا بلاوا ثابت ہوئی اور وہ دونوں محض تین دن کی قلیل مدت میںیکے بعد دیگرے( پہلے بیٹی اور پھر ماں) اس عالم دنیا کو الوداع کہہ گئیں ۔
1297 ھ میں آپؒ کا دوسرا عقدنکاح انبیٹہ کی ایک بیوہ عورت کے ساتھ دو ہزار روپے مہر کے عوض ہوا ، جس سے تین لڑکیاں ( زبیدہ ، سلمیٰ اور ام ہانی )پیدا ہوئیں جن میں سے ایک بچی لڑکپن میں اور دوسری دو لڑکیاں شادی کے بعد عنفوانِ شباب ہی میں وفات پاگئیں ۔
1293 ھ میںآپؒ حضرت گنگوہیؒ کے حکم سے بھوپال بطورِ مدرس کے تشریف لے گئے ، لیکن وہاں جب حج کا موسم آیا تو دل میں حج اور روضۂ رسولؐ کی زیارت کا داعیہ پیدا ہوا اس لئے آپؒ فوراًحج کے لئے تشریف لے گئے اورحج بیت اللہ اور روضۂ رسولؐ کی زیارت سے متمتع ہوئے۔ ادائیگی حج سے واپسی کے بعد چند روز تک اپنے وطن ٹھہرے رہے، اس کے بعد مدرسہ اسلامیہ سکندرآباد میں بطورِ مدرس تشریف لے گئے ، لیکن چوں کہ اہل سکندر آباد کے لئے آپؒ کے فیوض و برکات سے مستفید ہونا مقدر نہ تھا اس لئے بعض ایسی صورتیں پیش آئیں کہ وہاں سے آپؒ کو مستعفی ہوکر وطن واپس آناپڑا ۔ اس کے بعد مولانا محمد یعقوب صاحبؒ کی طرف چیف بھوپال کی ( لائق اور قابل مدرس کی ضرورت کی) ایک مطلق پر زور درخواست کے سبب آپؒ کو بطورِ مدرس دوبارہ بھوپال روانہ ہونا پڑا،جہاں رہ کر آپؒ کو دوسرے حج کا بھی اتفاق نصیب ہوا ۔
اُدھر دوسری طرف بریلی میں مدرسہ مصباح العلوم کی بنیاد پڑی ، جس کے لئے حضرت گنگوہیؒسے مدرس اوّل تجویز کرنے کی درخواست کی گئی ۔حضرت گنگوہیؒ نے درخواست قبول کی اور آپؒ کو 40 روپے مشاہرہ پر مدرس اوّل بناکر بھوپال سے بریلی روانہ کر دیا اورپھر 1308 ھ میں بریلی سے واپس بلا کر 30روپے مشاہرہ پر دار العلوم دیوبند کا مدرس دوم (نائب مدرس) مقرر کردیا ۔اس کے بعد1314 ھ میں جب مولانا حبیب الرحمن صاحبؒ نے مظاہر العلوم سہارن پور سے استعفیٰ دے دیا تو مدرسہ کے ممبران کی طرف سے حضرت گنگوہیؒ کی خدمت میں ایک پر زور دار درخواست لکھی گئی جس میں کہا گیا کہ مولانا خلیل احمد سہارن پوری ؒ کو یہاں مدرس اوّل بناکر بھیج دیا جائے ۔ حضرت گنگوہیؒ نے یہ درخواست بھی منظور فرمالی اور مولانا خلیل احمد سہارن پوریؒ کو بطورِ مدرس اوّل مظاہر العلوم روانہ فرمادیا ، وہاں تقریباً 31 برس تک مسلسل ایک ہی جگہ بیٹھ کر آپؒ علوم عقلیہ و نقلیہ کا انتہائی توجہ اور انہماک کے ساتھ درس دیتے رہے اورتشنگانِ علوم کو اپنے علمی فیوض و برکات سے برابر سیراب کرتے رہے ۔
مولانا خلیل احمد سہارن پوریؒ کو علم حدیث اور علم فقہ سے ایک خاص قسم کی مناسبت تھی اور طبعی طور پر آپؒ ان ہی دو علوم سے خاصی رغبت اور دلچسپی رکھتے تھے ، چنانچہ آپ ؒ کی زندگی کا ماحاصل اور نچوڑعلم حدیث میں’’ بذل المجہود‘‘ کی صورت میں جب کہ علم فقہ میں’’ فتاویٰ خلیلیہ‘‘ کی صورت میں اس حقیقت پر شاہد عدل ہیں ۔
آپ ؒ کی جملہ تصانیف یہ ہیں : (۱) بذل المجہود عربی شرح سنن ابی داؤد (۲) ہدایات الرشید (۳) مطرقۃ الکرامہ (۴) اتمام النعم (۵) تنشیط الآذان (۶) المہند علیٰ المفند (۷) فتاویٰ مظاہر العلوم المعروف بہ فتاویٰ خلیلیہ وغیرہم۔
مولانا خلیل احمد سہارن پوریؒ کو حق تعالیٰ نے ظاہری حسن صورت کے ساتھ ساتھ باطنی حسن سیرت میں سے وافر حصہ عطا فرما رکھا رکھا تھا ۔چنانچہ آپؒ کا قد مبارک مائل بہ طویل تھا، رنگ صاف تھا، جس میں سرخی جھلکتی تھی ، بدن دبلا اور چھریرا نہایت ہی نرم اور نازک تھا اور چہرہ مبارک چودہویں کا چاند گویا گلاب کا تازہ پھول معلوم ہوتا تھا۔ بول چال میں صاف گو اور نصیحت و خیر خواہی میں شفاف جو ، تہجد کی دس یا بارہ رکعتوں میں روزانہ دو پارے پڑھنے کا معمول تھا ۔ چال چلن میں تیزی تھی ۔ فجر کی نماز سے لے کر اشراق تک مراقبہ فرماتے ۔ سفرو حضر میں مسواک کا اہتمام رہتا۔ شوربہ چپاتی آپؒ کا مرغوب کھانا تھا ۔ آم ، انجیر اورپنیر شوق سے کھاتے ۔ دودھ اور شکر والی بلا نمک چائے پسند تھی ۔ دن کو کھانے کے بعد گھنٹہ سوا گھنٹہ قیلولہ کرنے کی عادت تھی ۔ ہمہ وقت باوضو رہتے ۔ لباس میں کرتہ ، پائجامہ اور صدری زیب تن فرماتے ۔ سفید رنگ کا لباس پسند تھا ۔ عطر سے رغبت تھی ۔ مزاج انتہائی نفیس اور ہنس مکھ تھا۔ نشست و برخاست میں سادگی اور بے تکلفی عام تھی۔رمضان المبارک کا پورا مہینہ تلاوت کلام الٰہی کا عمومی اور اخیر عشرہ میں اعتکاف کا خصوصی اہتمام رہتا ۔
قیام سہارن پور کے زمانہ میں 16 شوال 1344 ھ کو آپ ؒ ڈیڑھ سال کی رخصت لے کر اپنی معیت میں ایک بہت بڑا قافلہ لے کر حجازِ مقدس تشریف لے گئے ۔ پہلے ہجرت کا ارادہ نہیں تھا مگر اس کے چند ماہ بعد جب آپؒ اپنے رفقاء کو ہندوستان بھیج چکے تو ہجرت کی نیت پختہ کرلی اورحسن اتفاق کہ مدرسہ مظاہر العلوم سہارن پور سے ڈیڑھ سال کی حاصل کردہ رخصت ہی آپؒ کی بقیہ حیات دنیویہ کی مدت ثابت ہوئی کہ اس میں نہ ایک دن کم ہوا اور نہ زیادہ ۔ یہ رخصت کا زمانہ 16/ ربیع الثانی کو ختم ہورہا تھا اور سورج ڈوبنے میں صرف ایک گھنٹہ باقی تھا کہ مؤرخہ 15 ربیع الثانی 1346 ھ بروز بدھ کو مکمل 24 گھنٹے عالم خاموشی میں گزار کر جاں کنی کے وقت ’’اللہ اکبر ، اللہ اکبر ‘‘کہتے ہوئے علم و عمل کا یہ آفتاب جہاں تاب اور ماہتاب عالم تاب مدینہ منورہ کے افق میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے غروب ہوگیا اور جنت البقیع جیسے مقدس اور پاکیزہ قبرستان میں حضرات اہل بیت کے عین متصل آغوشِ لحد میں محو استراحت کردیا گیا ۔