story اسلام افسانہ پاکستان

پاکستان کے بیٹے یا شیطان بھینسے-فیصلہ آپ کو کرنا ہے–تنویراعوان


ڈیڈی میں نے فیصلہ کرلیا ہے۔میں آرمی جوائن کررہاہوں۔
واٹ! تم ہوش میں تو ہو۔تمہیں پتا بھی ہے کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔سکندر کی بات سن کر اس کے والد نے انتہائی غم وغصے سے کہا تھا۔
ہاں ڈیڈی میں نے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے۔ملک کو میری ضرورت ہے۔سنکدر نے پورے یقین اور اعتماد سے جواب دیا تھا۔
بیٹا! تم میری اکلوتی اولاد ہو۔تمہارے سوامیرا کوئی نہیں۔یہ کروڑوں کا بزنس تم کو سنبھالنا ہے۔میں بوڑھا ہوچکا ہوں۔میرے بڑھاپے کا ہی خیال کر لو۔احمدخان نے جوان بیٹے سے امید بھرے لہجے میں استدعا کی تھی۔اس لمحے ان کے الفاظ میں زمانے بھر کا کرب سمٹ آیا تھا۔
ایک لمحے کو سکندر بھی ڈگمگایا لیکن جلد ہی سنبھل گیا۔جب وہ بولا تو انتہائی پرسکون تھا۔ڈیڈی یہ جو بارڈر پر ڈیوٹی دیتے ہیں نا۔یہ بھی کسی کی اکلوتی اولاد ہوتے ہیں۔جو جوان شہید ہوتے ہیں وہ بھی کسی ماں کے لال ہوتے ہیں۔انہی کی وجہ سے ہم سکھ اور چین کی نیند سوتے ہیں۔اس پاک وطن کا ہم پر قرض ہے میں یہ قرض تو نہیں اتارسکتا لیکن اپنی صلاحیتیں وطن کے لئے صرف کرنا چاہتا ہوں۔
احمد خان نے بڑے دکھ اور کرب سے بیٹے کو دیکھا۔کچھ دیر سوچا۔اور فیصلہ کن انداز میں بولے! ٹھیک ہے جب تم نے فیصلہ کرہی لیا ہے تو مجھے تمہاری خوشی عزیز ہے ۔لیکن یاد رکھنا پیٹھ دکھا کر آئے تو میری گولی ہوگی اور تمہارا سینہ۔
سکندر کو اپنے کانوں پر گویا یقین نہ ہوا ۔وہ کچھ لمحے سکتے میں رہا پھر دوڑ کر آیا اور احمدخان سے لپٹ گیا۔ڈیڈی آپ دنیا کے سب سے اچھے انسان ہیں۔
ڈیڈی احمدخان کا بیٹا واپس آئے گا تو غازی بن کر ورنہ شہید کالاشہ آئے گا اور گولی کانشان سینے پر ہوگا۔
۔
.
احمد خان ملک کے بڑے بزنس مین تھے۔ان کا کاروبار کئی ممالک میں تھا۔بزنس انہیں وراثت میں ملا تھا۔نوجوانی میں ان کی بھی خواہش تھی کہ آرمی جوائن کریں لیکن ایسا ہونہیں سکا۔آج جب ان کے اکلوتے بیٹے نے آرمی جوائن کرنے کا فیصلہ کیا تو وہ اسے روک نہ سکے۔شاید وہ بھی دل سے یہی چاہتے تھے۔سکندر کی ماں اس کے بچپن میں ہی انتقال کرچکی تھیں۔لیکن احمد خان نے سکندر کے لئے دوسری شادی نہ کی۔سکندر کو ماں بن کر پالا۔انہیں سکندر سے بے پناہ محبت تھی وہ اسے کھونا نہیں چاہتے تھے۔لیکن پاکستان بھی ان کو سب سے بڑھ کر پیارا تھا۔جس کے لئے وہ سکندرکو بھی قربان کرسکتے تھے۔
۔.
.
کچھ سالوں بعد میجر سکندر کا لاشہ گھر آتا ہے۔احمدخان کے چہرے پر عجیب ہی چمک ہوتی ہے۔وہ باربار سینہ دیکھتے ہیں۔سینہ گولیوں سے چھلنی ہے۔سکندر کا مسکراتا چہرہ نگاہوں کے سامنے آتا ہے۔بابا! احمد خان کا بیٹا سینے پر گولی کھائے گا۔
احمد خان شہید بیٹے کے لاشے کو سلیوٹ کرتا ہے۔سنو سکندر میرے بیٹے احمدخان کو تم پر فخرہے۔تم نے میرا سر فخر سے بلند کردیا۔
شہادت مبارک خیر مبارک
۔
.
نوید غریب گھرانے کا اکلوتا چشم و چراغ ہے۔پاک وطن کا شیدائی اور آرمی سے محبت تو نس نس میں بھری ہوئی ہے۔وہ بھی آرمی جوائن کرتا ہے باڈر پر بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہید ہوجاتاہے۔لیکن اس کے والدین روتے نہیں آنسو نہیں بہاتے ۔بلکہ گاؤں والوں سے مبارکبادوصول کرتے ہیں۔
شہادت مبارک خیر مبارک۔
۔
.
سنو تم بہت اچھا لکھتے ہو۔پاکستان کے خلاف لکھو۔ہفتے میں ایک کالم۔فی کالم ایک لاکھ روپے ملیں گے۔
وہ انکار میں سر ہلاتا ہے۔میں تھوکتا ہوں تمہارے پیسوں پر۔تمہاری شکل پر۔لعنت ہو تم وطن فروشوں پر۔انس کا قلم وطن کے دفاع کے لئے ہے۔تم پیسوں سے حب الوطنی نہیں خرید سکتے۔
۔
.
جناب آپ نے صرف اتنا کرنا ہے کہ پاکستان کے اندرونی مسائل کو اجاگر کریں۔اور ساتھ میں لکھ دیاکریں کہ فوج بھی کسی حد تک ذمہ دار ہے۔فی لفظ ہزار روپے دیں گے۔
ارے میاں فوج کا زکر کہاں سے آگیا اس میں تو فوج کاکوئی کردار ہے ہی نہیں۔سارے ہمارے نااہل اور کرپٹ حکمرانوں کا کرشمہ ہے ۔
جناب آپ بھی نا.۔او جی حقیقت یہی ہے کہ فوج بہترین ادارہ ہے ۔پاک و صاف۔لیکن ہمیں پیسے فوج کو بدنام کرنے کے ملیں گے۔
کیا!. مردود کی نسل توں ایک ہاشمی سے پاک فوج کے خلاف لکھوانا چاہتا ہے دفع ہوجا۔ورنہ قلم کہ جگہ تلوار ہوگی اور صفحے کی جگہ تیرا سر۔
۔
.
یار تنویر پاکستان کے حالات اتنے خراب ہیں کہ اللہ ہی بچائے۔کرپشن، لوٹ مار، فرقہ واریت، بھائی بھائی کا گلہ کاٹ رہا ہے۔پتا نہیں ملک کا کیا بنے گا۔
فضل خان تم جانتے ہو۔ نا! کسی نے کہا تھا پاکستان دیوانے کا خواب ہے۔کسی نے کہا تھا پاکستان ایک رات کی کہانی ہے۔کسی نے کہا تھا دوقومی نظریہ سمندر بردکردیا۔
.
لیکن کیا ایسا ہوا ۔نہیں نا۔پاکستان پہلے سے بھی توانا ہے مضبوط ہے۔ایٹمی طاقت ہے۔پوری دنیا کے کفارکو پاکستان سے ہی مسئلہ ہے۔عالمی طاقتیں پاکستان سے خار کھاتی ہیں۔وہی ہمارے ملک کے ضمیر فروشوں بھینسے، موچی اور ان کی قبیل کو پیسے دے کر نفرتیں پھیلاتے ہیں۔دوسرا ہم اسلام سے دور ہیں۔ہمارے ملک مختلف قومیتیں آبادہیں جن میں مشترک صرف اسلام ہے۔ایک اسلام کی بنیاد پر ہی لوگوں کو اکھٹا کیا جاسکتا ہے۔اسلام چونکہ پاکستان کی اساس ہے اس لئے اساس سے ہٹنے کی وجہ سے ہی تمام مسائل نے جنم لیاہے۔باقی میرے دوست ہم خود بھی ذمہ دار ہی. کہ ہم چوروں کو ووٹ دیتے ہیں اور امید پاسبانی کی کرتے ہیں۔
.
تنویر کہتے تو تم سہی ہو لیکن کیا ہمارے حکمران اتنے نااہل ہیں اور میڈیا اندھا ہے کہ اسے نظر نہیں آتا۔
.
دیکھو دوست پیسہ بڑی خراب شے ہے۔کسی کا بھی ایمان خراب کرسکتی ہے۔سوئس اکاؤنٹس میں پیسے۔دبئی اور لندن کی جائیدادیں ہمارے سیاستدانوں کا منہ بند رکھے ہوئے ہیں۔جبکہ میڈیا کو ریٹنگ چاہیے ۔ساتھ میں بیرونی فنڈ بھی ملے تو کیا ہی بات ہے۔ہمارے میڈیا کا ایجنڈا بھی کسی اور دیش میں طے ہوتا ہے۔بس نشر یہاں ہوتا ہے۔اب تم ہی بتاؤ کہ پاکستان کے حالات اتنے ہی برے ہیں جو میڈیا پیش کرتا ہے؟
.
نہیں تنویر تم صحیح کہہ رہے ہو ایسا ہی ہے۔لیکن یہ فوج اور مولویوں کا کیا معاملہ ہے؟
.
فضل خان فوج ایک ایسا ادارہ ہے جو چٹان ہے۔اس چٹان کواپنی سے نہ ہلایا جاسکتا ہے نہ جھکایا جاسکتا ہے۔ملک دشمنوں کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ پاک آرمی اور اس پر عوام کا اعتماد ہے۔عالمی طاقتیں ہمارے جرنیل نہیں خرید سکیں تو انہوں نے یہ حل نکالا کہ عوام کو بدگمان کیجئے۔فوج اور ایجنسیوں کے خلاف پروپیگنڈہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔اسی طرح مولوی پاکستان کو اسلام کا قلعہ مانتا ہے۔پاکستان کو اللہ کاانعام کہتا ہے۔پاکستان کے لئے جان دینے سے بھی دریغ نہیں کرتا ۔اس پر بھی عوام اعتماد کرتی ہے ۔بس انہوں نے مدارس سے چند لوٹے خرید لئے اور ان لوٹوں سے مولوی کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے مدارس کے خلاف پروپیگنڈہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔اصل میں بنیادی مسئلہ ہی اسلام ہے۔مولوی کا پاکستان سے رشتہ ہی لاالہ الااللہ کا ہے۔اگر مولوی مشکوک ہوگا تو اسلام بھی مشکوک ہوجائے گا۔اور وہ عالمی طاقتیں اور ان کے خواری یہی چاہتے ہیں کہ ملٹری اور مولوی کو مشکوک بنایا جائے۔لیکن اللہ کا شکر ہے کہ عوام اللہ کے دین پر مرمٹنے والی ہے۔جب تک دین سلامت عوام کا مولوی اور فوج پر اعتماد و یقین سلامت۔
.
جزاک اللہ تنویر بھائی آپ نے میری کئ دنوں کی الجھن دو رکردی۔اللہ آپ کو جزائے خیردے۔آمین۔
۔
.
شیطان بھینسے۔
یار سن تیرے اکاؤنٹ میں پیسے آگئے؟
ہاں بلے پورے 50لاکھ آئے ہیں
رات کو پارٹی دے رہاہے نا
ابے ہاں دوں گا ٹینشن نہ لے۔
مشن کیا ہے۔اس بار
یار وہ بلوچستان کی تصاویر کو ایڈوب فوٹوشاپ کرنا ہے اور فوج کا ظالم دکھانا ہے۔
ارے بس اتناہی؟
نہیں یار سوشل میڈیا پرپوری کمپین چلانی ہے۔
۔
سنو پروفیسر انسانی حقوق کا واویلا کرو۔تحاریر لکھو۔جو کرنا ہے کرو ہم نے پاکستان۔اسلام، اور پاک آرمی کو بدنام کرنا ہے۔پیسے کا فکر مت کرو تم لاکھ مانگے گا ہم کروڑ دے گا۔
ٹھیک ہے کیری جیسا تم کہو۔کل پردھان سے بھی بات ہوئی ہے۔وہ چاہتے ہیں آئی ایس آئی کے خلاف کمپین چلائی جائے۔ہمیں 30لوگ ہائر کرنے ہوں گے۔جو فیک مواد کو حقیقی بنا کر پیش کریں۔
پروفیسر جو کرنا ہے کرو۔بس سی پیک کی تکمیل سے قبل ہمیں یہ سب کرناہے۔ان کا توجہ ڈائیورٹ کرنا ہے۔
۔
.
ہاں بھینسے پر ڈال دو۔
ارے بلی وہ موچی پر بھی ڈال دے۔
یار یہ پردھان کا فون ہے ۔
ہاں دوست۔بالکل بلو پر کام چل رہا ہے۔ارے اب کی بار دھانسو فوٹیج بنائی ہے۔تم بس پیسے ٹرانسفرکرو۔کسی کا باپ بھی ہم تک نہیں پہنچ سکتا۔
جانی ہم کو پیسہ چاہیے۔اس کے لئے اپنی ماں کو بھی بیچ دیں۔یہ وطن کیا شے ہے۔اور مسلمانوں سے تو ویسے بھی نہیں۔بنتی سالے شراب کو حرام بولتے ہیں۔ارے یہ تو زندگی ہے۔
.
.
دیکھو تم سب اتنا جان لو کہ اس وطن نے ہمیں‌کچھ بھی نہیں‌دیا ہے.آج ہم سب جو کچھ بھی ہیں‌اپنی محنت سے ہیں. ہمیں‌زندگی میں‌آگے بڑھنا ہے.پیسہ کماناہے.دنیا میں‌ملک بے شمار ہیں یہ نہ سہی کوئی اور سہی.ہمارے پاس پیسہ ہوتو ہم دنیا کے کسی بھی ملک میں جاکر سیٹل ہوسکتے ہیں.دنیا کے تین بڑے ملک ہم سے رابطے میں‌ہیں‌.تینوں کا کام ایک ہی ہے.لیکن پیسہ الگ الگ دے رہے ہیں.اسرائیل،بھارت اور امریکہ ہمیں‌فل سپورٹ کریں گے.اگر کبھی پکڑے بھی گئی تو یہ ہمارا کچھ نہیں‌کرسکتے .ہمیں‌بھی ریمنڈ‌ڈیوس کی طرح چھڑا لیا جائے گا.
لیکن ….
لیکن ویکن کچھ نہیں‌.ہم کو طے کرنا ہے کہ ہمیں‌پیسہ چاہیے یا پاکستان .ہمیں‌اپنی زندگی عزیز ہے یا پاکستان. ہمیں‌آزادی چاہیے یا اسلام.
.
اور سب نے بیک وقت کہا ہمیں‌پاکستان نہیں‌پیسہ چاہیے،.ہمیں‌پاکستان نہیں‌زندگی چاہیے.ہمیں‌اسلام نہیں‌آزادی چاہیے.
.
تو بس طے ہوگیا .آج سے پاکستان کے سب سے بڑے دشمن ہم ہیں‌اسلام کے سب سے بڑے دشمن ہم ہیں.ہم نے خوب پروپیگنڈہ کرنا ہے.عوام کو بدگمان کرنا ہے.فوج کا بدنام کرنا ہے.اسی کے ہمیں‌پیسے ملیں گے.ہم نے انسانیت کاراگ الاپنا ہے.لیکن کسی کوشک نہیں‌ہونے دینا کہ ہمارا ایجنڈا کیا ہے.
.
یہ کل 71 لوگ تھے.جو ملک بھر سے جمع ہوئے تھے. اس میٹنگ کا انتظام بیرونی طاقتوں‌نے کیا تھا.اس اجلاس میں‌”را”،”موساد”اور “سی آئی اے ” کے ایجنٹ بھی شامل تھے.ایک نکاتی ایجنڈا تھا .پاکستان کی تباہی اور اسلام کی بیدخلی. پاکستان اور اسلام کو بدنام کرنا.
..
.
عرض مولف ! عزیزقارئین کرام میں‌تنویر اعوان آپ سب سے مخاطب ہوں. اس افسانہ نما تحاریر میں‌تمام کے تمام کردار فرضی ہیں.یہ ایک فکشن ہے.اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں.لیکن ایسے کردار حقیقی زندگی میں‌جابجا ملیں‌گے.
میں‌نے حقیقی زندگی میں‌فکشن کا رنگ بھر کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے.اور دراصل یہ کہتے ہوئے افسوس ہورہا ہے کہ ایسا ہی حقیقت میں‌بھی ہوتا ہے.
اب ہمارے سامنے دوطرح‌کے لوگ ہیں.ایک پاکستان اور اسلام کے لئے مرمٹنے کو تیار ہے. دوسرا طبقہ پیسوں کیلئے اسلام اور پاکستان کو مٹانے کو تیار ہے.
فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ آپ کس کے ساتھ ہیں
پاکستان کے بیٹوں‌کیساتھ
یاپھر
شیطان بھینسے کیساتھ

Add Comment

Click here to post a comment