میرا نقطہ نگاہ

صوبیدارکی ٹِنڈ —ابوبکرآزاد


بادشاه کی رعیت میں ایک آدمی نے ٹنڈ کروائی تو اُس سے ایک آدمی نے وجه پوچھی تو اس نے کہا کہ بادشاه کا صوبیدار مرگیا هے اس کے صدمہ میں ٹنڈ کروائی هے اس آدمی نے بهی یکجہتی کے طور پہ اپنی ٹنڈ کروالی سلسلہ بسلسلہ دیگر لوگوں کی بھی ٹنڈیں هوتی گئی اور پورے علاقہ میں میں ٹنڈ ئی ٹنڈ نظر آرهے تهے آخرکار ایک بندے نے کہا که هم سب نے صوبیدار کے صدمہ میں ٹنڈ کروائے هیں ذرا معلوم کریں بادشاه سے صوبیدار کا کیا رشته تها ؟ پهلے ٹنڈو سے پوچھا تو اُس نے ہلکی سی سانس لے کر کہا کہ صوبیدار بادشاه کے کتے کا نام تها وه اچانک انتقال کر گیا اتفاق سے اُس دن میں نے ٹنڈ کروائی تهی ایک آدمی نے ٹنڈ کی وجھ پوچھی تو میں نے ایسے هی کہہ دیا کہ صوبیدار کے صدمہ میں کروائی هے… ، سب اپنا ٹنڈ پیٹ کے رہ گئے !
، لاعلمی بلکہ غلط معلومات کی بنیاد پہ کیسے لوگوں نے اپنی ٹنڈیں کروالیں وه شخص پهلے شخص سے اچهی طرح پوچھتا تو پورا علاقہ ٹنڈستان نه بنتا …..
یہی مرض اب هم میں بھی هے جو بھی سنتے هیں بغیر کسی تصدیق و تحقیق وه بات آگے چلاتے رهتے هیں اور غلط بات لاکهوں تک پهنچتی هے ..
گر کوئی پوچھے یه بات کس نے کی هے؟کس سے سنا هے؟ تو وه شخص کهے گا فلان نے مجھے بتایا ، اور اگر اس آدمی تک پهنچ بھی جائیں وه بھی اس بات کے صدق سے منکر هوجاتا هے….
هم سب لکیر کے فقیر بن جاتے هیں
همیں ان باتوں سے گریز کرنا چاهیۓ . جو بات هو پہلے تحقیق کیا کریں.
براءکرم بات سننے کے بعد جلدی سے معتقد نه بنیں بلکہ تحقیق کرلیا کریں