میرا نقطہ نگاہ

امت مسلمہ کی زبوں حالی کا نوحہ کس کے نام لکھوں؟-عائشہ غوری


امت مسلمہ اس وقت ظلم و بربریت کا شکار ہے ہر طرف کفار اور مشرکین کی توپوں کے
رخ پر نہتے معصوم بچے عورتیں نوجوان اور بوڑھے ہیں 57 اسلامی ممالک خاموشی سے
یہ سارا تماشا دیکھ رہی ہیں مدد کرنا تو درکنار کوئی آواز اٹھانے والا بھی
نہیں شام، فلسطین، کشمیر، برما، مصر، بنگلہ دیش جس طرف بھی نظر اٹھتی ہے مظالم
کا نہ رکنے والا سلسلہ ہے کہیں معصوم بچوں کو نیزے کی انیوں پہ اچھالا جارہا
ہے کہیں بیلٹ گن سے انکی پوری زندگی اندھیروں سے بھر گئی ہے کہیں فاسفورس بموں
سے انکی جانیں لے لی گئی ہیں اور جو زندہ بچ گئے ہیں معذوری عمر بھی انکا مقدر
بن گئ ہے ترکی کے علاوہ کسی نے مذمت کرنے اورآواز اٹھانے کی غیرت گوارہ نہیں
کی یو این او اور ڈبلیو ایچ او کو مسلمانوں کے نہتے اور معصوم لوگوں پر ہونے
والے مظالم نظر نہیں آتے اور آئیں بھی کیوں جب ہم سب کلمہ گو ہوکر انکے درد
کومحسوس نہیں کرتے تو وہ تو پھر بھی کافر ہیں سوال تو اسلامی ریاستوں سے بنتا
ہے سوال تو ہم سے بنتا ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں ہم کہاں کھڑے ہیں ایمان کے کس
درجے پر ہیں ہم؟ پیارے حبیب صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے امت مسلمہ کو ایک جسم
کی مانند بتایا تھا یہ کیسا جسم ہے جس کے اعضاءکٹ رہے ہیں الگ ہورہے ہیں مگر
نہ درد کا احساس ہے نہ زخموں پر رکھنے کے لئے کوئی مرہم ہم کب تک خاموش
تماشائی بن کر دیکھتے رہیں گے وہ تو شہید ہو رہے ہیں جنت کے حقدار ہیں مگر ہم
اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے مسلمانوں جاگو اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے موت
کا فرشتہ لقمہ اجل بن کر آجائے خدارا اٹھو اپنے حصے کا دیا جلاؤ امت مسلمہ کو
بچاؤ امت مسلمہ کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے اگر آج اسکو نہیں بچایا تو ہم تہی
دامن رہ جائیں گے خدارا اب اٹھ کھڑے ہو