میرا نقطہ نگاہ

انتخابی سیاست بجواب ڈاکٹر ظہیر بہرام–سردارجمیل خان


ڈاکٹر ظہیر بہرام صاحب نے میری تحریر “جماعت اسلامی اور جدید سیاست” کا علمی
اور منطقی جواب دینے کی اچھی کوشش کی ہے مگر زیادہ مناسب ہے کچھ مذید توضیع ہو
جاۓ۔۔-
—–
“اسلامی فرنٹ” قاضی صاحب کا قبل از وقت ایڈونچر ضرور تھا مگر اسکی وجہ سے
جماعت اسلامی کا پاکستان کے کونے کھدرے میں تعارف بھی ہوا۔ اسلامک فرنٹ کے
فورآ خاتمے کی وجہ سے عام ووٹر اور کارکن متنفر ہوا اور پھر 97 کے بائیکاٹ نے
جماعت کے متحرک کارکنان کو بھی بیک فٹ پر دھکیل دیا۔۔۔ سب سے بڑی سنگین غلطی
جماعت کے اس غیر سیاسی مولولی طبقے کی تھی جو 93 میں پی پی پی کی مخالفت میں
نواز شریف سے جا ملا اور اس نے جماعت کا ووٹر کنفیوز کیا۔۔۔ وہی طبقہ آج بھی
جماعت کے تحرک میں رکاوٹ ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
جماعت اسلامی محض ایک “اصلاحی تحریک” نہیں بلکہ سیاسی جماعت بھی ہے۔ بلاشبہ
درس و تدریس، تحریرو تقریر، خدمت خلق اور تربیتی پروگرامات کے زریعے لوگوں کو
انکے رب سے جوڑنا اور انکی اصلاح کرنا یقینا اللہ پاک کے نزدیک بہت بڑی کاوش
اور اجر عظیم ہے اور یہ سلسلہ تا قیامت جاری بھی رہنا چاھییے لیکن مسلہ یہ
درییش ہے کہ اگر آپ اسلام کے جمالات و کمالات سے، زبانی کلامی محنت سے 2 افراد
کو متاثر کرتے ہیں تو تمام تر طاقت سے سرشار اور حکومتی وسائل سے لیس اقتدار
پر قابض کرپٹ شیطانی ٹولہ اتنے ہی وقت میں 2 لاکھ افراد کو برباد کرتا ہے۔۔۔
جب تک ڈرائیونگ سیٹ آپ کے پاس نہیں آپ 70 سال تو کیا 70 ہزار سال بھی لگے رہیں
نہ آپ عوام کی اصلاح کر سکتے ہیں، نہ عوام کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کر سکتے
ہیں، نہ غریب، پسماندہ اور ضرورت مند افراد کو زیادہ عرصہ انقلاب کے خشک چورن
پر زندہ رکھ سکتے ہیں۔۔۔
اختیارات کے بغیر نہ آپ امربالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دے
سکتے ہیں، نہ حدود و قصاص کا نفاظ کر سکتے ہیں، نہ سودی نظام کے خاتمے کی
تدبیر کر سکتے ہیں اور نہ ہی اقامت صلواۃ و ایتاء زکواۃ کا نظام قائم کر سکتے
ہیں۔۔
اس سب کے لیے سیاست و اقتدار لازمی ہے اور اقتدار کے حصول کے لیے اپنے اصولی،
اخلاقی اور دینی تشخص کو برقرار رکھتے ہؤے خود کو ہر طبقہ فکر کے لیے قابل
قبول بنانا ہی دینی بصیرت اور سیاسی فہم و فراست ہے۔۔۔ اس کا یہ مطلب ہر گز
نہیں کہ آپ داڑھیاں منوا کر گلے میں گھٹار لٹکا دیں۔۔۔
انتخابی جمہوریت میں مولانا منور حسن، مولانا حمداللہ اور مولانا طارق جمیل کا
ووٹ اتنی ہی وقعت رکھتا ہے جتنی ہمایوں سعید، مائرہ خان اور مہوش حیات کے ووٹ
کی وقعت ہے۔۔۔ لہذا ضروری ھے کہ قبل از وقت شریعت اور اسلام کے نعرے لگانے اور
لوگوں کو مذھبی اور غیر مذھبی سیاست میں الجھانے کے بجاۓ عوام الناس کو کرپشن،
بیڈ گورننس، مہنگائی، کرپٹ سیاست زدہ اداروں،غربت، ناانصافی، جعلی انتخابی
نظام، وڈیرہ شاہی کے خلاف اور عوامی حقوق کی بازیابی کے لیے متحد کریں اور جب
اقتدار نصیب ہو جاۓ تو عوامی فلاح و بہبود کی تدابیر کے ساتھ ساتھ قرارداد
مقاصد اور آئین کی روشنی میں بتدریج اسلامائزیشن بھی کریں۔
۔۔۔۔۔۔
کیا عمران کے جلسے میں جانے والی لڑکیاں، سراج الحق کی ٹوپی، مولانا فضل
الرحمن کی پگڑی، نواز شریف کے پلانٹڈ بال، بلاول بھٹو کی اردو ھمارے مسائل
ہیں؟؟؟ یا ھمارے اصل مسائل کرپشن، غربت، جہالت، اقرباء پروری، بیڈ گورننس، دن
بدن بڑھتی مہنگائی، قرضوں کا بوجھ، لا قانونییت، میرٹ کا استحصال، جعل سازی پر
مبنی فرسودہ انتخابی نظام، کرپٹ سیاست زدہ ادارے، بجلی،پانی و گیس کا فقدان،
ناجائز تجاوزات، کھلے ہوۓ گٹر، جعلی ذاتیں/جعلی ڈگریاں/جعلی ادویات، شرمناک
شرح خواندگی، عدم تحفظ، قبضہ گروپ / چوری ڈکیتی ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔
آج پاکستان کہاں کھڑا ہے؟؟
غیر یقینی صورت حال، اقتدار کے نقب زن ٹرن کوٹ سیاستدان، بانجھ بنجربوجھ
بیوروکریسی، رشوت، سفارش، خوشامد اور موقع پرستی پر مبنی کلچر، دھشت گردی، ایک
دوسرے کی گردنیں کاٹنے کا چسکا، فتووں کی فروانی، فرقہ پرستی کی لعنت، منافقت
کے اہرام، لاوارث عوام۔۔۔
اور اس سب کا ذمہ دار کوئی ایوب خان، بھٹو، یحی، ضیاء، بے نظیر، نواز شریف،
مشرف اور زرداری ہی تو ہے۔۔۔
ان مسائل کو حل کرنے کے لیے کوئی مثبت اور سنجیدہ ڈبیٹ کرنے کے بجاۓ ہم تنقید
براۓ تنقید ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے، ذاتیات پر حملہ آوار ہونے جیسی قبیح
حرکیات کے مرتکب ہو رھے ہیں۔۔۔