شیر پر مرغی کی جیت—-احسن سرفراز


15310211_2000492290177576_598554640_n
جھنگ میں صوبائی اسمبلی کی نشست PP78 پر ضمنی الیکشن اپنے اختتام کو پہنچا. یہ نشست مسلم لیگ ن کی رکن اسمبلی راشدہ یعقوب شیخ کی نااہلی کی وجہ سے خالی ہوئی تھی. ضمنی انتخاب جوکہ عمومی طور پر حکومتی امیدواروں کا الیکشن ہی کہلاتا ہے اسمیں ایک نوجوان آزاد امیدوار مسرور نواز جھنگوی نے جو کہ مولانا حق نواز جھنگوی کے صاحبزادے ہیں اور انکا انتخابی نشان “مرغی” تھا غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق 48،563 ووٹ لیکر مسلم لیگ ن کے “شیر” ناصر انصاری کو 13000سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے ہرادیا،ناصر انصاری کے ووٹوں کی گنتی35،469 رہی.اس نشست پر پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے امیدوار بھی مقابلے پر تھے جو کافی کم ووٹروں کی توجہ حاصل کر پائے. اہم بات یہ تھی کہ مسرورنواز کو جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے دونوں دھڑوں سمیت راہ حق پارٹی جسکے اہم لیڈر مولانا احمد لدھیانوی ہیں کی حمایت حاصل تھی. مولانا احمد لدھیانوی جو کہ پہلے اس نشست پر خود بھی امیدوار تھے مسرور نواز جھنگوی کے حق میں دستبردار ہو گئے. اگر ہمیں اس حلقے کے حیرت انگیز رزلٹ کا جائزہ لینا ہے تو ہمیں جھنگ کی سیاست کے ماضی میں جھانکنا ہوگا، جہاں ہمیں نظر آتا ہے کہ جھنگ کی سیاست جاگیر داروں، سرمایہ داروں کے چنگل میں پھنسی ہوئی تھی، بدقسمتی سے اسمیں ایک مسلک کے جاگیر دار نمایاں تھے، اب ظاہر ہے جب پیسہ بھی ہو اور اقتدار بھی ہو تو رعونت آہی جاتی ہے، جسکی وجہ سے اس مسلک کے جاگیرداروں سے بے اعتدالیاں ہوئیں اور اپنے مسلک کی ایسی متنازعہ باتوں کو جو دوسروں کیلیے دلآزاری کا باعث تھیں سرعام مسلط کرنے کی کوشش کی گئی، جسکے نتیجہ میں مولانا حق نواز جھنگوی کی قیادت میں ردعمل کے طور پر موجودہ کالعدم سپاہ صحابہ کا وجود عمل میں آیا، جس کی تبلیغ جلد ہی پورے ملک میں پھیل گئی.سپاہ صحابہ کا ووٹر مخصوص مذہبی فکر رکھنے والا اور جھنگ کے تناظر میں جاگیر داروں اور سرمایہ داروں سے نفرت کرنے والا دونوں طرح کی سوچ کا مالک ہے. مولانا حق نوازجھنگوی کےمعاشی طور پرعام سے بیٹے کو پڑنے والے ووٹوں میں ان تمام عناصر نے اپنا کردار ادا کیا اور اگر امیدوار کوئی اور ہوتا تو رزلٹ شائد بالکل مختلف ہوتا.جہاں اس رزلٹ پر مسرور نواز جھنگوی کی حمائت کرنے والی مذہبی جماعتیں نازاں ہیں اوراسےمذہبی اتحاد کی جیت قرار دے رہی ہیں ، وہیں لبرل اور مسرور نواز سے مخالف سوچ رکھنے والا مذہبی طبقہ ماتم کناں ہے اور اسے انتہا پسندی اور دہشتگردی کی جیت قرار دے رہا ہے. میرے نزدیک تکفیریت اور دوسرے کے مسلک کے ہیروز پر تنقید ایک زہر ہے جسکا تریاق برداشت اور مشترکات کا فروغ ہے. اس وقت پوری دنیا میں شیعہ سنی تقسیم کو مزید گہرا کرنا اور اسے قتل و غارتگری کے درجہ تک پہنچانا استعمار کا ایک ایسا کھلا منصوبہ ہے جسکا ادراک ان دونوں مسالک کو کر لینا چاہیے ورنہ یہ آگ تمام مسلم ممالک کو جلا کر خاکستر کر دے گی ،کسی مسلک کے حصے کچھ نہیں آئے گا اور نقصان ہی امت محمدیہ کے حصے میں آئے گا. آج اس تقسیم کے اثرات ہمارے معاشرے میں دوبارہ جڑ پکڑتے جا رہے ہیں ،فرقہ وارانہ دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ، ایکدفعہ پھر خوفناک حقیقت بن کر ہمارے سامنے ہیں.دریں حالات کسی بھی سوچ رکھنے والے طبقے کا سیاسی عمل کا حصہ بننا اور مسائل کو مکالمے کے زریعے حل کرنے کا جذبہ خوش آئند ہے اور اسکی حوصلہ افزائی ہونا چاہیے. پاکستان کے تناظر میں آج بھی MMA طرز کا اتحاد جوکہ تمام مسالک کا ایک خوبصورت گلدستہ بن کر سامنے آیا تھا اسکے احیاء کی دوبارہ اشدضرورت ہے، خواہ اس اتحاد کو سیاست سے بالاتر ہو کر ہی بنا لیا جائے(لیکن میں سمجھتا ہوں اسے سیاسی بھی ہونا چاہیے) مسلے کا حل بن سکتا ہے. فرقہ واریت کی آگ پر جس طرح بھی اور جس حد تک بھی قابو پایا جاسکے وقت کی آواز ہے اور اسے ہم جتنی جلد سن لیں وہ ہمارے ملک و ملت کے لیے بہترہے.
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلیے
نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *