اگرعمل میں‌فیل ہوئے تو—راؤاسامہ منور


یہ واقعہ اس وقت کا ہےجب میں میٹرک کررہا تھا. سالانہ امتحان ہورہےتھے، غالباً تیسرا پرچہ چل رہا تھا کہ اچانک میری نگاہ ساتھ والے لڑکے کے پیپر پہ پڑی، مجھےیہ دیکھ کہ افسوس ہوا کہ وہ لڑکا بالکل غلط طریقہ سےپرچہ حل کررہا تھا، میں نےابھی بیس میں سےصرف تین سوالات حل کیے تھے لیکن اس لڑکے کو پیپر غلط حل کرتا دیکھ کر میں رہ نہ سکا اور اپنا پیپر چھوڑ کر اس کےپاس جا پہنچا، میں نےاسے کہا کہ تم سارا پیپر غلط کر رہے ہو اور ساتھ ہی غلطیوں کی نشاندہی بھی کردی۔ اپنے تئیں میں نے ایک بہترین کام کیا تھا کہ ایک غلطی کرنے والے کی مدد کی۔

لیکن اس وقت میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب وہ لڑکا آگے سےبحث کرنےلگا اور الٹا مجھے ہی غلط قرار دینےلگا، اس کا کہنا تھا کہ پیپر وہ نہیں میں غلط حل کررہا ہوں. مجھےاس کی بات پہ شدید غصہ آرہا تھا کہ ایک تو میں اپنا پیپر چھوڑ کر اس کی مدد کررہا ہوں اوپر سےوہ غلطی نہیں مان رہا. اتنی دیر میں ڈیوٹی پہ موجود نگران وہاں پہنچ گیا، اس نےمجھے تنبیہ کی کہ میں اپنا پرچہ حل کروں اور اس لڑکےکو اس کےحال پہ چھوڑ دوں، مجھے افسوس ہورہا تھا کہ وہ لڑکا پرچہ غلط حل کررہا ہےاور فیل بھی ہوسکتا ہے، اس لیےمیں نےنگران کی بات پہ کان نہ دھرے، نتیجتاً اس نےمیرا پرچہ چھینا اور مجھےباہر نکال دیا، رزلٹ آیا تو میں اس پرچہ میں بری طرح فیل ہوچکا تھا.
(ایک بیوقوف)

میرےعزیزو!!! یہ بیوقوف قیامت کےروز میں اور آپ بھی ہوسکتےہیں، آج کل 12 ربیع الاول (عیدمیلادالنبی) کےحوالہ سےبہت کچھ لکھا، پڑھا اور سنا جارہا ہے، منانےوالے اور نہ منانےوالے دونوں ہی پرزور دلائل دےرہےہیں.
لیکن میری عرض صرف اتنی ہےکہ جو یہ عید منانا چاہتےہیں منائیں جو نہیں منانا چاہتےنہ منائیں، ہمیں یہ فکر نہیں ہونی چاہیےکہ فلاں کیوں منا رہا ہےیا فلاں کیوں نہیں منا رہا. خدانخواستہ قیامت کےروز ہم سےبھی یہ سوال ہوسکتا ہےکہ تم تو خود امتحان گاہ میں تھے پھر تمہیں اپنی بجاۓدوسروں کےامتحان کی اتنی فکر کیوں تھی؟ اور اللہ نہ کرے اگر اس میں فیل ہوگئے تو دوزخ کے گڑھے بھی ہمارا مقدر بن سکتے ہیں.

نوٹ: اس پوسٹ میں توجہ ان لوگوں کو دلائی گئی ہےجن کے اپنے اعمال ہی درست نہیں ہوتے اور وہ دوسروں کے ہر کام پہ تنقید کرنا اپنا فرض سمجھتےہیں، فریضۂ اقامتِ دین اور امربالمعروف پہ یقین رکھنےوالےباعمل مسلمان اس سےماوراء ہیں.


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *