میرے مطابق

روسی سفیر کا قتل اور ترکی کی شرمندگی–سردارجمیل خان


شدت پسندی ساری مسلم دنیا کو بتدریج ہانک کر تباہی کے دھانے تک لے آئی ہے جسکا
اختتام ایک رسوا کن اجتماعی موت ہے۔۔۔
حلب کو بنیاد بنا کر اپنے غلط اقدام کا جواز تراشنے والے یہ کیوں بھول جاتے
ہیں کہ حلب کی بربادی کے ذمہ دار ایران، روس اور شامی فورسس ہیں تو ذمہ دار
داعش بھی ہے۔۔۔۔
شدت پسندی اور مذھبی انتہا پسندی جہاں بھی بلا تخصیص سنی/ شیعہ (افغانستان،
پاکستان، یمن، عراق، شام) اور جس شکل میں بھی (القاعدہ، داعش،طالبان،حزب اللہ)
موجود ہے مسلمانوں کی تکالیف اور ذلت میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔۔۔
میڈیا کی چالاکی اور ملاؤں کی جذباتیت و حماقت نے اسلام کو کٹہرے میں کھڑا کر
دیا ہے اور ایک ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے جیسے ھٹ دھرمی، مسلک پرستی، عدم
برداشت، انتہاپسندی، ظاہری حلیے اور فتوی بازی کا نام ہی “اسلام” ہے۔۔۔
المیہ یہ ہے کہ جدید اسلامی تحریکیں بھی شدت پسندوں کی وکالت کرتے نظر آتی ہیں
نتجتآ عوام جماعت اسلامی جیسی دیانتدار جمہوری جماعتوں کے مقابلے میں کرپٹ
لبرلز کو ترجیع دینا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں