اسلام میرے مطابق

اہل مدارس سے دوباتیں–عادل لطیف


اہل مدارس سے دو باتیں
مدارس عربیہ میں ہفتہ میں ایک بار بزم کی محفل سجتی ہے جس میں مدرسہ کے طلبہ تقریریں کرتے ہیں بزم سے مقصود طلبہ کے اندر اظہار ما فی الضمیر کو بیان کرنے کا طریقہ سکھانا ہے اظہار ما فی الضمیر کے بیان کرنے میں طلبہ کی جھجک دور کرنا ہے تانکہ جب وہ اپنی عملی زندگی میں دعوت الی اللہ کا کام کریں تو انکو کوئی پریشانی نہ ہو لیکن اصل بات یہ ہے کہ طلبہ بزم میں تقریر کرنے کے لیے مواد کہاں سے لاتے ہیں ان کا مبلغ علم کیا ہوتا ہے مشاہدہ یہ ہے کہ طلبہ کسی بھی نامور خطیب کے مجموعہ خطبات سے بزم سے ذرا کچھ پہلے رٹہ لگاتے ہیں اور بزم میں آکر فر فر اسکو سنا دیتے ہیں اس سے نہ انکو کوئی فائدہ ہوتا ہے اور نہ ہی سننے والوں کو افسوس صد افسوس جن لوگوں کو دقیقہ بین ہونا چاہیے تھا وہ سطحی بنتے جا رہے ہیں
تقریر کے مواد کی تیاری میں اساتذہ کو طلبہ کی رہنمائی کرنی چاہیے اور اسکی صورت یہ ہو کہ اساتذہ اپنی نگرانی میں براہ راست طلبہ کو قرآن وحدیث سے مطالعہ کرنے کی طرف متوجہ کریں اور اس کی صورت یہ ہو کہ طالبعلم کو ایک آیت مبارکہ دے دی جائے اگر طالبعلم حافظ ہے تو ٹھیک اگر غیر حافظ ہو تو سب سے پہلے آیت کا صحیح تلفظ اور ترجمعہ اس کے بعد طالبعلم کی استعداد کے مطابق کسی تفسیر سے اس آیت کا ترجمعہ اور تشریح مطالعہ کرنے کو کہا جائے اور طالبعلم سے بنیادی پوائنٹ بھی تحریرا نوٹ کروالیے جائیں سال میں 52 ہفتے ہوتے ہیں، زیادہ نہیں اگر صرف 25 ہفتے اسطرح مطالعہ کیا تو 25 آیات کا ترجمعہ وتشریح طالبعلم کے پاس وہ ہوگا جو اس نے خود تحقیق وجستجو کے بعد حاصل کیا ہے اور اس تحقیق پر الگ سے کوئی وقت بھی صرف نہیں کرنا پڑے گا اگرچہ یہ کام ہے تو محنت طلب لیکن اس کے فوائد بہت ہیں
(1) براہ راست قرآن کریم سے مطالعہ کرنے کی صورت میں طلبہ کی علمی صلاحیت واستعداد بڑہے گی اور علم میں نکھار پیدا ہوگا
(2) براہ راست قرآن کریم کے مطالعہ سے قرآن کریم ان کے قلوب پر اثر کرے گا جس کا بنیادی نتیجہ یہ ہوگا کہ طلبہ کا باطن سنور جائے گا
دوسری بات
جس طرح زبان کے ذریعہ سے اظہار ما فی الضمیر بیان کیا جاتا ہے بلکل اسی طرح قلم کے ذریعہ سے بھی اظہار مافی الضمیر بیان کیا جاتا ہے موجودہ دور کے حالات کے تناظر میں طلبہ میں لکھنے کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور پہر انکے اندر لکھنے کی صلاحیت کو پیدا کرنا یہ وقت کی اہم ضرورت ہے دور حاضر میں پرنٹ میڈیا کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے سیکولرازم،لبرل ازم اور الحاد کا عفریت منہ کھولے کھڑا ہے اسلام کی وہ تعبیر پیش کی جا رہی ہے جس کا دور تک بھی اسلام سے کوئی تعلق نہیں سوال کی حرمت کا سوال ہے کہ کر اسلام کے ہر عقیدے پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں ان دگرگوں حالات میں طلبہ کے اندر قلمی طاقت کا پیدا کرنا نہایت ہی ضروری ہے تانکہ وہ اپنی قلمی طاقت سے اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کریں اسی فیسبک پر مشاہدہ کر لیا جائے کہ چند گنے چنے علماء کرام ہیں لیکن اپنے قلم کی طاقت سے اسلام دشمنوں کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں اور اب اسلام دشمن عناصر اقدام تو کیا کریں گے وہ اپنے دفاع کے قابل بھی نہیں رہیں ہیں قلمی طاقت کو پیدا کرنے کے لیے سب سے پہلے اساتذہ کو میدان عمل میں آنا ہوگا مدارس عربیہ میں اس طرف بلکل بھی توجہ نہیں ہے طلبہ کو تو چھوڑیے اساتذہ میں سے کوئی ہوتا ہے جو لکھنا جانتا ہے اس لیے سب سے پہلے اساتذہ کو اپنے اندر قلمی طاقت پیدا کرنا ہوگی پہر یہ قوت بچوں میں منتقل کرنا ہوگی اور اسکی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ مدارس میں طلبہ کی کثرت اور وقت کی قلت کی وجہ سے سب طلبہ بیک وقت بزم میں تقریر نہیں کر سکتے اس لیے طلبہ کے دو گروپ بنا دیے جائیں ایک گروپ تقریر کرے گا دوسرا گروپ تحریر لکھے گا ورنہ وہ طلبہ جن کا تقریر کا نمبر نہیں ہوتا ہے وہ فارغ ہونے کی وجہ سے دوسرے طلبہ کے کام میں مخل ہوتے ہیں اگر مخل نہ بھی ہوں تو انکا وقت تو ضائع ہوتا ہی ہے اس سے سب طلبہ مشغول ہو جائیں گے اور وقت بھی ضائع ہونے سے بچ جائے گا اگر اس طرز پر محنت ہو جائے تو اللہ تعالی کی ذات سے قوی امید ہے کہ جب یہ طلبہ مدرسہ سے فارغ ہو کر اپنی عملی زندگی کا آغاز کریں گے تو بہت سی ان مشکلات سے بچ جائیں گے جن میں عموما آج کل کے فارغ التحصیل پھنسے ہوئے ہیں.