میرے مطابق

جماعت اسلامی اور جدید سیاست–سردارجمیل خان


اعتراض آتا ہے کہ کیا ہم مسلم لگ، پپلزپارٹی، ایم کیو ایم اور اے۔این۔پی جیسے ہو جائیں؟؟ عرض ہے کہ مسلم لیگ ن، پپلزپارٹی، ایم کیو ایم اور اے این پی وغیرہ جمہوری سیاسی جماعتیں ہیں ہی نہیں بلکہ موروثی کلب ہیں جن کی تمام تر سیاست کا دارو مدار کرپشن، جعل سازی، نوسربازی، دھونس، دھاندلی، نا انصافی، اقرباء پروری، لوٹ کھسوٹ، خرید و فروخت اور غنڈہ گردی سے عبارت ہے۔۔۔ کوئی لسانیت کا چورن بیچتا ہے توکوئی نسل و علاقے کا۔۔۔۔
مذھبی جماعتوں کا حال بھی کچھ مختلف نہیں ہے بیشتر مذھبی لیڈر باپ دادا کی گدیوں پر قابض ہیں۔۔۔۔
بلاشبہ جماعت اسلامی ایسی خامیوں سے محفوظ ہے اور اگر جماعت اسلامی بھی یہی حرکتیں کرنے لگے اور لوگ جماعت سے بھی ایسی ہی سیاست کی توقع رکھتے ہوں تو پھر جماعت کی کشتی ہی کیوں؟؟؟ جو دیدہ زیب رنگین کشتیاں پانی کے بہاؤ پر بہہ رہی ہیں انھی میں کیوں نہ منتقل ہو جائیں؟؟؟
٭دراصل عوام الناس قدامت پسند اور شدت پسند طالبانیت نہیں بلکہ ایک ایسی دیانتدار ماڈرن اسلامی جمہوری تحریک چاھتے ہیں جو جدید دنیا کے بدلتے تقاضوں کے مطابق عوام کی رہنمائی کرسکے٭۔۔۔
جماعت اسلامی ابھی تک قدامت پرست مائنڈ سیٹ کے ساتھ ابو بن ادھم رح کے دور میں جی رہی ہے۔۔۔ اگر مائینڈ سیٹ کی تبدیلی اور جدید ویژنری سوچ کا مطالبہ کیا جاۓ تو جواب ملتا ہےکیا ہم “اسلام” چھوڑ دیں؟؟؟ تو جواب میں ہم بھی کہتے ہیں کہ کیا طیب اردغان، مہاتیر محمد، راشد التنوشی نے “اسلام” چھوڑ دیا؟؟؟ جناب اسلام نہیں ملائیت چھوڑ دیجیے۔۔۔
کیا عام ووٹر کی نظر میں جماعت اسلامی بھی جے۔یو۔آئی، جے یو پی، سنی تحریک، وحدت المسلین اور جمیت اہلحیث جیسی مذہبی ملاں جماعت نہیں ہیں؟؟؟ کیا ملاں پارٹی کا ٹیگ لگوا کر ایسے معاشرے میں سیاست ممکن ہے جہاں سیاست فرقہ اور مسلک کی آلودگیوں میں لتھڑی ہوئی ہو؟؟؟ کیا یہ بہتر نہیں کہ جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے دعوت، درس و تدریس اور خدمت کا کام کیا جاۓ جبکہ سیاست کے لیے “اسلامک فرنٹ” طرز کا کوئی پلیٹ فارم ہو”؟؟؟ اور یہ فرنٹ جماعت اسلامی کی شوری اور عاملہ کو جواب دہ ہو۔۔
پھر اعتراض آتا ہے کہ “اسلامک فرنٹ” کا تجربہ ناکام ہو چکا ہے مگر کوئی بھی سقراط اسلامک فرنٹ کی ناکامی کی وجوہات پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔۔
اسلامک فرنٹ کی ناکامی کے بنیادی اسباب یہ تھے کہ جب قوم واضع طور پر پپلزپارٹی اور اینٹی پپلزپارٹی میں منقسم تھی ایسے موقع پر اسلامک فرنٹ کے قیام کا وقت ہی نا مناسب تھا۔۔ قوم کی اس تقسیم کی اصل ذمہ دار بھی جماعت اسلامی کی لیڈرشپ ہی ہے جس نے 1971 سے 1993 تک سیاسی انداز میں پپلزپارٹی کا مقابلہ کرنے کے بجاۓ مذھب کو ڈھال بنایا۔۔
فتوی بازی، نفرت، حقارت، جذباتیت اور مذھبی بنیادوں پر چھوٹی و بڑی برائی کے غیر سیاسی و غیر منطقی فلسفے نے پپلزپارٹی کو تو کوئی خاص نقصان نہیں پہچایا البتہ جماعت اسلامی کے ورکرز، ووٹرز اور ہم خیال رائٹرز بڑی برائی کا روستہ روکنے کے چکر میں برائی اور کرپشن کے باپ کے ساتھ جا کھڑے ہوۓ۔۔
عام ورکرز اور ووٹر تو گئیے ہی جماعت اسلامی کے اہم ترین راہنماؤں مولانا گوھر الرحمن، نعیم صدیقی، مدیر تکبیر صلاح الدین، حکیم سہارنپوری، مصطفی شاہین سمیت سیکڑوں مولانا صاحبان قاضی صاحب کے خلاف خم ٹھونک کر میدان میں آ گیئے۔۔
رہی سہی کسر دوبار کے الیکشن بائیکاٹ نے پوری کر دی۔۔
مکرر عرض ہے کہ جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم کو دعوت و تبلیغ، درس و تدریس اور خدمت خلق کے کاموں کے لیے مختص کیا جاۓ جبکہ سیاسی سرگرمیوں کے لیے ایک ایسے فرنٹ کا قیام عمل میں لایا جاۓ جہاں ہر مکتبہ فکر کے دیانتدار لوگوں اور جماعتوں کو اکٹھا کر کے “ترازو” کے انتخابی نشان سے الیکشن میں حصہ لیا جاۓ۔۔
پپلزپارٹی طبعی عمر پوری کر چکی ہے، نواز شریف ڈھلوان کے سفر میں ہیں اور پی ٹی آئی کی زندگی بس عمران کی زندگی تک ہے۔۔
لہذا روایتی مذھبی سیاست کے خول سے نکل کر عوامی انقلابی سیاست کی طرف قدم بڑھانے کا سنہری موقع ہے۔۔