اسلام پاکستان میرا نقطہ نگاہ میرے مطابق

کشمیریوں اور پاکستانیوں کے رشتے کی بنیاد۔ اعزاز احمد کیانی


گفتار سیاست میں وطن اور ہی کچھ ہے
ارشاد نبوت میں وطن اور ہی کچھ ہے اقبال
ریاست کشمیر قدیم وجود کی حامل ریاست ہے جس پر مختلف ادوار میں مختلف اقوام نے حکومت کی، تقسیم ہند کے وقت کشمیر پر سکھوں کی حکومت قائم تھی۔ تقسیم ہند کے وقت کشمیر کے حتمی مستقل کا کوئی واضح فیصلہ نہ ہو سکا اور یوں ایک کشمیر ی ریاست دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ ایک حصہ پاکستان جبکہ دوسرا حصہ ہندوستان کے زیر انتظام چلا گیا۔
اس وقت اگرچہ کشمیر دو مختلف ممالک کے زیر انتظام ہے لیکن کشمیر کے دونوں حصوں میں دو باتیں بلکل مشترک ہیں اول یہ کے دونوں حصے اپنے حتمی مستقبل اور حقیقی شناخت سے محروم ہیں اور دوم یہ کہ کشمیر کے دونوں حصوں میں مرکز کی سیاسی جماعتوں کا خاصا اثر و رسوخ ہے بلکے اکثر و بیشتر اقتدار بھی مرکزی جماعتوں کو ہی حاصل رہتا ہے۔
اگر کشمیر کے مستقبل کی بات کی جائے تو عقلی اعتبار سے کشمیر کے مستقبل کی چار صورتیں ہیں اول یہ کشمیر کی موجودہ صورت کو ہی حتمی تسلیم کر لیا جائے اور کشمیر کا جو جو حصہ جس ملک کے پاس ہے اس پر اسی ملک کا ہی مستقل حق تسلیم کر لیا جائے، دوم یہ کہ کشمیر کے دونوں حصے ہندوستان میں شامل کر دیے جائے، سوم یہ کے پورے کشمیر کو پاکستان میں شامل کر دیا جائے اور چہارم یہ کہ پورے کشمیر کی مکمل آزادی کے بعد کشمیر کی ایک خودمختار ریاست قائم کر لی جائے۔ لیکن اول الذکر دونوں صورتیں دو و جوہات کی بنیاد پر نا ممکن ہیں۔ وجہ اول یہ کہ کشمیری عوام اور کشمیری سیاسی جماعتیں ہندوستان سے الحاق کی کسی بھی صورت کو قطعا تسلیم نہیں کرتیں اور دوم یہ کہ اگر موجودہ صورت کو حتمی صورت تسلیم کرنے کے بارے میں کہیں بھی کوئی نرم گوشہ پایا جاتا تو ان بہتر سالوں میں کشمیر کے تنازع کا حل ضرور ضرور نکل آیا ہوتا لیکن عملا ایسا نہیں ہے بلکہ کشمیر کا تنازع تا حال حل طلب ہے۔ لہذا کشمیر عوام اور کشمیر کی سیاسی جماعتوں کے مجموعی رحجان اور عمومی رائے کو مد نظر رکھتے ہوئے کشمیر کے مستقل حل کی دو ہی ممکنہ صورتیں ہیں یعنی پاکستان سے الحاق یا خودمختارر ریاست۔
کشمیری عوام میں پاکستان کے بارے میں دو طرح کی رائے پائی جاتی ہیں ، ایک طبقہ ان لوگوں کا جو کشمیر کی آزادی اور خودمختاری کی آڑ میں نہ صرف پاکستان سے بغض رکھتے ہیں بلکے باقاعدہ پاکستان مخالف ذہنیت کے حامل ہیں اور دوسرا طبقہ ان لوگوں کا ہے جو نہ صرف پاکستان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں بلکے پاکستان کے خیر خواہوں میں سے ہیں۔ راقم الحروف اگرچہ کشمیری ہے لیکن اپنا شمار بہر حال دوسرے طبقے کے لوگوں میں ہی کرتا ہے۔لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر پاکستان اور کشمیر کے مابین تعلقات کی حقیقی بنیاد کیا ہے؟ میرے نزدیک مشترکہ مذہب یا مشترکہ نظریہ کی بنیاد کے مقابل دوسری کوئی بنیاد ایسی نہیں ہے جس پر مختلف اقوام کے مابین مستحکم رشتہ اور دائمی مقاربت کو قائم کیا جا سکے، لہذا پاکستان اور کشمیر کے مابین تعلقات کی حقیقی بنیاد فقط مذہب ہی ہے۔ مذہب کی بنیاد دور حاضر کی دوسری تمام بنیادوں سے نہ صرف قوی تر ہے بلکے عارضی تجارتی و اقتصادی معاہدوں کی طرح نہ وقتی ہے اور نہ ہی حا لات اور مفادات کے تابع ہے۔ یہ وہی بنیاد ہے جس پر پاکستانی عوام فلسطینی عوام کے حق میں یوم القدس بناتے ہیں، برما کے مسلمانوں کی نسل کشی پر مظاہرے اور احتجاج کرتے ہیں، بنگلادیشی ریاست کی ناانصافیوں اور چیرہ دستیوں پر سڑکوں پر نکل آتے ہیں، ہندوستان کے مسلمانوں کے مصائب پر وہاں کے مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں غرضیکہ کہ یورپ سمیت دنیا میں کہیں بھی جب مسلمانوں کے مذہبی حقوق چھینے جاتے ہیں تو پاکستان کے مسلمانوں میں بے چینی اور تشویش پیدا ہوتی ہے۔
پاکستان سے بدظن لوگوں میں اکثریت نیشنلسٹوں کی ہے جن کے نزدیک فرد و ملت کا کل سرمایہ وطن ہے۔ نیشنلزم دراصل یورپی و مغربی اقوام کا تراشیدہ متبادل نظریہ ہے،جو مذہب کو انفرادی زندگیوں اور عبادت گاہوں تک محدود کرنے کے بعد عوام میں یکجہتی اور ہم آہنگی پیدا کرنے کی فکر کا نچھوڑ ہے، لیکن نیشنلزم کے اقرار و تصدیق کے بعد اقوام کے مابین تعلقات کی واحد بنیاد عارضی و وقتی تجارتی اور اقتصادی معاہدے قرار پاتی ہے۔تجارتی و اقتصادی معاہدے اور مذاکرات فقط حکومتی اور سفارتی سطح پر تعلقات میں قدرے بہتری لا سکتے ہیں،اس لیے کے اقوام کے مابین تعلقات کی حقیقی نوعیت عوام کی عوام کے ساتھ ذہنی و قلبی وابستگی ہے جو کہ ظاہر ہے تجارتی و اقتصادی معاہدوں سے بہرحال ممکن نہیں ہے۔
پاکستان پر پہلا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ مسلۂ کشمیر پاکستان کی عدم توجہی کا شکار ہے اور مسلۂ کشمیر پر عملی پیش رفت کے بجائے محض روایتی بیان جاری کیے جاتے ہیں ، اس ضمن میں راقم اس اضافے کے ساتھ ساتھ ان کا ہم زبان ہے کہ پاکستان کی طرح کشمیر میں بھی مسلۂ کشمیر عدام توجہی کا شکار ہے اور کشمیر کی سیاسی جماعتوں کا تصور سیاست بھی ذاتی و سیاسی مفادات اور ووٹ و اقتدار تک محدود ہے۔ میرے نزدیک مسلۂ کشمیر پر عدم توجہی اور دیگر دوسری نوعیت کے مسائل کی بنیادی وجہ پاکستان و کشمیر میں عالی قیادت کا فقدان ہے۔
پاکستان پر دوسرے اعتراض کو کشمیریوں کی حق تلفی سے موسوم کیا جاتاہے۔ عام عوام میں اکثر و بیشتر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ جب کشمیر میں موجود منگلا ڈیم کشمیر کی ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرتا ہے تو آخر کشمیر کو بجلی سے کیوں محروم کیا جاتا ہے اور کشمیر میں لوڈ شیڈنگ کیوں کی جاتی ہے؟ میرے نزدیک یہاں ایک بنیادی اصول سمجھ لینا ضروری ہے کہ کسے خطے میں دریاوں کے بہنے یا قدرتی ذخائر کے ہونے میں کسی خطے یا حکومت کا کوئی کمال نہیں ہے بلکے یہ قدرت کی نعمتیں ہیں ، حکومت زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتی ہے کہ ان ذخائر کو بہترین استعمال میں لا سکتی ہے۔ منگلا ڈیم سے پیدا ہونے والی بجلی کی بہترین صورت یہی تھی کے یہاں سے پیدا ہونے والی بجلی کو مجموعی پیداوار میں شامل کیا جائے اور مجموعی پیداوار سے تمام علاقوں یا ضوبوں کو بجلی کی ترسیل کی جائے۔ اگر اس اصول یعنی منگلاڈیم سے پیدا ہونے والی بجلی پر صرف کشمیر کا حق ہے کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر گندم اوراس جنس کی تمام چیزوں پر پنجاب اور سوئی گیس اور دیگر اہم قدرتی ذخائر پر بلوچستان کا حق تسلیم کرنا پڑھے گا۔ لیکن ظاہر ہے ایسی کوئی بھی تفریق کسی بھی قوم کے حق میں قطعا سود مند نہیں ہے، اس تفریق سے نہ صرف پاکستان و کشمیر کے تعلقات تنزلی کا شکار ہوتے ہیں بلکے عالمی سطح پر مسلۂ کشمیر کو بھی نقصان پہنچتا ہے ۔
پاکستان پر تیسرا اعتراض ایل او سی پر پر فا ئرئنگ سے شہید ہونے والے کشمیریوں کے ضمن میں کیا جاتا ہے۔لیکن اگر پاکستا اور کشمیر کے مابین تعلقات کی حقیقی نوعیت کو سمجھ لیاجائے تو یہ اعتراض بھی باقی نہیں رہتا ،اسلیے کہ ایل او سی پر شہید ہونے والا چاہے فوجی ہو یا سویلین بہرحال شہید ہونے والا پہلے مسلمان اور پھر ایک پاکستانی ہے۔ اسلامی نقطہ نگاہ بھی سے فوجی و سویلین کی جان کی حرمت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اسی ضمن میں اکثر و بیشتر پاکستانی فوج کوبھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ حالانکہ پاکستانی فوج ان علاقائی تضادات سے بالا تر پاکستان کا ایک دفاعی ادارہ ہے، جو پاکستانیوں اور پاکستانی سرحدوں، کشمیر یوں اور کشمیری سرحد کی نہ ضرف محافظ ہے،بلکے پاک فوج کے جوان پنجاب کے گرم میدانوں سے آکر کشمیر کے یخ پہاڑوں میں اپنی جانوں کی قربانی دیتے ہیں۔ اس سرفروشی کی ظاہری بنیاد تو اگرچہ ملازمت کے لوازمات ہین لیکن حقیقی و باطنی بنیاد بہر حال اسلام کا تصور شہادت ہی ہے۔
پاکستان اور کشمیر کے مابین تعلقات کی حقیقی نوعیت کو سمجھ لینے کے بعد کشمیر کی آزادی کا سوال اور بھی اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے لیکن میرے نزدیک یہاں تین نقات اہم ہیں۔ اول یہ کہ کشمیر کی خودمختار ریاست کے قائم ہونے سے بھی پاکستان اور کشمیر کے مابین تعلقات کی بنیاد تو بہرحال تبدیل نہیں ہوتی۔ دوم یہ کہ ہندوستان کے زیر انتطام کشمیر آزادی کا پہلا حق دار ہے، جہاں کے باسی حقیقی معنوں میں غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں، جہاں ہندوستان کی سات لاکھ سے زائد فوج سالوں سے ڈیرے ڈالے ہوئے ہے، جہاں بچے اور عورتیں تک محفوظ نہیں ہیں، جہاں مسلسل کرفیو اور پابندیوں کے باعث اشیاء خردنوش تک کی قلعت ہو جاتی ہے، جہاں مذہبی اجتماعت پر پابندں لگا دی جاتی ہیں غرضیکہ جہاں غلامی کے تمام مظاہر اپنے عروج پر ہیں۔
سوم یہ کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حتمی مستقبل کا فیصلہ تو عوام نے کرنا ہے لیکن ایک بات جسکا با چشم سر مشاہدہ اور عمومی تجزیے کیا جا سکتا ہے کہ کشمیر عوام کی ایک عظیم اکثریت نہ صرف یہ کہ پاکستان سے مطمئن ہے بلکے ہزاروں لوگ مختلف نواع کی ملازمتوں کے لیے پاکستان کے مختلف شہروں کا رخ کرتے ہیں، ہزار ہا طلبہ ہیں جو پاکستان کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ایک طویل فہرست ہے ان لوگون کی جو مستقل پاکستان منتقل ہو چکے ہیں اور کشمیر سے انکا محض ثانوی و جزوی تعلق باقی رہ گیا ہے اور ایسے لوگوں کا تو شمار ہی نہیں جو آئے روز اپنے ذاتی کاموں کے لیے پاکستان کے شہروں کا رخ کرتے ہیں ، تو گویا پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی عوام کے مابین حقیقی تعلق پایا جاتا ہے ، جہان تک آزاد کشمیر کی خودمختاری کا تعلق ہے تو مکرر عرض ہے کہ اسکا فیصلہ تو بہرحال عوام نے کرنا ہے لیکن اس ضمن میں میری مستقل رائے یہ ہے آزادی کشمیریوں کا بھی پہلا بنیادی حق ہے لیکن جو لوگ منزل آزادی پر براستہ بغض پاکستان جا رہے ہیں یا جا نا چاہتے ہیں انکا یہ انداز قابل مذمت ہے۔بغض پاکستان سے آزادی کشمیر کی راہ ہموار ہونے کی کوئی عقلی و منطقی توجیع تو ممکن نہیں البتہ عالمی سطح پر نہ صرف ہندوستان کا کشمیر اٹوٹ انگ کا موقف مضبوط ہوگا بلکے ہندوستان کو ایل او سی پر جارہیت کے مزید جواز ضرور فراہم ہوں گے۔


1 Comment

Click here to post a comment

  • کاش ہم دشمن کی چالوں کو سمجھیں اور سب سے پہلے بھارت سے کشمیر کو آزاد کروائیں اس کے بعد چاہے تو خود مختار کشمیر بنائیں یا پاکستان کے ساتھ رہیں –