میرا نقطہ نگاہ میرے مطابق

سانحہ APSاورسقوط ڈھاکہ ذمہ دار کون ؟-راؤاسامہ منور


کاش کہ کوئی بوڑھی عورت سانحہ APS کے ذمہ داروں کو بھی اسی طرح جوتے لگاتی جیسے سقوط ڈھاکہ میں لاکھوں پاکستانیوں سے غداری کرنے والے ، البدر و الشمس کے شہداء کے لہو کا سودا کرنے والے جنرل نیازی کو لگایا تھا۔
سانحہ APS کے ذمہ دار کون ہیں؟ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بوٹ سرعام پالش کیے جاتے ہیں ، جن کی کارکردگی دیکھے بغیر انہیں ببانگ دہل دنیا کی نمبر ون فورس کہا جاتا ہے ، جن کی اپنوں پر مظالم کی داستانیں نوشتۂ دیوار ہیں ، جن کی بےمثال چیکنگ کے لازوال مراحل سے گزرے بغیر ان کے علاقوں میں کوئی چڑیا بھی داخل نہیں ہوسکتی۔ پھر یہ کیسے ہوگیا کہ ایک اسلحہ سے بھری اور نامعلوم دہشت گردوں سے لدی گاڑی بغیر نظروں میں آئے اپنے ٹارگٹ تک پہنچی اور معصوم بچوں کو شہید کردیا۔

اسی طرح بنگال کی سرزمین پر بھی لاکھوں وردی اور بغیر وردی کے بےگناہوں کو پہلے اپنے جھنڈے تلے لڑنے کے لیے اکٹھا کیا ، پھر انہیں بے یار و مددگار چھوڑ کر اپنی پھٹی ہوئی دھوتیاں سنبھال کر چلتے بنے۔ جس ماں کا لعل ، جس بہن کا بھائی اور جس باپ کا بیٹا وطن کی سربلندی اور حفاظت کی خاطر اس جھنڈے کو لپیٹ کر میدان میں آیا تھا اپنی امیدوں کا خون کرا کے اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے رب کے حضور جا پہنچا۔

یہ پاک سرزمین لاکھوں شہداء کے خون کا نذرانہ دے کر حاصل کی گئی ہے ، لیکن افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا پڑ رہی ہے کہ اس بات کا ادراک چند ہی لوگوں کو ہے، چند ہی لوگ اس بات کی گہرائی اور اہمیت سے واقف ہیں۔
آج ملک کے مختلف حصوں میں بیرونی طاقتوں کے اشارے پر چند بندر وہی ناچ ناچ رہے ہیں جو بنگال میں ناچا گیا تھا لیکن عوام اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ رب تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائے اور شہداء کی قربانیاں قبول فرمائے۔ آمین