میرے مطابق

زندگی کی کشمکش– حافظ محمد عطاءاللہ شفیق


انسان بنیادی طور پر ماضی پرست ہے. گوکہ وہ شاعر کی اس آہ میں شامل ہے:
یاد ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
مگر پھر بھی وہ گزرا ہوا زمانہ یاد کرتا رہتا ہے. اور اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے.
یہ دریا “ازل” سے بہہ رہا ہے اور “ابد” تک موت کے بحرا و قیانوس میں گرتا رہے گا…
میں نے جب اردو اور انگریزی میں عمدہ رسائی کے لئے شوقیہ ٹیوشن پڑھانی شروع کی تو میری عمر 20 برس تھی.
چند ہی مہینوں میں، میں ناصرف اپنی پاکٹ منی کے حصول میں خودکفیل ہوگیا، بلکہ گھر کی معاشی گاڑی چلانے میں بھی شریک ہوگیا.
یہ حقیقت ہے کہ انسان پڑھنے کے مقابلے میں پڑھانے کے عمل میں زیادہ سیکھتا ہے.
الغرض نہایت تیزی سے میرے اسٹوڈنس(Students) میں اضافہ ہوتا گیا. اور میں بیک وقت تعلیم، کھیل، اور تفریحی سرگرمیوں کا “شناور” بن گیا.
میرے ابوجان میرے رول ماڈل رہے. مگر میں یہ اعتراف کرتا ہوں کہ میں ان سے اس طرح فیض نہ اٹھا سکا جس طرح مجھے اٹھانا چاہیے تھا. اپنی نالائقی کا یہ احساس کچو سے لگاتا رہتا ہوں..
اسی دور میں رب تعالی نے نوکری(job) دلائی. اور میں بہت ہی پرسکون لمحات میں زندگی گزارتا رہا.
مگر میرے دل پر ایک بوجھ سوار رہتا ہے کہ اب آگے کیا ہوگا. …!!!
اگلے جہاں کا خیال آتے ہی ایک کپکپی سی طاری ہوجاتی ہے ….. اعمال کے “توشہ خانہ” میں کچھ بھی عمل نہیں ہے،جس کو آگے پیش کرسکوں…. پل صراط کا خیال آتے ہی جھرجھری آنے لگتی ہے.. کیا میرے دائیں ہاتھ میں اعمال حسنہ کی روشن مشعل تھما دی جائے گی…!!!! زندگی کے تمام ادوار پر نظر ڈالتا ہوں تو شرمندہ ہوجاتا ہوں کہ جس جھولی میں سو چھید ہوئے، اس جھولی کا پھیلانا کیا..؟
مگر پھر محسوس کرتا ہوں کہ سانس تو چل رہی ہے نا، اور جب تک سانس کا آنا جانا لگا ہواہے جب تک توبہ کا دروازہ بھی کھلا ہوا ہے..
غالب نے اسی کیفیت کے بارے میں کہا تھا کہ:
ہزاروں خواہش ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان مگر پھر بھی کم نکلے
جی ہاں…!!! جب وقت مرگ “سر” پر آن پہنچے گا تو یہ حقیقت کھل جائے گی..
“خواجہ میر درد” نے کہا حق سچ کہا کہ:
وائے نادانی کہ وقت مرگ یہ ثابت ہوا
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا