پاکستان میرا نقطہ نگاہ میرے مطابق

میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا صدیق سالک کی یادیں –الیاس بابرمحمد


سقوط یعنی گر پڑنا ، کسی چیز کا چھوٹ جانا ، خطا ھؤ جانا ، ٹوٹ جانا ، ہار
جانا یا پھر کسی چیز پر اپنا تسلط برقرار ںہ رکھ سکنا جیسے سخت معانی رکھنے
والا لفظ ھے ، اگر تأریخ پر نظر ڈالی جائے تو اندازہ ہوتا کہ شاید اس لفظ ںے
اپنے مطلب کو پریکٹیکلی مسلمانوں پر لاگو کیا ھے –

چاھئے وہ سقوط اندس ہو یا بغداد ، سقوط سلطنت عثمانیہ ہو یا پهر برصغیر میں
سلطنت مغلیہ ، سقوط ڈھاکہ ہو یا حلب ہر طرف تأریخ کے اوراق خونی دکھتے ہیں ،
اور اگر ان سب کی وجوہات جاننے کی کوشش کی جائے تو اپنی ہی نااہلی ، ہٹ دھرمی
، نسلی و علاقائی عصبیت ، فرقہ پرستی ، لالچ ، عورت ، زمین ، غلط پلاننگ ، دیر
سے کیئے گئے فیصلے ، شخصیت پرستی و خؤد پسندی اور احکام الہی سے مکمل انحراف
کی صورت میں سامنے کھڑے عنقریت نظر آتے ہیں جو پوری کی پوری امت کو نگلنے کی
کامیاب کوشش کر چکے –

میں اگر لفظ ” ایک امت ” ہونے کے معانی اور درجات کو دیکھوں تو مجهے ایسا لگنے
لگتا ھے کہ شاید ١.٦بلین انسانوں ںے نہ تو کبھی انکو پڑھا ہے اور ںہ ہی کبھی
سمجھا ہے – ویسے تو دسمبر کے مہینے میں پہلے سے ہی ہماری تأریخ کا ایک سیاه
صفحہ مؤجود ھے مگر سنہ ٢٠١٤ کے پشاور سکول کے سانحے ںے اس صفحے کو باب اور اب
حلب کی شکست اور نہتے مسلمانوں کا حسب سابق اپنوں اور بیگانوں کے ہاتھوں قتل
عام ںے ایک کتاب کی شکل میں بدل دیا ھے جسکا پڑھںا میری آنے والی نسلوں کے دکھ
و اذیت میں اضافے کا سبب بنتا رہے گا –

میں اس دسمبر میں اپنے جسم پر لگے نئے زخم حلب کو موضوع بحث بنانے سے قاصر ہوں
، شاید اسکی وجہ کچھ ایسے حقائق ہیں جو مجهے قاری کی نظر میں پہلے شیعہ ، پھر
سنی ، پھر تکفیری ، پھر خارجی اور آخر میں بے ایمان ثابت کرنے کا باعث ہوں –

میں تاریخ کے جھروکوں سے کچھ لانے کی کوشش کرتا ہوں ، بريگیڈئير صدیق سالک
(ستارہ امتیاز ) کی کتاب سے ان زخموں کا تزکرہ جو ابھی تک بھرے نہیں ، جنکے
لگانے والے آج بھی فخر سے سینہ پھیلا کر بات کرتے نظر آتے ہیں –

چلیں صدیق سالک کی کتاب ” میں ںے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا ” میں غوطہ زن ہوتے ہیں –

پاکستان میں دوسرے ملک گیر مارشل لاء کی پہلی سالگرہ تھی شیخ مجیب الرحمان ایک
انتخابی جلسے سے خطاب کرنے صوبے کے اندرونی علاقے میں جا رہے تھے ، انکی
کھڑکھڑاتی کار کی پچھلی سیٹ پر ایک بنگالی صحافی بیٹھا تھا جو شیخ مجیب کی
انتخابی مہم کی خبریں اپنے اخبار کو بھیجتا تھا اس ںے انھیں باتوں باتوں میں
کسی سیاسی مسلئے پر چھیڑا اور چپکے ثے اپنا چھوٹا سا ٹیپ ریکارڈر چلا دیا اس
ںے یہ ٹیپ مجهے بھی سنایا مجیب کی جانی پہچانی اور گرجدار آواز صاف سنائی دے
رہی تھی –
” ایوب خان ںے مجهے مقبولیت کی ایسی معراج پر پہںچا دیا ھے کہ اب کوئی شخص
میری مرضی کے خلاف ںہیں جا سکتا ، کوئی شخص مجهے ںہ نہیں کہہ سکتا حتیء کہ
یحیی خان بھی میرے مطالبات کو رد نہیں کر سکتا ”

” ان دنوں مشرقی پاکستان میں پچیس ہزار کے لگ بھگ فوجی تعینات تھے ، میں
سرکاری فرائض کے سلسلے میں انہی میں شامل ہوںے جا رہا تھا ، مگر ١٨ سو کلومیٹر
میں پھیلے ھوئے وسیع ہندوستانی علاقے کے اوپر پرواز کرتے ھوئے بار بار یہ خیال
آ رہا تھا کہ اگر ہندوستان ںے ھم پر حملہ کر دیا تو کیا یہ پچیس ہزار فوجی
موثر طور پر مشرقی پاکستان کا دفاع کر سکیں گے ؟؟ میں ایک سچے پاکستانی کی طرح
ان خیالات سے آںکھیں بچانے کے لیے ماضی کی ان بوسیدہ دلیلوں میں پناه ڈھونڈنے
لگا –

میرے ساتھ اسی جہاز سے بعض فوجی افسر اترے جو مارشل لاء ڈیوٹی کے متعلق تھے وہ
کسی اور ہی ہوا میں تھے ڈراتے ہوئے وی آئی پی لاؤنچ میں گئے اور گہرے صوفوں
میں سستانے لگے میں دوسرے برآمدے میں‌کھڑا کسی مناسب سواری کا انتظار کرنے لگا
( راستے میں جہازکی خرابی کی وجہ سے میں نے فلائیٹ بدل لی تھی، مگر اس کی
اطلاع ڈھاکہ نہ پہنچا سکا تھا) تھوڑی دیر بعد ایک فوجی جیپ میرے پاس آ کر رکی۔
حوالدار نے مجھے ایک سمارٹ سا سیلوٹ کیا اور پاس سے گذرتے ہوئے ایک بنگالی
لڑکے کو ایک بھبک دار لہجے میں حکم دیا۔ “صاحب کا اٹیچی کیس جیپ مین رکھو –

سہمے ہوئے لڑکے کو یہ بھبک ناگوارتو گذری مگر اپنے آقا پر ایک احتجاجی نگاہ
ڈالتے ہوئے حکم بجا لایا ۔ اس نے گھور کر میری طرف بھی دیکھا ۔ اس کے سیاہ
چہرے کے چوکھٹے میں سفید آنکھین وحشت کا احساس لیے ہوئے تھیں۔ میں نے اپنے کوٹ
کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور چند سکے اس غریب لڑکے کو دینا چاہے۔، مگر حوالدار نے
پرزور لہجے میں کہا، ” سر، ان حرامزادوں کی عادتیں نہ بگاڑئیے”۔ مین نے مشورہ
مان لیا اوربنگالی لڑکا ایک بار پھر نفرت بھری نگاہیں مجھ پر ڈالتا ہوا وہاں
سے چلا گیا “۔

برگیڈئیر سالک لکھتے ہیں کہ
“جنرل خادم حسین راجہ نے مجھے بتایا کہ جب وہ ڈھاکا میں فوج کی کمان جنرل
نیازی کے سپرد کر چکے، تو جنرل نیازی نے پوچھا اپنی داشتاؤں کا چارج کب دو گے؟

البدر و الشمس کے متعلق لکھا ھے
“ان اسلام پسند اور محب وطن عناصر کو دو گرہوں میں منظم کیا گیا عمر رسیدہ
افراد پر مشتمل امن کمیٹیاں قائم کی گئیں اور صحت مند نوجوانوں کو رضا کار
بھرتی کرلیا گیا یہ کمیٹیاں ڈھاکہ کے علاوہ دیہی علاقوں میں بھی قائم کی گئیں
اور ہر جگہ فوج اور مقامی لوگوں کے درمیان رابطے کا مفید ذریعہ ثابت ہوئیں ان
کمیٹیوں کے چیرمین اور ارکان شرپسندوں کے غصے کا کئی بار ہدف بنے اور ان میں
سے ۲۵۰ افراد ، زخمی یا اغوا ہوئے۔

رضاکاروں کی تنظیم کے دو مقاصد تھے ایک یہ کہ ان سے پاک فوج کی افرادی قوت میں
اضافہ ہوگا اور دوسرے مقامی لوگوں میں دفاع وطن میں شرکت کا احساس پیدا ہوگا
اس تنظیم کی مطلوبہ نفری ایک لاکھ تھی مگر ان میں سے بمشکل پچاس ہزار افراد کو
فوجی تربیت دی جاسکی ۔ ستمبر کے مہینے میں پی پی پی کا ایک وفد ڈھاکہ گیا اور
اس نے جنرل نیازی سے شکایت کی کہ انہوں نے جماعت اسلامی کے کارکنوں پر مشتمل
نئی فوج کھڑی کر لی ۔ جنرل نیازی نے مجھے بلا کر کہا کہ آئیندہ سے رضاکاروں
کوالشمس اور البدر کے نام سے پکارا کرو تاکہ پتہ چلے کہ ان کا تعلق صرف ایک
پارٹی سے نہیں ۔ میں نے تعمیل ارشاد کی ۔

البدر و الشمس رضا کاروں نے پاکستان کی سلامت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر رکھی
تھیں ۔ وہ ہر وقت پاک فوج کے ہر حکم پر لبیک کہتے تھے انہیں جو کام سونپا جاتا
، وہ پوری ایمانداری اور بعض اوقات جانی قربانی سے ادا کرتے ۔ اس تعاون کی
پاداش میں تقریباً پانچ ہزار رضاکاروں یا ان کے زیر کفالت نے شر پسندوں کے
ہاتھوں نقصان اٹھایا ۔ ان کی بعض قربانیاں روح کو گرما دیتی تھیں مثلاً نواب
گنج تھانے میں واقع ایک گاؤں گالمپور میں شر پسند وں کی سرکوبی کے لیے ایک
فوجی دستہ بھیجا گیا جس کی رہنمائی کے لیے ایک رضاکار ان کے ساتھ بھیجا گیا ۔

مشن کامیاب رہا اور باغیوں کو ٹھکانے لگا دیا گیا لیکن جب وہ واپس اپنے گھر
پہنچا تو پتہ چلا کہ اس کے تینوں بیٹوں کو شہید اور اس کی اکلوتی بیٹی کو
اغوا کر لیا ۔ اسی طرح گماسپور (راجشاہی) میں ایک پل کی حفاظت کے لیے ایک رضا
کار تعینات تھا اسے باغیوں نے آ دبوچا اور سنگینیں مار مار کر کر مجبور کرنے
لگے کہ جئے بنگلہ کا نعرہ لگاؤ مگر وہ آخر تک پاکستان زندہ باد کہتا رہا ۔

رضا کار اسلحے اور تربیت کے لحاظ سے مکتی باہنی سے کمزور تھی ان کو بمشکل دو
چار ہفتوں کی ٹریننگ دی گئی تھی جبکہ مکتی باہن آٹھ ہفتوں کی بھرپور تربیت لے
چکی تھی ۔ اول الذکر کے پاس ۳۰۳ کی دقیانوسی رائفلیں تھیں جبکہ موئخر الذکر
نسبتاً جدید ساز و سامان سے لیس تھی اس تفاوت کی وجہ سے رضا کار شاذ و نادر ہی
شرپسندوں کا مقابلہ کرتے چنانچہ انہیں عموماً پاک فوج کے ساتھ ہی کسی مشن پر
روانہ کیا جاتا اور اپنے طور پر انہیں کوئی مہم سپرد نہ کی جاتی “-

کتاب بہت سے آںکھوں دیکھے واقعات سے بھری پڑی ہے قاری کے لیے ہر لفظ ایک آه
کا سبب بنتا ہے ایک بلاگ میں سب کچھ لکھنا ممکن ںہیں ، بات سقوط سے چلی تھی
مگر ابھی بھی وہاں ھی ھے –
احباب کے لیے کتاب کا آن لنک دے رہا ہوں یہاں سے مکمل کتاب پڑھی جا سکتی ھے


1 Comment

Click here to post a comment

  • آہوں کے سوا ہمارے پاس رہ ہی کیا گیا ہے- ہمیں بھارت نے 1948 میں بھی مارا ہمیں بھارت نے 1965 میں بھی مارا ہمیں بھارت نے 1971 میں بھی مارا ہمیں بھارت نیں 2014 معین بھی مارا – آج پھر ہمارے بچوں پر بمب برسائے گئے – بھارت تو ہمارا ازلی دشمن ہے لیکن ہمارے تو وطن کے اندر بھی وطن کے دشمن موجود ہیں جنہیں آج تک کوئی سزا نہیں ملی –