میرا نقطہ نگاہ میرے مطابق

البدروالے منافق تھے—تنویراعوان



ارے رکیں!
یہ میں نےکیا غضب کردیا
اب جماعتی بھائی چھوڑیں گے نہیں
لیکن میں نے کوئی نئی بات تو کہی نہیں
اورہاں یہ تو پوراپاکستان کہتا ہے
اچھا ذرادیکھوں تو سہی کیوں کہتا ہے
ارےہاں یاد آیا وہ یونیورسٹیوں کالجوں کے طلبہ تھے
بھاگنے کے بجائے البدر بنائی تھی
مکتی باہنی اوربھارتی فوج کے خلاف سینہ سپر ہوگئے.
وہ ڈٹ گئے تھے کہ شاہین کا جہاں اورہے
لیکن میں نےتو سنا تھا کہ منافق عین جنگ میں ساتھ چھوڑ دیتے ہیں.
لیکن یہ تو پکے منافق تھے پاکستان کی فوج نے ہتھیارڈال دیئے. لیکن البدروالے پھر بھی ڈٹے رہے.
اتنے بڑے منافق تھے کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد بھی ڈھاکہ یونیورسٹی پر سبزہلالی پرچم لہرائے رکھا.
کتنی عجیب بات ہے کہ حب الوطنی کے شاہکار آج سندھ, بلوچستان, پنجاب, پختونخواء میں مزے کررہے ہیں. جبکہ منافق پھانسیاں چڑھ رہے ہیں.
یہ تو منافقت کی انتہا کردی یہ عبدالقادرملا امیرالمنافقین نے.
اس کو جج نے کہا کہ معافی مانگ لو صرف اتنا کہہ دو پاکستان کا ساتھ دینا غلطی تھی. سزا بھی معاف ہوگی عزت بھی دیں گے. لیکن منافقوں کا امیر کہتا ہے یہ جان تو آنی جانی ہے یہ جان نہیں تو کوئی بات نہیں. پاکستان کا ساتھ دیا تھا ببانگ دہل دیا تھا مجھے فخر ہے کہ پاکستان کا ساتھ دیا.پھانسی دینی ہے تو دے دو لیکن پاکستان کے خلاف ایک لفظ نہ کہوں گا. ہے نا منافقوں‌والی بات !
اور پھر ان منافقوں نے منافقت کی تمام حدیں توڑ دیں پھانسیوں کے پھندے چومنے لگے بھلا کوئی محب وطن پھانسی کا پھندا چوم سکتا ہے.
نہیں نہیں نہیں
لوگ سچ کہتے ہیں
یہ منافق ہیں یہ منافق ہیں