تجزیہ میرے مطابق

الیکشن 2018 میں کون کامیاب ہوگا۔


الیکشن ابھی کافی دور ہے لیکن تیاریاں ابھی سے شروع کردی گئی ہیں، مسلم لیگ ن پوری طرح سے میدان میں آچکی ہے اور تحریک انصاف پہلے ہی میدان میں ہے۔

آصف علی زرداری نے انٹری ماری ہے، بلاول بھٹو پی پی پی کو کھڑنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں جماعت اسلامی کے سراج الحق بھی پر امید ہیں
لیکن مقابلہ دوہی جماعتوں کے درمیان ہوگا تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے درمیان اور جو جیتے گا وہ حکومت بنائے گا۔

گوکہ مسلم لیگ ن کو میاں محمد نواز شریف کی نااہلی سے سخت دھچکہ پہنچا ہے لیکن اس میں کوئی دورائے نہیں کہ نواز شریف کی مقبولیت میں کوئی خاص کمی نہیں آئی ہے۔

بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے انہیں عوام میں جاکر خود کو مظلوم ثابت کرنے کا موقع فراہم کیا ہے اگر ہم چار سالہ کاکردگی کی بات کریں تو گزشتہ حکومت کے برعکس ن لیگ کی کارکردگی بہتر رہی ہے۔

جبکہ پختونخواہ میں تحریک انصاف نے دوسرے صوبوں کی نسبت اچھا کام کیا ہے یہی وجہ ہے کہ دونوں سیاسی جماعتیں کارکردگی کی بنیاد پر ایک دوسرے کا نشانہ بنانے سے گریز کررہی ہیں۔

موجودہ دور میں میاں صاحب کی کرپشن کا کوئی خاص اسکینڈل نہیں آیا اور نہ ہی پختونواہ میں ایسا کچھ ہوا ہے بلکہ دونوں جماعتیں ماضی کے گھڑے مردے اکھاڑنے میں لگی ہوئی ہیں۔

اس کے برعکس عوام کو ماضی کی کہانیوں سے کچھ خاص دلچسپی نہیں ہے موجودہ صورتحال میں اگر تحریک انصاف پاناما کیس کو مزید اجاگر کرتی ہے اور عوام کو مطمئن کرنے میِں کامیابی حاصل کرلیتی ہے کہ میاں صاحب کی نااہلی درست فیصلہ تھا تو بازی تحریک انصاف کی ہوجائے گی۔
لیکن اگر میاں صاحب عوام کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ یہ فیصلہ غلط تھا اور ان کے ساتھ ذیادتی ہوئی ہے تو 2018میں 2013 کی تاریخ دہرائی جائے گی۔

جبکہ اب دونوں جماعتوں کا مقابلہ صرف پنجاب تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سندھ ایک اہم مرکز کے طور پر سامنے آئے گا جس سے پی پی کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔