اسلام اسوہ حسنہ میرے مطابق

مرشدی انعام رانا کے نام کُھلا خط-تنویراعوان


السلام علیکم !
مرشدی امید ہے کہ ایمان و صحت کی بہترین حالت میں ہوں گے۔عرض ہے کہ میں آپ کے صوبہ بلاکستان کا شہری ہوں۔ یہ وہی صوبہ ہے جس میں اپنی دانست میں آپ نے بدتہذیب لوگوں کو آبادکررکھا ہے۔گوکہ میں سمجھتا ہوں کہ اس لائق ہرگزہرگز نہ تھا کہ بلاکستان جیسے صوبے کی شہریت دی جاتی۔لیکن یہ آپ کی اعلیٰ ظرفی اور حسن ظن ہے جس نے مجھ ناکارہ کو یہ شرف بخشا۔جس پر میں‌آپ کا بے حد مشکوروممنون ہوں.
مرشدی آپ بہت بڑے ہیں۔عمر میں علم میں مرتبے ہم سے کہیں بڑے ہیں۔سنا ہے کہ بڑوں کا دل بھی بڑا ہوتا ہے۔بڑوں کا ظرف بھی بڑا ہوتا ہے۔لیکن مرشدی آپ کے معاملے میں مجھے شدید مایوسی کا سامنا کرناپڑا۔آپ کو یاد ہوگا کہ آپ نے حافظ حمداللہ اور ماروی سرمد کے معاملے پر ایک انتہائی متنازعہ تحریر لکھی تھی۔جس میں انتہائی گستاخانہ تشبیہ دی گئی۔آپ جیسے صاحب علم اور صاحب ذوق سے ایسی امید ہرگز نہ تھی۔
آپ کو یاد ہوگا کہ ردعمل کے طور پر میں نے اپنی والی پر ایک تحریر شائع کی تھی۔جس میں فقط اتنا کہا گیا تھا کہ”دوٹکے کی اوقات نہیں”اور صحابہ کے بارے میں تبصرہ کرنے چلے ہیں۔مرشدی یقین جانیں آپ اور میں کتنے ہی بڑے نہ ہوجائیں دوٹکے کے ہی رہیں گے. صحابہ کے پاؤں کی دھول کے برابر بھی نہیں ہوسکتے۔آپ کو یاد ہوگا کہ میں نے کہا تھا کہ “لنڈے بازار سے دوکتاب خریدکرپڑھنے سے کوئی دانشورنہیں بن جاتا اور نہ ہی اس کا مقام اتنابلند ہوسکتا ہے کہ وہ صحابہ کے متعلق رائے زنی کرے” مرشدی بالکل صحیح کہا تھا کیوں کہ کوئی ہزار بار درس نظامی بھی کرلے ایسا ممکن نہیں ہے کہ وہ صحابہ کے بارے میں رائے زنی کے قابل ہوسکے۔
مرشدی بس اتنا ہی مسئلہ ہوا تھا کہ آپ نے ہمیں بلاکستان کی شہریت سے نوازدیا۔اور آپ کے برادر پتلون والے شاد بھائی نے ہمسائیگی کا حق اداکرتے ہوئے ہمیں بلاکستان کی اعزازی شہریت سے نوازا۔لیکن مرشدی ایک عرصے سے میرے ناکارہ اور کم فہم ذہن میں کچھ سوالات جنم لئے ہوئے ہیں جو کہ چین نہیں لینے دیتے۔انہی سوالات کے ہاتھوں مجبور ہوکر یہ خط لکھنے پر مجبور ہوا ہوں۔
اس خط کےلکھنے کی ایک بنیادی وجہ آپ کا مکالمہ کا علم بلند کرنا بھی ہے۔ جب آپ نے ذورشور سے مکالمہ کے نعرہ لگایا۔تو سب سے ذیادہ خوشی مجھے ہوئی کہ اسی بہانے بلاکستان سے مکتی ملے گی۔لیکن ایک بار پھر آپ کے حُسن ظن اور اعلیٰ ظرفی سے شدید مایوسی ہوئی۔
مرشدی کسی بھی مکالمہ کے حامی داعی کا کردار دوسروں سے بالکل الگ ہوتا ہے۔اس کی بنیادی صفت برداشت ہوتی ہے۔تحمل و بردباری اس کی شخصیت کا خاصہ ہوتی ہے۔مکالمہ فرد کی زات کی نفی ہے۔مکالمہ نظریہ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔مکالمہ انا کی نفی ہے۔کوئی بھی شخص مکالمہ کا دعوی کرے اوراپنی انا کو ختم نہ کرے تو شخص خود کو اور دوسروں کو دھوکہ دے رہا ہے۔
مرشد ایک داعی عجزوانکساری کا پیکر ہوتا ہے۔ایک لکھاری شائستگی کا عملی نمونہ ہوتا ہے۔جاہل اور عالم میں بنیادی فرق گفتگو کا ہے۔دونوں کے بولنے کا اندازان کی شخصیت کو آشکارکرتاہے۔حال ہی میں محترم صفدرچیمہ صاحب کے متعلق جس قسم کا تبصرہ آپ نے فرمایا۔اسے پڑھ کر میں نے مکالمہ پر فاتحہ پڑھ لی۔اگر داعیان مکالمہ کا یہ کردارہے تو ان کے پیروکاروں کا کیا عالم ہوگا۔
مرشدی محترم صفدرچیمہ صاحب علم و عمل میں آپ سے بہتر ہیں۔عمر میں آپ سے بڑے ہیں ۔آپ کو ایسا لب و لہجہ ذیب نہیں دیتا۔آپ کے ہزاروں چاہنے والے ہیں ۔آپ کے الفاظ ان کی تربیت کا ذریعہ ہیں۔اگرایسی تربیت فرمائیں گے تو معاشرے میں مکالمہ تو ہونے سے رہا لیکن بدتہذیبی سے لیس ایک نیا لشکر ضرور وجود میں آجائے گا۔
مرشدی فیس بک کی وال ہر کسی کی اپنی ہے۔جو دل میں آئے کرسکتا ہے۔اپنی وال پر کوئی کچھ بھی کرے کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔لیکن عقیدے پر بات نہیں ہوسکتی۔کسی کی زات پر کیچڑ نہیں اچھالاجاسکتا۔کسی کو گالی نہیں دی جاسکتی۔ہر وہ عمل اپنی وال پر بھی نہیں کیا جاسکتا جس سے دوسروں کی دل آذاری ہو۔دوسروں کو تکلیف پہنچے۔یعنی کہ آپ کی وال آپ کی زات کی حدتک تو ٹھیک ہے لیکن جب آپ دوسروں کے عقائد اور ان کی محبوب ترین شخصیات کے متعلق ناشائستہ زبان استعمال کریں گے ۔تو پھر جواب بھی آئے گا۔یہی تو مکالمہ کا بنیادی اصول ہے۔کچھ آپ کہیں کچھ ہم کہتے ہیں۔فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہیں۔
لیکن مرشدی ہمیشہ آپ نے بلاک کا آپشن استعمال کیا ہے۔مکالمہ کا قتل کیا ہے۔تو سوال اتنا سا ہے کہ پھر یہ مکالمہ کا ڈھونگ کس لئے؟؟۔اگر کسی سے اختلاف برداشت نہیں اگر کسی کا اعتراض برداشت نہیں تو پھر مکالمہ کے نعرہ کیوں ؟؟۔مکالمہ کے سب سے بڑے داعی ہمارے نبی ﷺ تھے۔انہوں نے کبھی کسی کی بات کا برا نہیں منایا۔طائف کی وادی میں پتھر کھائے۔گالیاں کھائیاں لیکن دعوت دیتے رہے۔بدعا نہیں دی۔عذاب کی دعا نہیں کی۔ہدایت کی دعاکی۔فرمایا: یہ نہیں جانتے انہیں معاف فرما۔
مرشدی ہوسکتا ہے آپ نے محترم جاوید احمد غامدی صاحب اور قبلہ قاری حنیف ڈار صاحب کی طرز پر مکالمہ کا کوئی نیا ورژن ایجاد کیا ہو۔جو کہ ہم جیسے دقیانوسی اور پرانے زمانے کے ناکارہ لوگوں کی سمجھد سے بالاتر ہے۔اپنی کج فہمی پر ہم جتنے بھی شرمندہ ہوں کم ہے کہ ہم 21 صدی میں بھی مکالمہ کے 14 سوسال پہلے والے اصول بیان کررہے ہیں۔
مرشدی کیا انتہائی سنجیدگی اورنارمل سے انداز سے گالی دینے اور غصے میں دینے سے گالی کے معنی و مفہوم بدل سکتے ہیں ؟؟ اگر ایسا نہیں ہے تو گالی گالی ہی کہلائے گی چاہے مزاق میں دی جائے چاہے غصے میں دی جائے چاہے انتہائی آرام اور سکو ن سے دی جائے۔یعنی کہ ایک انپڑھ اور جاہل اگر جاہلیت دکھائے اور ایک پڑھا لکھا جاہلیت دکھائے تو جاہلیت جاہلیت ہی کہلائے گی اس کے معنی ومفہوم نہیں بدل سکتے۔
مرشدی اللہ آپ کے علم وعمل میں برکت دے۔کاروبار میں برکت دے۔ہم بلاکستان کی شہریت پر بے انتہا خوش ہیں۔لیکن تہہ دل سے چاہتے ہیں کہ مکالمہ کو فروغ حاصل ہو۔لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ داعیان مکالمہ میں وہ اعلیٰ اوصاف بھی ہوں جو کہ لوگوں کو مکالمہ کے لئے قائل کرسکیں۔اگر ایسا نہیں ہوا تو لوگ پھر مکالمہ سے بھی دلبرداشتہ جائیں گے۔اس وقت ہمارے پاس مکالمہ کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا جس پر چل کر لوگوں کو ایک جگہ جمع کیا جاسکا۔مرشدی مکالمہ کے اوصاف کو اپنائیے کہ آپ پر ہزاروں لوگوں کی نظریں ہیں۔امیدیں ہیں۔
مکالمہ کیجئے اپنی زات سے۔اپنی انا سے۔میں کو ختم کیجئے۔کوئی برا کہتا ہے برداشت کیجئے کہ ایک داعی کو سب کچھ سہنا پڑتا ہے۔کوئی گالی دیتا ہے تو برداشت کیجئے کہ داعیان مکالمہ کی تاریخ شروع میں ایسی ہی گالیوں سےعبارت ہے۔کوئی طعنہ دیتا ہے برداشت کیجئے کہ مکالمہ کے داعی کا برداشت ہی بنیادی وصف ہے۔مکالمہ کا علم بلند رکھنا اتنا آسان نہیں ہے۔آگ کا دریا ہے۔اسے تیر کر پار کرنا ہے۔خود کوجلانا بھی پڑےگا۔یہ راہ آپ نے خود اختیار کی۔اس لئے اب اس راہ پر چلئیے بھی۔اگر یہ سب کرنا ممکن نہیں ہے تو خدارامکالمہ کے نام پر لوگوں کو مکالمہ سے متنفرنہ کریں۔اور اپنے کاروبارپر توجہ دیں ۔اللہ آپکے کاروبار میں‌برکت دے آمین
والسلام
آپ کا مرید
تنویراعوان