لکھاری میرے مطابق

رضوی صاحب کی ” گالیاں “اور سرسیدی بچوں کی اخلاق کی دہائی


کسی بھی غیرت مند آدمی کے سامنے جب اونچے درجے کی بے غیرتی کا مظاہرہ ہو اور وہ بے غیرت ہوبھی جاہل مطلق یا اہل علم وہنر میں سے ہو لیکن بے غیرتی جان بوجھ کر آنکھیں حقیقت سے چرا کر جب استعمار کی زبان یا موجودہ تہذیبی جبر سے متاثر ہوکر احساس کمتری کا شکار ہوکر احساس مرعوبیت میں ڈوب کر مسلمات دین پر ہذیان گوئی کرتا ہے تو غیرت مند آدمی کو غصہ آنا فطری چیز ہے جسکو غصہ نہیں آتا وہ گدھا ہے غصے کی حالت میں چونکہ کچھ دیر کو آدمی مغلوب ہوجاتا ہے تو وہ انتہائی رد عمل دیتا ہے ۔

اگر چہ ہماری تہذیب ودین کے بانی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہی تھی کہ آپ غصے کو پی جاتے اور بدزبان کو بھی دعا دیتے یہ پیغمبرانہ وسعت اور برداشت تھی ۔
باباخادم رضوی دامت برکاتہم کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے کہ حضرت زیرک اور متبحر عالم ہیں وہ جب دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی محض قادیانیت نوازی اور مغربی مرعوبیت کے تحت قانون ناموس رسالت پر حملہ آور ہوتا ہے تو انکا عشق جوش مارتا ہے اور وہ کچھ کڑوی کسیلی سنا دیتے ہیں ۔

غیرت حمیت اللہ کی بڑی نعمتیں ہیں اور یہ شرم ولحاظ کی انتہائی اعلی تشکیلیں ہیں جسکو اللہ نصیب کردے باباجی کو یہ دولتیں سرکار کی جوتیوں کی نسبت سے حاصل ہیں اللہ اس میں مزید ترقیات دے ۔
سرسید کے بچوں کا واویلہ اس بنیاد پر بابا جی کے خلاف بلکل بھی سمجھ میں نہیں آتا کیونکہ انکی تہذیب تھلے لگ کے بانی ومبانی جناب سرسید احمد خان صاحب وفادار ملکہ وکٹوریہ وجانثار تاج برطانیہ مسافر برمنگھم کی منجی تھلے ڈانگ پھیریں تو لگ پتہ جائے گا کہ جناب آقائے سرسید حب تاج برطانیہ میں علماء عصر مشائخ عظام اولیاء وقت کو کیسی کیسی غلیظ گالیاں دیتے ہیں
نمونے کے طور پر چند حاضر خدمت ہیں
1) حرام زادہ 2) مشہور حرام زادہ 3) مفسد 4)کافر 5) نمک حرام 6) بدذات 7)بے ایمان 8)بدذات 9)فساد کاپتلا 10)قدیمی بدمعاش
دس پر اکتفاء ہے

اب دیکھیں آقائے سرسید حب تاج برطانیہ میں دشمنان استعمار مجاہدین آزادی کو حسب نسب علم واخلاق کی تمام تر گالیاں کار ثواب سمجھ کردے رہے اور یہ کوئی دینی غیرت پر نہیں بلکہ ملکہ وکٹوریہ کی نمک حلالی میں دے رہے ہیں

باباجی نے بھی کبھی کوئی گالیان دی ہیں تو وہ غیرت دینی اور حب رسول کے جوش میں دی ہیں لیکن ایک بات ہے باباجی نے کسی کی ماں کو گالی نہیں دی کسی کو حرام زادہ نہیں کہا جو بھی کہا اس شخص کو کہا جو بے غیرت ہے

لیکن آقائے سرسید تو دوسروں کی ماں کو بھی لوگوں مجاہدین علماء کوحرام زادہ کہہ کر دے رہے ہیں اور اسکی ناجائز ذریت سرسید مائینڈ سیٹ کے چکنے تو اس وقت مذہبی جماعتوں کے کارکنان اور سیاسی لوگوں کو کھوتی کا بچہ بھی کہہ رہے یہ فالٹ انکا مینوفیکچرنگ کا ہے ۔
اگر گالی غلط ہے تو دونوں کی غلط ہے لیکن یہ کیا باباخادم تو مطعون اور سرسید صاحب مامون
ایسا تو نہ کریں
پیمانے ایک رکھیں

بابا نے دھرنے میں تو میرا خیال نہیں کہ کوئی گالی دی ہو ہاں برے القابات جسکے وہ لوگ مستحق ہیں وہ ضرور دئے ہیں باباجی دہ گریٹ اسی تہاڈے نال تسی کم پاکے رکھو ان بچونگڑوں کی ہفوات کو ہم انکے آقاء ومولا سرسید کی کتابوں ہی سے جواب دیں گے
باباجی کم پاکے رکھو
ختم نبوت زندہ باد