لکھاری میرے مطابق

خادم حسین رضوی، عصمت اللہ معاویہ، اللہ نذراورمنافقانہ بیانیہ


خادم حسین رضوی صاحب کا مسئلہ یہ ہےکہ وہ پرامن جمہوری دھرنا دئے ہوئے ہیں۔انہوں نے جمہوریت کی روح کےعین مطابق اپنے مطالبات پیش کئے ہیں۔ان کے اندازبیاں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے۔ان کا جوش خطابت قابل اعتراض ہوسکتا ہے۔لیکن یہ بات پتھرپر لکیر ہے کہ ان کے مطالبات سوفیصد درست اور جائز ہیں۔ہم رضوی صاحب کی نیت پر شک نہیں کرسکتے۔نیت جانچنے کی قدرت ہم نہیں رکھتے۔ہم ان کے ظاہری مقصد کودیکھ رہے ہیں جو کہ بلاشک و شبہ واضح ہے۔

اس کے باوجود خادم حسین رضوی قبول نہیں ہے۔انتہاپسندی کے فتوے دئے جارہے ہیں۔شدت پسندی کا راگ الاپا جارہا ہے ۔کچھ شہری تکلیف محسوس کررہے ہیں۔میڈیا دکھارہا ہے کہ عالمی سطح پر بدنامی ہورہی ہے۔دھرنے کو ابھی 16واں دن ہے ۔جبکہ ابھی کل کی ہی بات ہے کہ عمران خان نے 1 سال سے بھی زائد مدت تک دھرنا دیا۔ناچ گانا ہوا ۔سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں ۔پارلیمنٹ پر حملے کی بات کی گئی۔پی ٹی وی پر حملہ ہوا۔قادری صاحب کا دھرنا ہمارے سامنے کی بات ہے۔

لیکن نہ تو عالمی سطح پر امیج خراب ہوا اور نہ ہی اسلام آباد کے کچھ شہریوں کو تکلیف ہوئی۔اب تو میڈیا کا بس نہیں چل رہا کہ کراچی کی ایمبولنسوں کو بھی فیض آباد میں شو کر کے کہے کہ دیکھیں ایک اور انسانی جان گئی کیا اسلام یہ درس دیتا ہے۔اسلام اسلام جی ہاں مسئلہ ہی اسلام کا ہے ۔عمران خان نے ناشائستہ زبان استعمال کی ۔قادری صاحب نے ناشائستہ زبان استعمال کی۔لیکن سب چلتا ہے کیوں کہ پاکستان ہے ۔مگر دونوں میں سے کسی نے بھی اسلام اور ناموس رسالت کی بات نہ کی تھی۔اسی لئے دھرنے قابل قبول تھے .یہاں مسئلہ یہ ہے کہ رضوی صاحب اسلام اور ناموس رسالت کی بات کررہے ہیں ۔یہاں گانے نہیں لبیک یارسول اللہ کے نعرے گونج رہے ہیں۔یہاں اسلامی نظام کی باتیں ہورہی ہیں۔جو بے ہودگی گزشتہ دو دھرنوں میں ہوئی ہے۔یہ دھرنا اس کا عشرعشیر بھی نہیں ہے۔یہ منافقانہ بیانیہ کیوں؟

اچھا رکیں آپ مولانا عصمت اللہ معاویہ کے نام سے بخوبی آگاہ ہوں گے۔ان کے بھی کچھ مطالبات تھے ۔انہوں نے مطالبات کیلئے ہتھیار اٹھایا اور لڑے لڑتےرہے۔پنجابی طالبان کے کمانڈر رہے ۔لڑائی کے ذریعے انہیں مغلوب نہیں کیا کیاجاسکا۔تو بیک ڈور رابطے ہوئے بات چیت کے ذریعے انہیں سرنڈر پر آمادہ کیا گیا۔اور انہوں نے ہتھیار پھینک دیئے۔قلم اٹھالیا۔آج کل سوشل میڈیا پر لکھتے ہیں۔لیکن کچھ لوگوں کو وہ تب بھی قبول نہیں تھے جب وہ لڑ رہے تھے اور آج بھی قبول نہیں ہیں جب وہ لکھ رہے ہیں۔کیوں؟؟؟ اس لئے کہ ان کا لڑنا بھی اسلام کے نام پر تھا ان کا قلم بھی اسلام کی بات کررہا ہے ۔مسئلہ ہی اسلام ہے۔

دوسری جانب اللہ نذرہے جس کے ریاست مخالف مطالبات ہیں۔وہ بلوچستان کی آزادی کا خواب بھی دیکھتا ہے۔وہ ریاست کے خلاف لڑرہا ہے۔اس کے دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیوں سے بھی روابط ہیں ۔۔وہ عام بیگناہوں کا خون بھی بہا رہا ہے ۔اس نے احتجاج کے نام پر ہتھیار لیکر پہاڑوں کا رُخ کیا ہے ۔اللہ نذر کی نظر میں بلوچوں کے علاوہ ہر قومیت نسل زات والا واجب القتل ہے۔اس کے گروہ نے حال ہی میں 20بیگنا پنجابیوں کو شہید کیا ہے۔لیکن ہمارے ایک لکھنے والے نے منافقت کی چادر اوڑھ کر لکھا کہ اللہ نذر ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوا تو اس کی بھی کچھ وجوہات تھیں۔جبکہ موصوف کے پورے مضمون کا حاصل مطالعہ نکالاجائے تو وہ کچھ یوں ہے کہ “اللہ نذر بھی اپنی جگہ ٹھیک ہے جبکہ پنجابی بھی بیگناہ شہید کئے گئے ”

واہ منافقت تیرا ہی آسرا۔جانتے ہیں یہی رضوی صاحب ہتھیار اٹھالیں اور جنگ شروع کردیں تو پھر کہا جائے گا یہ طریقہ درست نہیں اسلام اس کا درس نہیں دیتا۔ان کو پرامن جمہوری احتجاج کرنا چاہیے تھا۔اب وہ پرامن احتجاج کررہے ہیں۔تو بھی کہا جارہا ہے اسلام اس کا درس نہیں دیتا کہ عوام کو تکلیف ہو۔یعنی آسان بھاشا میں رضوی صاحب گھر بیٹھ کر اللہ اللہ کریں۔اور حکومت کے نااہل وزیروں کے جو دل میں آئے وہ کریں۔

حالانکہ اسلام کی تو بہت ساری تعلیمات ہیں۔اسلام تو بہت سی باتوں کا درس دیتا ہے۔جن پر ہم میں سے کوئی بھی عمل نہیں کرتا ۔لیکن جب بھی علمائے کرام کی بات آتی ہے ہمیں اسلام یادآجاتا ہے۔ویسے ہم دھرنوں میں ناچنے کو بھی گناہ ماننے کو تیار نہیں ہیں۔رضوی صاحب کے سادہ سے مطالبات میں سے اہم مطالبہ یہ ہے کہ ختم نبوت کے حلف کی شق میں ترمیم کے ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف کاروائی کی جائے۔اور وزیر قانون جو کہ اس عمل کے براہ راست ذمہ دار ہیں انہیں وزارت سے ہٹایا جائے۔دیگر مطالبات بھی بالکل سادہ اور آسان ہیں۔لیکن وہ ان پر اس صورت میں بات ہوگی جب پہلا مطالبہ پورا کردیا جائے گا۔جس کا مطلب ہوگا کہ حکومت واقعی اس معاملے میں سنجیدہ ہے۔

لیکن ابھی تک حکومت کی پوری کوشش ہے کہ تحریک لبیک کو متنازعہ بنایا جائے۔سب کو معلوم ہے کہ راستے بند ہیں اس کے باوجود ایمبولنسوں کا گھوم گھوم کر بندراستے پر ہی جانا اور انسانی جان ضائع ہونا حیران کن ہے۔حکومت ستو پی کر سوئی ہوئی ہے۔شہری انتظامیہ نے ٹریفک کے کیا متبادل روٹس دئے ہیں ؟؟ دھرنے والوں پر سوال اٹھانے کے بجائے یہ تو وزارت داخلہ سے پوچھنا چاہیے کہ ایمبولینس دھرنے کے مقام پر ہی کیوں گئی؟؟؟

آخری بات یہ ہے کہ طاقت کا استعمال انتہائی سنگین نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔ابھی تک معاملہ رضوی صاحب اور حکومت کے درمیان ہے۔لیکن کسی بھی قسم کے ایڈوینچرکی صورت میں یہ اس ملک کے واضح اکثریت مسلک اور ریاست کا مسئلہ بھی بن سکتا ہے۔حل یہی ہے کہ مذاکرات کئے جائیں اور وزیر کو ہٹادیا جائے ویسے بھی چندماہ میں انہوں نے کوئی بڑا تیر نہیں مارلینا۔