امریکا: ناگزیر سے نادیدہ جنگ تک


فوجی دستے بھیجنے کا فیصلہ فوری طور پر کیا گیا تھا اور اس پر امریکا میں عوامی ردِعمل بھی مثبت تھا۔ یہ احساس جاگزیں تھا کہ یہ جنگ ضروری ہے۔ امریکی سرزمین پر مہلک ترین حملہ ہوا تھا۔ جن افراد نے اس کی منصوبہ بندی کی تھی اور جو انتہا پسندی کی ترویج کرنے والے افراد کو اپنی سرزمین پر محفوظ ٹھکانے فراہم کر رہے تھے ان کے پیچھے جانا اور اُن کا خاتمہ کرنا ضروری تھا۔ یہ مقصد بہت مختصر مدت میں پورا ہوگیا۔ امریکی مشن نے بہت جلد طالبان حکومت کو ختم اور افغانستان سے القاعدہ کے ٹھکانوں کا صفایا کردیا۔ طالبان کسی طور امریکی فائر پاور کا مقابلہ نہ کرسکے۔ دنیا نے سکون کا سانس لیا۔ لیکن اس فوری ہاتھ آنے والی کامیابی کے بعد امریکیوں پر ایک ناخوشگوار سچائی آشکار ہوئی۔ یہ کہ جنگیں شروع کرنا آسان لیکن ختم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ویت نام سے بھی یہی تلخ سبق حاصل ہوا تھا۔ بعد میں عراق سے ہاتھ آنے والی سچائی بھی یہی تھی۔ امریکا نے افغانستان میں اپنے اہداف تو بہت تیزی سے حاصل کرلیے تاہم تب سے اب تک اس سوال کا جواب دینا انتہائی دشوار ثابت ہو رہا ہے کہ اس دور افتادہ سرزمین پر امریکی فوجی اتنی طویل مدت سے کیا کر رہے ہیں، کیوں لڑ اور مر رہے ہیں۔

جب سے طالبان کی سرگرمیوں میں نمایاں شدت آئی ہے، امریکا کو نئی اور جامع حکمتِ عملی وضع کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ اس وقت طالبان کے کنٹرول میں اُس سے کہیں زیادہ علاقہ ہے جتنا ۲۰۰۱ء کے بعد کبھی اُن کے پاس رہا ہو۔

امریکا نے افغانستان میں اربوں ڈالر خرچ کر ڈالے ہیں۔ اس نہ ختم ہونے والی جنگ میں اب تک ۲۴۰۰؍امریکی فوجی اور ۳۱۰۰۰ عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جان و مال کی بھاری قربانی دینے کے باوجود اس جنگ میں ابتدائی طور پر حاصل ہونے والی کامیابیاں بھی ہاتھ سے نکل چکی ہیں۔ یہ صرف سکیورٹی کا محاذ نہیں جس پر امریکا ناکام رہا، کئی اور شعبوں میں بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کی جاسکی ہے۔ امریکا برسوں سے افغانستان کے طول و عرض میں ہونے والی منشیات کی تجارت روکنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ طالبان اس تجارت سے حاصل ہونے والی رقوم سے اپنے جنگی اخراجات پورے کرتے ہیں۔ منشیات کو کنٹرول کیے بغیر طالبان کو شکست دینا مشکل ہے۔ اسے ختم کرنے کی کوشش میں پہلے تو پوست کی فصلوں کو تلف کرنے کے لیے اسپرے کیا گیا اور اس کے بعد متبادل فصلیں اگانے اور ضرورت کے مطابق روزی کمانے کے لیے کسانوں کی مالی معاونت بھی کی گئی۔ ان کوششوں کا نتیجہ کیا نکلا؟ حالیہ برسوں میں پوست کی ریکارڈ فصلیں ہوئی ہیں۔

افغان معیشت کو درست کرنے کا شعبہ بھی ناکام رہا ہے۔ افغانستان کا شمار امریکا سے غیر معمولی امداد حاصل کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ اس نے ۲۰۱۴ء میں ۷؍ارب ڈالر سے زائد کے فنڈ وصول کیے۔ رواں سال بھی افغانستان کو ۴؍ارب ڈالر سے زائد امداد دیے جانے کی توقع ہے۔ اس کے باوجود افغان معیشت کا قبلہ درست کرنے میں اب تک خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ اس کی مجموعی قومی پیداوار میں اضافے کی شرح ۲۰۱۲ء میں ۱۴؍فیصد تک تھی۔ اب یہ صرف ڈیڑھ دو فیصد کے درمیان رہ گئی ہے۔ افغان معیشت کو غیرملکی افواج کے انخلا کے بعد شدید دھچکا لگا ہے۔ درحقیقت غیر ملکی فورسز کی موجودگی میں ایک ’’جنگی معیشت‘‘ وجود میں آئی تھی لیکن ۲۰۱۴ء میں فورسز کی واپسی نے اس معیشت کو ختم کر ڈالا۔

ان تمام معروضات سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ افغان کشمکش ایک ناگزیر جنگ سے ایک نادیدہ جنگ میں کیوں تبدیل ہوچکی ہے۔ تمام امکانات کے ساتھ امریکی چاہتے ہیں کہ وہ ایسی جنگ سے دور رہیں جس کا کوئی اختتام نہ ہو۔ مزید برآں، افغانستان میں لڑی جانے والی جنگ کے حوالے سے کوئی بھی واضح روڈ میپ امریکیوں کے پاس نہیں۔ یہ جنگ ان کی سرزمین سے بہت دور لڑی جارہی ہے۔ افغان معاشرے کا امریکیوں کو کچھ خاص فہم بھی نہیں۔ بیشتر امریکی چاہتے ہیں کہ اگر یہ جنگ لڑنا ناگزیر ہی ہے تو پھر رضاکار حاصل کیے جائیں، جو جان کی بازی بخوشی لگائیں اور خون کے چھینٹے امریکی سرزمین پر نہ گریں۔

کچھ فوجیوں نے وطن واپسی پر افغانستان کے کٹھن حالات کا ذکر کرکے عام امریکیوں کو پریشان کردیا۔ ڈومینگ ٹیری نے ۲۰۱۵ء میں معروف جریدے ’’اٹلانٹک‘‘ میں لکھا تھا ’’افغانستان کا ذکر چھیڑنے کا مطلب موت کی باتیں کرنا ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ اس موضوع کو فوراً تبدیل کر دیا جائے‘‘۔ خوش قسمتی سے اس موسمِ گرما میں یہ جنگ دوبارہ قومی راڈار پر ابھری۔ اگست میں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ افغانستان کے لیے ایک نئی حکمتِ عملی بنائیں گے اور یہ کہ وہ وہاں سے القاعدہ اور داعش کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

ہماری ’’خوش بختی‘‘ یہ ہے کہ ان برسوں میں پہلی بار کسی امریکی کمانڈر انچیف نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں کامیابی کے لیے ایک پلان رکھتے ہیں۔ اور بد قسمتی سے یہ پلان ہنوز غیر واضح اور نادیدہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی قیادت افغانستان سے دہشت گردی کا خاتمہ چاہتی ہے، سیاسی استحکام دیکھنا چاہتی ہے مگر اس کے لیے وہاں معاشی استحکام کا پایا جانا لازم ہے۔ افغانستان کی سفارت کاری کو فعال کیا جانا چاہیے۔ اس کے لیے ہمسایہ ریاستوں کا تعاون درکار ہوگا۔ پاکستان، ایران اور بھارت کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا صدر ٹرمپ ان سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں؟

(ترجمہ: محمد ابراہیم خان)


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *