لکھاری میرے مطابق

28سال میں پاکستان کیوں غریب ہوگیا؟


کل رات میں خوش خوش سویا، لیکن جب صبح اٹھا تو میں لُٹ چکا تھا، میرے پیسے آدھے رہ گئے تھے، لیکن گھر میں کوئی چور بھی نہیں آیا، نہ ہی چوہے نوٹ کھا گئے۔۔تو میں خود بخود قلاش کیسے ہوگیا۔۔؟؟

میں اچانک غریب کیسے ہوگیا؟ اس سوال کا جواب جاننے کیلئے میں بہت بے چین رہا.. پھر کچھ کچھ سمجھ آیا..
۔۔فرض کریں اگرکبھي ايسا ہو جائےکہ کوئي حکومت کسی قانون کے تحت يہ اعلان کردے کہ ملک کے تمام سرکاري اور پرائيوٹ ملازمين کي آدھي تنخواہيں وہ اپنے پاس رکھے گي،تو سوچيئے ردعمل ميں حکومت کے ساتھ کيا ہوگا؟

اس ردعمل کا اندازہ لگانا ذيادہ مشکل نہيں۔ہوسکتا ہے کہ عوام کا جم غفيراپنا پيسہ بچانے کيلئے حکمرانوں کا اپنے ہاتھوں سے ہی دھڑن تختہ کردے۔۔

اس ردعمل کي شدت کا اندازہ خود حکمرانوں کو بھي ہوسکتا ہے۔اس لئے انھيں جب عوام کا پيسہ نکلوانا ہوتا ہےتو وہ دوسرا طریقہ اختیار کرتے ہیں یعنی وہ مہنگائي ميں اضافہ کرديتے ہيں۔۔یعنی وار وہي ہوتا ہے، ليکن اس پر ردعمل زيادہ سخت نہيں آتا۔۔

سچ ہے کہ حکومت جب بجلي، پٹرول ، ٹيکسز اور ڈيوٹي کي شکل ميں مہنگائي کرتي ہے تو عوام کا ردعمل بس گاليوں کي صورت ميں ہي آتا ہے۔۔ليکن حکمران اکثرگاليوں کو سنجيدہ نہيں ليتے۔۔

کسي رياست ميں جب مختلف شکلوں ميں مہنگائي کي جاتي ہے تو اس کا سيدھا اور صاف مقصد يہي ہوتا ہے کہ عوام کے پيسے حکومت کو چاہيئيں۔۔اور آپ بیٹھے بیٹھے اپنی کچھ کمائی گنوا بیٹھتے ہیں۔

مہنگائي اگر طلب اور رسد ميں فرق کي وجہ سے ہو تو وہ ايک مخصوص مدت کيلئے ہوتي ہے۔ليکن مہنگائي کو اگر خزانہ بھرنے کا زريعہ بناليا جائے تو وہ مستقل ہوجاتي ہے۔۔

پاکستان ميں مہنگائي کي بنا پرعوام کي حالت خراب ہي رہي ہے۔ليکن 1989کے بعد اُس دورکا آغاز ہوا جب عوام کي محنت کي کمائي کو خزانہ بھرنے کا باقاعدہ زريعہ بنا ليا گيا۔۔

ہوا کچھ يوں کہ 1989سے پہلے پاکستان کنٹرولڈ اکانومي پر عمل پيرا تھا۔اشيا اور سروسز پر سبسڈيز عام بات تھي۔کسي شے کي قيمت ميں اضافہ سوچ بچار کے بعد کيا جاتا تھا۔۔

چونکہ پاکستان ايک ترقي پذير ملک تھا، اور اسے صنعتي شعبے ميں ترقي کي واقعي ضرورت تھي، ليکن نئے دورکے پاليسي سازوں نے حقيقي صنعتي ترقي کے حصول کيلئے ايک تباہ کن راستے کا انتخاب کرليا۔۔

جب بات صنعتي ترقي کي آتي تھي تو سوال يہ پيدا ہوتا تھا کہ اس کے لئے غير ملکي ٹيکنالوجي اور سرمايہ کاري لازمي ہے۔۔يہي وہ سوچ تھي جس سے آگے نہ نکلنے سے مسائل نے جنم لينا شروع کيا۔۔1989 سے شروع ہونے والے دور،اور اس کے بعد آنے والي حکومتوں نےبيروني امداد پربے تحاشا تکيہ کرنا شروع کرديا۔۔

سب سے خطرناک بات يہ ہے کہ یہ بيروني امداد صرف سود کي ادائيگي کا سودا نہيں ہوتي۔کئي ديگرشرائط بھي پوري کرنا ہوتي ہيں۔خاص طور پر حکومت کو اشيا کي قيمتوں سے کنٹرول ختم کرنا ہوتا ہے۔۔سبسڈي دينابند کرنا ہوتي ہے۔اورسرکاري کارخانے اورادارے تاجروں کو فروخت کرنا پڑتے ہيں ۔۔

آپ کو یاد ہوگا کہ نوے کي دہائي ميں ہم پہلی بار آئی ایم ایف کے پاس گئے، اور پھر پاکستان کي حکومتوں نے کنٹرولڈ اکانومي کے بجائے عوام کي قسمت سرمايہ داروں ، ملٹي نيشنل کمپنيوں اور عالمي مالياتي اداروں کے ہاتھ ميں گروي رکھنا شروع کردي۔۔ساتھ ہي ان کي شرائط کو بھي ماننے کا نہ ختم ہونے والے سلسلہ شروع ہوگيا۔۔۔

نیا دور شروع ہو چکا تھا، مطلب یہ کہ پاکستان ميں سرمايہ دارانہ نظام۔جسے کيپيٹل ازم کے نام سے بھي ياد کيا جاتا ہے، کے دور کا آغاز ہوگيا تھا۔۔ سب سے پہلے روپيہ يعني کرنسي کا کنٹرول ختم کيا گيا۔۔اور اسے ڈالر سے لنک کرکے آزاد کرديا گيا۔۔حکومتي سہارے کے بغيرغريب ملک کي کرنسي پہلے ہي دن سے ڈي ويليو ہونا شروع ہوگئي۔۔ڈالر کو بارہ تيرہ روپے کے برابر رکھنا اب ممکن نہ رہا۔۔اور ڈالر روزانہ مہنگا ہونے لگا۔۔يعني دوسرے لفظوں ميں پاکستانيوں کي جيب سے پيسے نکلنا شروع ہوگئے۔۔

مہنگائی کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا تھا، لوگ رات کو سوتے اور صبح اٹھتے تو گزشتہ رات سے ذیادہ غریب ہوچکے ہوتے۔

حکومتوں کی جانب سے غير ملکي سرمايہ کاروں کو سازگار ماحول فراہم کرنے کيلئے بڑے پیمانے پر کارخانوں اور ديگر اداروں کو پرائيوٹ کرنا شروع کيا گيا۔۔نوکرياں ختم ہوئيں۔۔اشيا مزيد مہنگي ہونے لگيں۔۔یوں پاکستانيوں کي جيب سے مزيد پيسہ نکلنا شروع ہوگيا۔۔

معاملہ يہيں پر ختم نہيں ہوا۔۔عالمي مالياتي اداروں سے قرضے کے حصول کيلئے انکي وہ شرائط ماني جانے لگيں۔جن کا تعلق ملک کي خود مختاري سے تھا۔۔مثال کے طور پرعالمي تجارت کيسے کرني ہے، درآمدات اور برآمدات پر کون سي ڈيوٹي لگاني ہے،کون سي ختم کرني ہے۔۔کون سي اشيا پرٹيکس لگانا ہے۔کون سي يوٹيلٹي سروس مہنگي کرني ہے۔کون سا کارخانہ فوري پرائيويٹائزکرنا ہے،کون سا بعد ميں بيچنا ہے۔۔يہ سب عالمي مالياتي اداروں کي جانب سے ڈکٹيٹ کرايا جانے لگا۔مہنگائی مسلسل بڑھ رہی تھی اور لوگ بس کوسنے دے کر احتجاج ریکارڈ کرائےجارہے تھے۔۔

کتنی عجیب بات تھی کہ مشروط ترین بيروني سرمايہ کاري اور قرضوں کے حصول کو حکمران ملک کي تباہي کے بجائے عالمي سطح پر ملک کي کاميابياں قرار دينے لگے۔جس سے ان کا وژن اور قائدانہ صلاحيتيں بھي آشکار ہونے لگيں۔۔

اس دور ميں بھی دو سياسي جماعتيں باري باري حکومت ميں آرہي تھيں۔۔دونوں جماعتوں کے سياسي نام مختلف تھے،ليکن معاشي نظريات ميں کوئي فرق نہ تھا۔کسي جماعت کے پاس ايسي معاشي پاليسي وجود ہي نہ رکھتي تھي جو اس سرزمين ،عوام اور رياست کے معاشي تقاضوں کو مدنظر رکھ کر ترتيب دي گئي ہو۔۔

قائدانہ صلاحيتوں کي کمي اور وژن نہ ہونے کے ساتھ سياسي جماعتوں ميں بدعنوان افراد کي اکثريت تھي ۔۔ اس بنا پر بھي ملک کا نظام مزيد بگڑتا چلا گيا۔۔عوام کي جيبوں سے پيسے تيزي سے نکل کر خزانے کے ساتھ بدعنوانوں کي جيب ميں بھي جانے لگے۔نتیجہ غربت میں مزید اضافہ یا عوام کے سرمائے میں بیٹھے بیٹھے کمی۔۔

غيرملکي سرمايہ کاري کيلئے کئےگئے اندھا دھند اقدامات اورصنعتي ترقي کيلئے بيروني اداروں پر انحصار کے جنون ميں ہم اس شعبے کو بھول ہي گئے، جو ہماري معيشت ميں ريڑھ کي ہڈي ثابت ہوسکتا تھا۔۔اور وہ تھا۔۔ زراعت ۔۔

زرعي کو شعبے کو حکومتوں نے نچلے درجے کے شعبے کے طور پر ليا ۔۔اس شعبے سے وابستہ مزدوروں اور کسانوں کو اس شعبے ميں اپنا مستقبل بنانے کي کوئي ترغيبات نہيں دي گئيں۔يوں زرعي اشيا کي پيداوار بھي متاثر ہوئي۔۔نتیجہ روٹی بھی مہنگی، عام آدمی مزید متاثر۔۔

دوستو : نوے کی دہائی گزری، پھر اس کے بعد ایک دہائی اور گزر گئی، اور اب تیسری دہائی بھی ختم ہونے کو ہے ۔۔ لیکن کچھ نہیں بدلا۔۔بدلا ہے تو انسان کا مزاج ۔۔کیونکہ مہنگائی اب آسمان کو چھو رہی ہے۔۔اور لوگوں کے مزاج پر مستقبل کی فکرات کے اثرات نمایاں ہیں ۔۔

یاروں : یہ ثمرات ہیں سرمایہ دارانہ نظام کے ۔۔جس کے جال میں ہم جیسے ترقی پذیر ملک اکثر پھنس جاتے ہیں یہ جال ترقی کے خواب دکھا کر ملکوں کو پرندوں کی طرح جکڑ لیتا ہے۔۔

جنگ عظیم دوم کے بعد گورے جب دنیا میں اپنے مقبوضہ علاقے خالی کررہے تھے تو انھیں ان علاقوں کے وسائل پر عیش کرنے کی عادت پڑچکی تھی۔ زمین تو وہ چھوڑ کر جارہے تھے، لیکن وسائل اپنے قابو میں رکھنے کیلئے انھیں ایک سسٹم درکار تھا۔۔یہی وہ سرمایہ دارانہ نظام ہے جس نے پوری دنیا کے وسائل اب تک ان کی دسترس میں رکھے ہوئے ہیں۔اسی نظام کی بقا کیلئے وہ آدھی صدی تک اس نظام کے مخالف سوویت یونین سے لڑتے رہے۔۔اور بالاآخر اس کے ٹکڑے کردیئے۔۔ جبکہ شمالی کوریا ، کیوبا اور شام جیسے چھوٹے ملک آج بھی ان کے نشانے پر ہیں، کیونکہ ان چھوٹے ملکوں نے آج بھی کنٹرولڈ اکانومی کا فلسفہ ترک نہیں کیا ہے۔اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ غریب ممالک اپنے کم وسائل میں بھی اپنی اندرونی خودمختار اکانومی بنا چکے ہیں اور لوگوں کو عالمی پابندیوں کے باوجود روٹی، کپڑا اور حتی کہ مکان تک فراہم کررہے ہیں۔

دوستو: کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے عوام کے برے حالات میں سرمایہ دارانہ نطام کا بڑا ہاتھ ہے، ساتھ ہی کرپشن سونے پر سہاگے کا کام کررہی ہے۔سیاہ رات کے بعد صبح کا اجالہ بھی کوئی اچھی نوید نہیں لارہا۔۔ہر آنے والی صبح لوگوں کو غریب سے غریب تر بنا رہی ہے۔