اسلام لکھاری

مجاہد ختم نبوت علامہ شاہ احمد نورانی -محمد شکیل قاسمی

  • 37
    Shares

شاہ احمد نورانی اور عقیدہ ختم نبوت

شاہ احمد نورانیعلامہ شاہ احمد نورانی  عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے جدوجہد کرتے رہے۔اور بالآخر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ عقیدہ ختم نبوت اسلام کا قطعی اور اجماعی عقیدہ ہے جس کا تعلق اسلام کے بنیادی عقائد سے ہے جس پر ایمان لانا بھی ہر مسلمان پر فرض ہے یعنی ایک مسلمان اس بات پر ایمان رکھے کہ حضور تاجدار ختم نبوت ﷺاللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور سلسلہ نبوت ورسالت حضور نبی کریم ﷺ پر ختم ہو چکا ہے اور اب آپﷺ کے بعد قیامت تک نہ کوئی نبی آئے گا نہ کوئی رسول آئے گااور آپ ﷺکی کتاب ،شریعت مطہرہ اور تعلیمات تاقیامت ہدایت اور نجات کا آخری سرچشمہ ہیں،اگر کوئی شخص ہزار بار بھی کلمہ پڑھے اور دن رات نماز وقیام میں گزارے ،لیکن وہ آپ ﷺکو خاتم النبیین نہیں مانتا یا آپ کے بعد کسی اور کو بھی نبی مانتا ہے تو وہ بلاشبہ مرتد ہے اور واجب التقل ہے۔

اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع کیا تھا وہ سلسلہ نبوت حضر ت محمد ﷺ پر ختم کردیا ہے اور آپ ﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں اب آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا۔

قرآن مجید میں رب العالمین نے ارشاد فرمایا۔’’ماکان محمد ابا احدمن رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین‘‘
ترجمہ :محمد ﷺ تمہارے (بالغ) مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں اور لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں میں آخری نبی ہیں ۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ’’ان الرسالہ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولانبی‘‘ترجمہ بے شک نبوت اور رسالت میرے بعد منقطع (ختم ) ہو چکی ہے،پس میرے بعد نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ کوئی رسول ہوگا۔(جامع ترمذی ،مسند امام احمد)رسول اللہ ﷺ کا خاتم الانبیاء (نبیوں میں آخری نبی اور رسول ) ہونا ،آپ ﷺ کے بعد کسی نبی اور رسول کا دنیا میں مبعوث نہ ہونا اور ہر مدعئی نبوت (یعنی مسلیم�ۂ کذب سے مرزا غلام احمد قادیانی کذاب تک) کا جھوٹا وکذاب اور کافر ومرتد ہونا، ایک ایسا مألہ ہے جس پرصحابۂ کرام علیہم الرحمۃ والرضوان سے لے کر آج تک ہر دور کے تمام مسلمانوں کا قطعی اجماع اور اتفاق رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  : قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت کیوں قرار دیا گیا ؟

ختم نبوت کا عقیدہ مسلمانوں کا ایک متفقہ اور اجماعی عقیدہ ہے اور تمام مسلمانوں کا ایمان ہے کہ ختم نبوت کا انکار کرنے والا کافر اور مرتد ہے اس فتنۂ انکارِ ختم نبوت اور دعوئ نبوت کرنے والے کو جڑسے اکھاڑنے والے سب سے پہلے خلیفہ اول امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ،آپ نے اس فتنۂ انکارِ ختم نبوت کی ہر طرح سے سرکوبی کی اور نبوت کا دعویٰ کرنے والے مسلیمہ کذاب کے خلاف جنگ یمامہ میں ہزاروں جلیل القدر صحابہ کرام نے شرکت کی،جس میں سینکڑوں حفاظ صحابۂ کرام شہید ہوئے اور بالآخر مسلیمہ کذاب اپنے کیفر کردار کو پہنچ گیا۔

اسی طرح برصغیر میں جب انگریزوں کی سربرستی میں قادیانی فتنہ نمودارہوا اور مرزا غلام احمد قادیانی نے پہلے مصلح ،پھر مجددہونے کا دعویٰ کیا اور پھر مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور آخرمیں جا کر نبوت کا دعویٰ بھی کردیا توعلماء کرام اور مشائخ عظام نے مرزا قادیانی اور قادیانوں کے خلاف کفر وارتداد کے فتاویٰ جاری کئے ۔ان میں علامہ احمد اللہ شاہ مدراسی ، مولانا کفایت علی کافی،اعلحضرت امام احمد رضا خان بریلوی ، مجددودین ملت حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی چشتی ،مولانا لطف اللہ علیگڑھی جیسے قابل ذکر علماء حق نے مرزا قادیانی کی نہ صرف تکفر کی بلکہ ہر ممکن اس کا تعاقب کر کے مناظرے اور مباہلے کے چیلنج بھی دئیے اور قبول کئے اور اسے ہر طرح سے اور ہر سطح پر جھوٹا و کذاب اور کافر و مرتد ثابت کیا۔

جب قادیانی فتنہ نے اہل ایمان کا امن سکون اور چین وآرام غارت کر کے امت مسلمہ کی بنیادیں ہلانے کی گھناؤنی کوشش کی توعلماء حق نے اس کے کفریہ عقائد اور اسلام شکن سرگرمیوں کے خلاف تحریر وتقریر اور جلسہ وجلوس کے ذریعے کتاب وسنت کے دلائل وشواہد کے ساتھ ہر محاذ پر مقابلہ کیا اور فتنۂ قادیانیت کے مکروفریب اور دجل وکذب کے پردوں کو چاک کیااور بالآخر7ستمبر1974 ؁ء کو وہ گھڑی آ پہنچی جو فتنۂ قادیانیت کو پاکستان کی قومی اسمبلی اورسینیٹ نے غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔7ستمبر1974 ؁ء پاکستان کی تاریخ کا انتہائی اہم اور تایخی اہمیت کا حامل دن ہے ،کیونکہ اس دن پاکستان کی پارلیمنٹ (قومی اسمبلی و سینیٹ) نے پوری قوم بلکہ امت مسلمہ کی نمائندگی کرتے ہوئے قائد اہلسنت امام شاہ احمد نورانی صدیقی نوراللہ مرقدہ کی زیر قیادت کئی مہینوں کی مسلسل جدوجہد وتحریک اور اسمبلی کی بحث و مباحثہ کے بعد آپ کی قرار داد پر مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکار قادیانیوں ،مرزائیوں اور احمد یوں کو متفقہ طور پر کافر و مرتد اور غیر مسلم قرار دیا یوں تقریبا ایک صدی بعد اس فتنۂ کے مکرو عزائم کے خلاف جدوجہد پائیہ تکمیل کو پہنچی۔

30جون 1974 ؁ء کو مولانا شاہ احمد نورانی نوراللہ مرقدہ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیوانے کیلئے قومی اسمبلی میں تاریخی قرار داد پیش کی ۔قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو اپنی جماعت کے عقائد کے بارے میں صفائی اور موقف پیش کرنے کا مکمل آزادنہ موقع دیا گیا13دن تک اس پر جرح ہوئی ۔مولانا شاہ احمد نورانی 1974 ؁ء کی تحریک ختم نبوت کا دلچسپ واقع بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قادیانی خلیفہ مرزا ناصر قادیانی جماعت کی طرف سے محضر نامہ پڑھنے کیلئے جب قومی اسمبلی میں آیاتوخدا کی قدرت اور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کاا عجاز دیکھنے میں آیا کہ جس وقت اس نے محضرنامہ پڑھنا شروع کیا تو قومی اسمبلی کے اس بند ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں اوپر کے چھوٹے پنکھے سے ایک پرندے کاپر جو غلاظت سے بھرا ہوا تھا سیدھا اس محضرنامہ پر آکر گرا

۔جس سے مرزا ناصر ایک دم چونکا اور گھبرا کر کہاI am disturbed مرزا ناصر کی گھبراہٹ ،ذلت آمیز پریشانی اور اس عجیب وغریب واقع پر اراکین اسمبلی سشدر رہ گئے کیونکہ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی غلاظت اوپر چھت سے اس طریقہ سے گری ہو۔لہذا اس واقع کے بعد پوری پارلیمنٹ نے متفقہ طور پرمولانا شاہ احمد نورانی کی قرارداد منظور کی اس وقت اسمبلی کے اندر مفتی محمود ،علامہ عبدالمصطفی الازھری ،مولانا سید محمد علی رضوی،مولانا عبدالحق ،پروفیسر غفور احمد ،صاحبزادہ احمد رضا قصوری ،مولانا ظفر انصاری ،مولانا نعمت اللہ ،عبدالجمید جتوئی ،چوہدری ظہور الہٰی ،سردار شیرباز مزاری ،سردار مولا بخش سومرو،حاجی علی احمد تالپورنے بھی اس قرارداد کی تائید و حمایت کی ۔

اس سے قبل قومی اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں مولانا شاہ احمد نورانی نے 1972 ؁ء کو خطاب کرتے ہوئے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا مطالبہ کیا اور مسلمان کی آئینی و فقہی تعریف میں یہ جملہ کہا’’مسلمان کیلئے لازم ہے کہ وہ حضرت محمد ﷺ کو ہر لحاظ سے آخری نبی مانتا ہو‘‘ شامل کر کے قادیانیت پر کاری ضرب لگائی ۔

قادیانیوں کو خارج اسلام قرادینے کی تحریک و قرار داد اور عقیدہ ختم نبوت سے متعلق قانون سازی پاکستان کے آئین میں ’’اسلام ‘‘ کی آئینی و فقہی تعریف کو شامل کرنے میں علامہ شاہ احمد نورانی نے جو کلیدی اور مرکزی کردار ادا کیا وہ تاریخی ناقابل فراموش کارنامہ ہے جو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کی بنیادبنا۔7ستمبر1974 ؁ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے75سالہ فتنہ کو اس کے منطقی انجام سے دوچار کیا۔قائد اہلسنت علامہ شاہ احمد نورانی کی تحریک پر سارقین ختم نبوت کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا گیا۔

اس فیصلے کے پیچھے علماء و مشائخ اہلسنت کی طویل جدوجہد کی تاریخ اور ہزاروں شہیدا ء تحریک ختم نبوت کا مقدس لہو شامل ہے لیکن یہ اعزاز اللہ نے قائد اہلسنت کو عطا فرمایا کہ آپ نے 1974 ؁ء سے2003 ؁ء تک جب بھی حکمرانوں پر عالمی دباؤ بڑھا اور انہوں نے عقیدہ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت سے متعلق دستوری ترامیم کرنے کی کوششیں کیں قائد ملت اسلامیہ امام شاہ احمدنورانی نے جرأت مندی سے حکومتی اقدامات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔

قائدملت اسلامیہ علامہ شاہ احمد نورانی نور اللہ مرقدہ کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعدملعونہ آسیہ کو بچانے کی آڑ میں حکومتی سرپرستی میں قادیانیوں فتنے نے پھر سراٹھایا اور ناموس رسالت قانون میں تبدیلی کے نام پر قادیانیوں کے مکرو عزائم کی تکمیل کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی تو آپ کے سیاسی جانشین حضرت علامہ ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے 30نومبر2010 ؁ء کو کراچی میں ملک کی مقتدرسیاسی و مذہبی جماعتوں کی آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد کر کے تحریک ناموس رسالت کی جدوجہد شروع کی اور اللہ کے فضل و کرم سے فروری2011 ؁ء میں سخت ترین عوام احتجاج اور عاشق رسول ملک ممتاز حسین قادری کے جرأت مندانہ کردار کے طفیل حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور بالآخرحکومت نے قانون ناموس رسالت ﷺمیں ترمیم نہ کرنے کا اعلان کیا

 

اب پھر قادیانی لابی سرگرم ہو گئی ہے کراچی میں 90کے عقب میں قادیانیوں کا مرکز قائم کیا گیا ملک کے اہم پوش علاقوں میں قادیانیت کی تبلیغ اور ،اقلیتوں کی آڑ میں فتنہ قادیانیت کی سرپرستی کی جارہی ہے سیکولر قادیانیت نواز جماعتیں اور ان کے رہنمادستور سے اقلیت کے لفظ کو ختم کرنے کا اعلان کرنے اور قادیانیوں کو مسلمانوں کو اچھا قرار دے کرعقیدہ ختم نبوت ﷺکے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کر چکے ہیں اور قادیانیت کیلئے دروازہ کھولنے کی گھناؤنی سازشیں کی جارہی ہیں تاکہ وہ اپنے مکروہ نظریات سے مسلمانوں کوگمراہ کرسکیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قائد ملت اسلامہ علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی نور اللہ مرقدہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سامراج کی سازشوں کاڈٹ کر مقابلہ کریں اور عقیدہ ختم نبوتﷺ کے تحفظ کیلئے ہر وقت تیار رہیں تاکہ مرنے کے بعد قبر میں روشنی اور کفن میں خوشبو ہواور جب اللہ کے محبوب ﷺ کا دیدار ایمان کی حرارت کے ساتھ کرسکیں۔


  • 37
    Shares

Add Comment

Click here to post a comment