لکھاری کا سفر.انس انیس 


لکھاری کا سفرانس انیس

سوال پیدا ہوتا ہے ویپ سائٹس تو متعدد ہیں ہم سب ہے دلیل ومکالمہ ہیں؛ وغیرہ وغیرہ؛ پھر الگ سے لکھاری کا کٹا کھولنے کی کیا ضرورت تھی؛ انہیں پر قناعت کر لیتے؛ اس کا جواب نہایت ہی آسان اور واضح ہے جیسا کہ تنویر بھائی اور دیگر دوست اعلان کر چکے ہیں کہ اس ویپ سائٹ پر وہ دوست بھی لکھ سکیں گے جن کی تحاریر غیر معیاری؛ بےربط؛ اغلوطات کی وجہ سے رد کی جاتی ہیں؛ یہ ان دوستوں کے لیے ہے جو لکھنے کی خواہش سینوں میں دبائے بیٹھے ہیں پر قلم کو قرطاس پر نہیں چلا سکتے؛ اپنے احساسات ومشاہدات کو رقم نہیں کر سکتے؛ مگر ہمت ہار کر نہیں بیٹھتے مسلسل لکھتے ہیں؛ وہ اپنی تحاریر سے اس ویپ کو مزین کریں گے؛ لکھاری ٹیم ان کی اغلوطات کی نشاندہی کرے گی بےربط کو باربط بنائے گی ان کی تحاریر کو بنا سنوار کر گیسو کو درست کر کے ویپ سائٹ کا حصہ بنائیں گی؛ ان دوستوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جو لکھنے کا شوق سینے میں موجزن رکھتے ہیں؛ لکھاری کو یوم اقبال پر لانچ کرنا تھا مگر اللہ کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے چند تکنیکی خرابیوں کے پیش نظر چند ایام کے لیے اس سلسلے کو مؤخر کیا گیا یقیناً قارئین کے دل بھی دکھے ہونگے مگر یقین کیجئے آپ سے ذیادہ ویپ سائٹ کو لانچ کرنے والوں کے دل غم ذدہ ہوئے؛ تاخیر کی وجہ سے چند دوستوں نے جلی کٹی بھی سنائی مگر کیا کریں یہ تنویر بھائی اور ان کی ٹیم کے لیے پورا مسئلہ کشمیر بن گیا جیسے انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں جو واقعات پیش آئے ان پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے؛ 

 محترم قارئین آپ اگر اچھے لکھاری بننا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے آپ کو اچھا قاری بننا پڑے گا وسعت مطالعہ ہی کسی خوبصورت اور مایہ ناز تحریر کا سبب بنتا ہے؛ تحریر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ ابلاغ وتشہیر کے جتنے بھی ذرائع ہیں ان کی اصل تحریر ہے اور وہ تحریر کی شکل میں باقی رہتے ہیں؛ تحریر جب بھی لکھیے اس وقت آپ کسی دوسرے مشغلے کام ذہنی ٹینشن دماغی بوجھ غصہ وغیرہ سے دور رہیں ان چیزوں سے تحریر از حد متاثر ہوتی ہے اور بسا اوقات ایسے الفاظ آدمی کے قلم سے نقل ہو کر سینہ قرطاس پر رقم ہو جاتے ہیں جن کا خمیازہ آدمی بعد میں بھگتتا رہتا ہے؛ سب سے پہلے موضوع کا انتخاب کیجئے کیونکہ موضوع تحریر کے لئے بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے موضوعات مختلف ومتنوع ہیں قرآن حدیث سیرت تاریخ سیاست معاشرت معیشت روحانیت غرض متفرق موضوعات ہیں ان موضوعات کی لڑی میں ایک موضوع کو منتخب کیجیے پھر اس کے مالہ وماعلیہ پر مکمل دسترس کر کے لکھنا شروع کیجئے اس سے آپ کی تحریر میں وزن اور گہرائی ہو گی اور قاری بھی متاثر ہوگا آسان الفاظ کا انتخاب کیجئے مضمون میں اول وآخر تک ربط ہو بے ربط مضمون سر دردی کے سوا کچھ نہیں؛ ایک دن میں آپ کالم نگار لکھاری نہیں بن سکتے یہ ہلکی آنچ پر پکنے والی دیگ ہے آہستہ آہستہ آپ کی تحریر نکھرتی چکی جائے گی یاد رکھیے لکھنا لکھنے سے آتا ہے پڑھنا پڑھنے سے؛ راتوں رات آپ ارسطو یا سقراط نہیں بن سکتے یا آپ پلک جھپکتے ہی حامد میر اور سلیم صافی بن جائے گے ہرگز نہیں اس کے لیے خاک میں مل کر گل گلزار ہونا پڑے گا اور یہ بھی یاد رکھیں حنا رنگ لاتی ہے پتھر پہ پس جانے کے بعد؛ باقی انشاءاللہ یار زندہ صحبت باقی


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *