جمعیت کی مخالفت اور تصویر کا دوسرا رُخ

  • 13
    Shares

اس میں کوئی شک نہیں کہ جمعیت کا خیر اس کے مبینہ شر پر غالب ہے۔جمعیت ایک طلبہ تنظیم ہی نہیں ہے ایسی نرسری ہے جس نے ماضی میں بڑے بڑے نام پیدا کئے ہیں۔اب بھی جمعیت سے فارغ ہونے والے طلبہ مختلف شعبوں میں گراں قدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

مخالفین جمعیت کو جمعیت فوبیا سے نکل کر یہ سوچنا چاہیے کہ آخر وہ کونسا جادو ہے کہ ہر سال ہزاروں طلبہ جمعیت سے وابستہ ہورہے ہیں اور تسلسل کیساتھ ہورہے ہیں یہ سلسلہ کبھی رکا نہیں صرف جامعہ پنجاب میں جمعیت سے وابستہ طلبہ کی تعداد ہزاروں میں ہے اب ان ہزاروں طلبہ کو بندوق کی نوک پر جمعیت سے وابستہ رکھنا ممکن نہیں ہے سو کچھ تو جمعیت میں ہے جو اس سے طلبہ کی اچھی خاصی تعداد وابستہ ہے۔

جمعیت کے مقابلے کبھی این ایس ایف تھی ختم ہوگئی، پختون ایس ایف اور پی ایس ایف کچھ تعلیمی اداروں تک محدود رہ گئی ہیں اے پی ایم ایس او کے وجود کو کراچی میں ہی خطرات لاحق ہوچکے ہیں، مگر جمعیت بڑھے چلی جارہی ہے۔حالانکہ جب پورے ملک میں بھٹو کا طوطی بولتا تھا اپنی مقبولیت اور ریاستی قوت کا استعمال کرکے بھی بھٹو پنجاب یونیورسٹی سے جمعیت کوختم نہیں کرسکا بلکہ بھٹو کی مقبولیت جب اپنی انتہا پر تھی اسلامی جمعیت طلبہ نے پنجاب یونیورسٹی سے گورنرہاؤس تک وقت کی سب سے بڑی ریلی نکالی تھی اور اگلے روز سرخی لگی تھی کہ اور تلوار ٹوٹ گئی ۔تلوار اس وقت پی پی کا انتخابی نشان ہواکرتا تھا۔

مخالفین جمعیت کو ضرور سوچنا چاہیے کہ اگر این ایس ایف اچھی تھی اگر کمیونزم جاندار تھا تو آج کہاں ہے، این ایس ایف آج کہاں ہے، کمیونزم کہاں ہے، حالانکہ ایک زمانے میں آپ کا راج تھا اور وہ وقت کہ جب تعلیمی اداروں میں داڑھی رکھنا جرم بنتا جارہا تھا، شلوار قمیض کا تصور تک نہ تھا ریگنگ کے نام پر طلبہ کیساتھ جو سلوک کیا جاتا تھا اکثر تو تعلیم ہی چھوڑدیتے تھے۔ ایسے وقت میں جمعیت کی تعلیمی اداروں میں آمد ہوئی۔آج جمعیت پوری آب و تاب کیساتھ موجود ہے۔جمعیت کے جولوگ شہید ہوئے ہیں ان کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ رونے دھونے اور ماتم کرنے سے جمعیت بھی مظلومیت کی مثال بن سکتی ہے۔

جمعیت سے طلبہ کی وابستگی کی ایک بڑی وجہ مثبت اور تعمیری سرگرمیاں ہیں۔جمعیت طلبہ کیلئے اسٹڈی سرکلز کا اہتمام کرتی ہے، اسٹڈی سرکل کیلئے باہمی مشاورت کیساتھ ایک موضوع کاانتخاب اور وقت مقرر کیا جاتا ہے۔موضوع کے مطالعے کے لئے جمعیت، طلبہ کو کتب فراہم کرتی ہے۔پھر مقرر کردہ دن متعلقہ موضوع پر طلبہ اپنی اپنی رائے دیتے ہیں سوال و جواب ہوتے ہیں۔فکر کا ایک نیا باب کھلتا ہے، سوچ وسیع ہوتی ہے ہچکچاہٹ ختم ہوجاتی ہے اور تین سے چار اسٹڈی سرکلز کے بعد ایک طالب علم اتنا۔ باصلاحیت ہوجاتا ہے کہ سو لوگوں میں بھی اپنا مدعا بغیر کسی جھجک کے بیان کرسکتاہے۔ سرکل کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ ہر موضوع پر اس کے ماہر کو بھی مدعو کیا جاتا ہے جو طلبہ کو تجاویز بھی دیتا ہے۔

جمعیت کتب بینی کے فروغ کے لئے کتب میلوں کا انعقاد کرتی ہے۔ جمعیت اسپورٹس ویک کے زریعے طلبہ کو غیر نصابی سرگرمیوں کے لیے پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے جہان پر وہ اپنی صلاحیتوں کابھرپور اظہار کرتے ہیں ۔جمعیت ہفتہ صفائی کے ذریعے تعلیمی اداروں میں صفائی بھی کرتی ہے جس سے طلبہ کو احساس ہوتا ہے کہ اپنے گھر کے علاوہ بھی اس ملک کا ہر حصہ اپنا ہے۔جمعیت ہفتہ امداد طلبہ کے ذریعے غریب و نادار طلبہ کیلئے پیسے اکھٹے کرتی ہے جس سے ان کی فیسوں اور کتابوں کا مسئلہ حل کیا جاتا ہے۔جمعیت طلبہ کیلئے کم پیسوں میں بڑی پکنک کا اہتمام کرتی ہے جمعیت ویلکم پارٹی کے ذریعے طلبہ کا استقبال کرتی ہے جمعیت مقابلہ نعت خوانی مقابلہ شعروشاعری، نیلام گھر، اسٹوڈنٹ گالہ، اسٹوڈنٹ فیسٹیول، ٹیلنٹ ایکسپو جیسے پروگرامات کا انعقاد کرتی ہے جبکہ تقریری مقابلے مباحثوں کا انعقاد اس کے علاوہ ہیں۔

جمعیت سے وابستہ طلبہ کو لازمی طور پر کتب کا مطالعہ کرنا ہوتا ہے ان کے لئے دو اور تین روزہ ورکشاپس کا انعقاد کیا جاتا ہے مختلف تعلیمی اداروں کا دورہ کرایا جاتا ہے سال میں ایک بار پورے پاکستان کا مطالعاتی دورہ ہوتا ہے اس کے علاوہ جمعیت میں کارکن رفیق، امیدوار رکن اور رکن کے لئے اسٹیپ بائی اسٹیپ ایسے پروگرامات ڈیزائن کئے جاتے ہیں جن سے ان کی صلاحیتوں کو مزیدنکھارا جاتاہے

ورکشاپس اور پروگرامات میں اضافہ ہوتا چلاجاتا ہے جمعیت میں کوئی بھی آتا ہے تو وہ کارکن ہوتا ہے پھر کتب کے مطالعے اور صلاحیتوں کی بنیاد پر اسے رفیق بنایا جاتا ہے پھر اس کے اخلاق و کردار، تعلیمی کاکردگی، فہم و تدبر، دینی سمجھ بوجھ اور کتب بینی کو دیکھتے ہوئے امیدواررکن بنایا جاتا ہے اسی طرح یہ سلسلہ مزید بڑھتا ہے اور جب صلاحیتوں میں پختگی، کردار میں مضبوطی اور فہم و فراست میں وسعت آتی ہے اور دین کا فہم وسیع ہوجاتا ہے تو ایسے فرد کو جمعیت کا باقاعدہ رکن بنادیا جاتا ہے۔اس دوران کسی بھی طالبعلم کو کارکن سے رکن بننے تک کم از کم دو سال لگ جاتے ہیں، مگر لازمی نہیں ہے کہ ہر کوئی رکن بن جائے۔ کئی طلبہ 4 ،4 سال رہ کر جمعیت سے فارغ ہوجاتے ہیں مگر رکن نہیں بن پاتے ۔

مطلب جمعیت میں اپنی مرضی سے کوئی کچھ بھی نہیں بنتا کارکن ہر کوئی بن سکتا ہے اس کے بعد جمعیت کے پہلے سے موجود لوگ طے کرتے ہیں کون کردار کا کیسا ہے اور اسے کیا بننا چاہیے۔اہم بات یہ ہے کہ جمعیت میں ہر کوئی آسکتا ہے بہت سوں کا اخلاق اچھا نہیں ہوتا، بہت سے لڑائی جھگڑے والے ہوتے ہیں یہ سب کارکن بن سکتے ہیں مگر جمعیت کوشش کرتی ہے کہ ان میں سدھار آجائے اورسدھار نہ آنے کی صورت میں ایسوں کو جمعیت سے فارغ کردیا جاتا ہے یعنی ہرسال ہزاروں طلبہ جمعیت سے وابستہ ہوتے ہیں مگر رکن صرف سو دو سو ہی بن پاتے ہیں۔اب کوئی کسی تنظیم میں آنا چاہے تو منع تو کوئی کرتا نہیں اس لئے زیادہ تر لڑائی جھگڑوں کی وجہ یہ نئے نئے کارکن ہی بنتے ہیں۔چونکہ عام طلبہ اسی معاشرے کا حصہ ہیں اس لئے ان میں وہی عادات پائی جاتی ہیں جو معاشرے کا حصہ ہے۔

جمعیت اپنی سی کوشش کرکے اتنا کردیتی ہے کہ جب کوئی جمعیت میں دو چار سال گزار جاتا ہے تو وہ گالم گلوچ نہیں کرتا اس میں برداشت عام لوگوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے اس کا مطالعہ عام طلبہ کی نسبت زیادہ آتا ہے اس میں خود اعتمادی عام لوگوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے اپنی فیلڈ کے حوالے سے وہ عام طلبہ سے زیادہ معلومات رکھتا ہے۔یوں سمجھیں کہ کوئلے کی کان سے ہیرے کو تراش کر معاشرے میں بھیج دیا جاتا ہے اس لئے اکثر سابق ارکان جمعیت اپنے رکھ رکھاؤ اور سلجھے ہوئے طرز گفتگو سے پہچانے جاتے ہیں۔ جیسے تحریک انصاف کے رہنما اور قومی اسمبلی اسپیکر اسد قیصر اور صدر مملکت عارف علوی، ن لیگ کے احسن اقبال، اور جاوید ہاشمی اس کی واضح مثالیں ہیں۔

جمعیت کے کسی بھی کارکن، رفیق یا رکن کے عملی سیاست میں حصہ لینے پر پابندی ہوتی ہے کوئی بھی کسی بھی سطح پر کونسلر، چیئرمین ،ایم پی اے یا این اے کا الیکشن نہیں لڑسکتا۔الیکشن لڑنے کی صورت میں جمعیت سے فراغت لازمی ہے۔جمعیت اپنے کسی کارکن کو اس بات کا پابند نہیں کرتی کہ وہ جماعت اسلامی سے ہی سیاسی تعلق رکھے بلکہ جمعیت کے لوگ کسی بھی سیاسی جماعت میں جانے کیلئے آزاد ہوتے ہیں جمعیت سے تعلق صرف تعلیمی بنیادوں پر ہوتا ہے جس بھی طالب علم کی تعلیم مکمل ہوجائے اور وہ اگلے چھ ماہ کے دوران داخلہ نہ لے تو اس کا جمعیت سے خود بخود اخراج ہوجاتا ہے۔ جمعیت سے فارغ ہونے کے بعد طالب علم جمعیت کاسابق ہوجاتا ہے مگر جمعیت اپنے سابقین سے بھی روابط رکھتی ہے اور اہم پروگرامات میں انہیں دعوت نامے دیے جاتے ہیں اور یہ سابقین بھی جمعیت کو اپنی خوشی سے ہرحوالے سے معاونت فراہم کرتے ہیں۔

حیران کن طور پر جو بھی جمعیت سے وابستہ ہوتا ہے اس کے بعد اس کے بھائی اور کزن دوست وغیرہ بھی اس کی مثبت اپروچ کو دیکھ کر خود ہی جمعیت سے وابستہ ہوجاتے ہیں۔جبکہ گھر والے بھی مثبت تبدیلیوں کے پیش نظر یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر آپ نے گڑبڑ کی تو آپ کے ناظم کو شکایت کریں گے، جمعیت میں ناظم کو ماں تصور کیا جاتا ہے۔جس طرح ایک ماں اپنے بچے کی تربیت کرتی ہے اس کا خیال رکھتی ہے ایسے ہی ایک ناظم بھی اپنے ہرکارکن کا خیال رکھتا ہے، ضرورت میں مدد کرتا ہے گھروں پر جاکر حال احوال لیتا ہے ۔اس کے علاوہ جمعیت کے وابستگان کے باہمی روابط بہت زیادہ مضبوط ہوتے ہیں ساتھ کھانے کھانا، ساتھ کھیلنا، ساتھ پڑھنا، ہنسی خوشی غم ہر حال میں ساتھ رہنا۔
یہ سب چیزیں مل کر جمعیت کو ایک فیملی بنادیتی ہیں اور جمعیت کے لوگ ایک ایسی اجتماعیت کیساتھ جُڑجاتے ہیں جس میں کوئی غیر اخلاقی بات نہیں کہی جاتی۔ جس میں فحش گوئی کا کوئی تصور نہیں ہے، جس میں علم و ادب پر بات ہوتی ہے، جس میں شعروشاعری ہوتی ہے، جس میں فنون لطیفہ کو زیربحث لایا جاتا ہے جس میں علمی موضوعات کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ سیاسی و بین الاقوامی امور پر سیر حاصل گفتگو ہوتی ہے، نماز باجماعت کا اہتمام ہوتا ہے درس قرآن اور مطالعہ حدیث کا اہتمام کیا جاتا ہے۔رات کے اوقات میں قبرستان جاکر زیارت قبور کی جاتی ہے، تنہائی میں اپنا محاسبہ کیا جاتا ہے۔رب سے تعلق کو مضبوط کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔رو رو کر اللہ سے اپنے جانے انجانے میں کیے گئے گناہوں کی معافی مانگی جاتی ہے ۔

جمعیت ایک ایسی آئیڈیل تنظیم ہے جو یورپ میں ہوتی تو ہر دوسرا طالب علم اس کا ممبر ہوتا اور اس سے دنیا بے پناہ فیض اٹھاتی، مگر پاکستان میں معاشرہ ایسا ہے کہ جمعیت کو سفید کپڑے پر ایک داغ لگنے کے مصداق ہر معاملے میں ٹارگٹ کیا جاتا ہے جمعیت کی 99 اچھائیوں پر اس کی ایک برائی بھاری پڑجاتی ہے۔بہرحال اس کے باوجود ایک عام طالب علم جمعیت سے بدگمان ہونے کے بجائے اس سے جڑتا جارہا ہے اور یہ سلسلہ رکنے میں نہیں آرہا۔ خیر یہ تو تنویراعوان کی بے ربط باتیں ہیں مگر مخالفین جمعیت ضرور ریسرچ کریں کہ جمعیت کے پاس وہ کون سی گیدڑ سنگھی ہے جو یہ آج تک قائم و دائم ہے۔اور مزید پھل پھول رہی ہے۔

تنویراعوان


  • 13
    Shares

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *