اسلام اسلام

ملی بہشت حجاز میں—انس انیس


عشق رسول ومحبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم؛
انس انیس
خوش نصیب ہے وہ شخص جس کے قلب و جگر میں عشق نبوی محبت نبی کا چراغ جل رہا ہے اس سے بڑھ کر خوش بخت ہے وہ آدمی جس نے عشق نبی ومحبت نبی کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک سنت وطریقہ پر عمل کیا؛ آپکی سیرت کو اپنے جسم کے ذرہ ذرہ پر نافذ کیا؛ یہی عشق نبی گناہگار وسیاہ کار کو جلا بخشتا ہے؛ علامہ سلیمان ندوی رحمہ اللہ کا شعر ہے
عشق نبوی درد معاصی کی دوا ہے
ظلمت کدہ دہر میں وہ شمع ہدی ہے
احمد سے پتہ ذات احد کا جو ملا
مصنوع سے صانع کا پتہ سب کو ملا ہے؛
اقبال سہیل نے کیا خوب کہا
کتاب فطرت کے سر ورق پر جو نام احمد رقم نا ہوتا
تو نقش ہستی ابھر نہ سکتی وجود لوح و قلم نہ ہوتا
یہ وہ ذات ہے جن کی زلفوں کی جن کے حسن کی جن کے شہر وزمانے کی قسمیں خالق کائنات نے اپنی لاریب کتاب میں اٹھائیں؛ جن کی آنکھوں کو مازاغ البصر کا خطاب دیا جن کے ہونٹوں کا ذکر قرآن میں جن کے اخلاق وکردار کا ذکر کلام مجید میں فرمایا؛ ایک گناہگار امتی جو سب کچھ سہہ سکتا ہے ہر چیز برداشت کر سکتا ہے پر جب آقا علیہ السلام کی ذات گرامی پر حرف آتا ہے تو مسلمان کے رگ و پے میں بجلیاں دوڑنے لگتی ہیں؛ جسم کا ذرہ ذرہ بیدار ہو جاتا ہے پھر وہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتا ہے
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
لگے ہاتھوں ایک گناہگار امتی جو مے نوشی میں ہر وقت لت رہتا تھا اس کے عشق رسول صل اللہ علیہ وسلم کا واقعہ ملاحظہ فرمائیں؛
اختر شیرانی اردو ادب کا ایک بہت بڑا نام ہے؛ اختر شیرانی رومانوی شاعری میں اپنی مثال آپ تھے اپنے وقت میں انہوں نے دو ادبی رسالے نکالے خیالستان اور ماہنامہ رومان؛ شورش کاشمیری رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ دونوں ماہناموں کا ایک خاص اسلوب تھا جو اختر شیرانی سے شروع ہوا اور انہی پر ختم ہو گیا؛ آئیے آج کی نشست اختر شیرانی کا ایک واقعہ جو عشق رسول صل اللہ علیہ و سلم پر مبنی ہے اس کا ذکر کرتے ہیں؛ لاہور کے عرب ہوٹل میں شراب وکباب کی محفل اپنے شباب پر ہے بلا کے ذہین کیمونسٹ نوجوانوں کا حلقہ لگا ہوا ہے ان نوجوانوں نے اختر شیرانی سے مختلف موضوعات پر بحث چھیڑ دی اس وقت وہ دو بوتلیں چڑھا چکے تھے اور ہوش و حواس اڑ چکا تھا تمام بدن پر رعشہ طاری تھا حتی کہ الفاظ بھی ٹوٹ پھوٹ کر نکل رہے تھے اور اپنی انا کا عالم تھا کہ ہمچو دیگرے نیست؛ جانے کون سا سوال زیر بحث تھا فرمایا مسلمانوں میں تین شخص ایسے پیدا ہوئے جو ہر اعتبار سے جینیس تھے اور کامل الفن بھی پہلے ابوالفضل؛ دوسرے اسد اللہ خان غالب؛ تیسرے ابو الکلام آزاد؛ شاعر شاذ ہی کسی کو تسلیم کرتے تھے ہمعصر شعراء میں جو کوئی شاعر تھا اسے اپنی سے کمتر تصور کرتے؛ کیمونسٹ نوجوانوں نے فیض کے بارے میں سوال کیا طرح دے گئے جوش کے متعلق پوچھا کہا ناظم ہے سردار جعفری کا نام لیا مسکرائے؛ فراق کا ذکر ہوں ہاں کر کے چھپ ہو گئے؛ ساحر لدھیانوی کی بات کی کہا سامنے بیٹھا ہے فرمایا مشق کرنے دو؛ ظہیر کاشمیری کے بارے میں کہا نام سنا ہے احمد ندیم قاسمی؟ فرمایا میرا شاگرد ہے؛ نوجوانوں نے دیکھا ترقی پسند تحریک کے ہی. منکر ہیں تو بحث کا رخ پھیر دیا حضرت فلاں پیغمبر کے بارے میں آپکا کیا خیال ہے,؟ آنکھوں سرخ ہو رہی تھی نشہ میں چور تھے زبان پر قابو نہیں تھا لیکن چونک کر فرمایا کیا بکتے ہو ادب وانشاء کی بات کرو؛ کسی نے فوراً افلاطون کی طرف رخ موڑ دیا ان کے مکالمات کی بابت کیا خیال ہے؟ ارسطو اور سقراط کے بارے میں سوال کیا مگر اس وقت وہ اپنے موڈ میں تھے فرمایا اجی پوچھو یہ کہ ہم کون ہیں یہ ارسطو؛ افلاطون سقراط آج ہوتے تو ہمارے حلقے میں بیٹھتے؛ ہمیں ان سے کیا ان کے بارے میں رائے دیتے پھریں؛ اس لڑکھڑاتی ہوئی آواز سے فائدہ اٹھا کر ایک ظالم قسم کے کیمونسٹ نے سوال کیا؛ آپ کا حضرت محمد صل اللہ علیہ و سلم کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اللہ اللہ ایک شرابی جیسے کوئی برق تڑپی ہو بلور کا گلاس اٹھایا اور اس کے سر پر دے مارا؛ بدبخت ایک عاصی سوال کرتا ہے ایک سیہ رو سے پوچھتا ہے ایک فاسق سے کہلوانا چاہتا ہے تمام جسم کانپ رہا تھا؛ ایکا ایکی رونا شروع کر دیا گھگھی بندھ گئ ایسی حالت میں تم نے یہ نام کیوں لیا تمھاری جرآت کیسے ہوئی؟ گستاخ بے ادب باخدا دیوانہ باش وبامحمد ہوشیار؛ اس شریر سوال پر توبہ کرو تمھارا خبث باطن سمجھتا ہوں؛ اختر شیرانی مجلس سے آٹھ گئے اور بقیہ رات رونے میں گزار دی کہتے کہتے تھے یہ لوگ اتنے نڈر ہوگئے ہیں آخری سہارا بھی چھین لینا چاہتے ہیں میں گنہگار ضرور ہوں لیکن مجھے یہ کافر بنا دینا چاہتے ہیں؛ قارئین آئیے اس گنہگار امتی کی عشق رسول صل اللہ علیہ و سلم میں ڈوبی ہوئی نعت پڑھیے؛
اگر اے نسیم سحر ترا گزر ہو دیار حجاز میں
مری چشم تر کا سلام کہنا کہ حضور بندہ نواز میں
تمہیں حد عقل نہ پا سکی فقط حال اتنا بتا سکی
کہ تم ایک جلوہ راز تھے جو عیاں ہے رنگ مجاز میں
نہ جہاں میں راحت جاں ملی نہ متاع امن واماں ملی
جو دوائے درد نہاں ملی تو ملی بہشت حجاز میں

عجب اک سرور سا چھا گیا میری روح ودل میں سما گیا؛
تیرے نام سے آگیا مرے لب پہ جب بھی نماز میں؛
کروں نزر نغمہ جانفزا میں کہاں سے اختر بے نوا
کہ سوائے نالہ دل نہیں ہے مرے دل کے غمزدہ ساز میں؛