اسلام اسوہ حسنہ

سیرت طیبہ ہی میں کامیابی–عبدالسبحان اخونزادہ


سیرت کرداراور اخلاق کانام ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی رشدوہدایت کے لیے ابتداء آفرینش سے آج تک اپنے برگزیدہ انبیاء کرام مبعوث فرمائے. اور آج سے چودہ سوسال پیش تر سے، لےکر آج تک،اور آج سے قیامت تک،محمد ﷺ کومکہ معظمہ،میں دوشنبہ کے دن 9 ربیع الاوّل 1 عام لفیل مطابق22اپریل571 ء کومکہ معظمہ میں پیدافرمایا،

سیرت طیبہ ﷺ
اخلاق حسنہ کی اہمیت کے پیش نظر ہی اللہ رب العزت نے اپنے محبوب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خلق عظیم کے اعلیٰ درجہ پر فائز کیا۔سورہ قلم میں اللہ تعالی ارشاد ہے:
وَإِنَّكَ لَعَلىٰ خُلُقٍ عَظيمٍ ۔.
’’بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں (یعنی آدابِ قرآنی سے مزّین اور اَخلاقِ اِلٰہیہ سے متّصف ہیں)‘‘
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے حضرت سعید بن ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ محمد ﷺکے اخلاق حسنہ جن ﷺ تعریف قرآن مجید میں انک لعلی خلق عظیم کہہ کر کی گئی۔ وہ کیا ہیں؟ توجواب میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا :
کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا؟
انہوں نے عرض کیا کہ پڑھتا ہوں۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا :

محمد ﷺ کا خلق قرآن ہی تو ہے. دوسری جگہ اللہ تعالی کا ارشادہے:لَقَد كانَ لَكُم فى رَسولِ اللَّهِ أُسوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَن كانَ يَرجُوا اللَّهَ وَاليَومَ الءاخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثيرًا.
ترجمہ: تم کومحمد ﷺ کی پیروی (کرنی) بہتر ہے (یعنی) اس شخص کو جسے اللہ (سے ملنے) اور روز قیامت (کے آنے) کی اُمید ہو اور وہ اللہ کا ذکر کثرت سے کرتا ہو۔
محمدﷺ کی شخصیت ہرمسلمان کے لیےکتنی محترم ہے۔قرآن وسنت اور سیرت طیبہ سے واضح ہے۔یہ ایک زندہ وجاوید حقیقت ہے۔
محمد ﷺ.انصاف کے معاملے میں اپنے پرائے آپ کے نزدیک برابر ہوا کرتے تھے۔مساکین سے محبت فرمایا کرتے تھے۔غریبوں کی مدد کرنا،اور ان میں رہنا پسند فرماتے تھے۔کسی فقیر کو تنگدستی کی وجہ سے حقیر نہ سمجھا کرتے تھے.
رحمۃ للعٰلمین میں قاضی سلیمان منصور پوری رحمہ اللہ نے امام غزالی رحمہ اللہ کے حوالے سے لکھا ہے.”آنحضرتﷺ مویشی کوچارا ڈادیتے ،اونٹ کوباندھتے،گھر میں صفائی کرلیتے،خادم کواس کے کام کاج میں مدد دیتے،بازارسے چیز خرید لیتے،خود اُسے اُٹھالاتے،ہر ادنیٰ واعلیٰ خوردوبزرگ کوسلام میں پہلے کردیا کرتے ۔سخی تھے مگر اسراف نہ تھا۔”
فتح مکہ کے بعد سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے اپنا بوڑھا ضعیف باپ بیعت اسلام کرانے کے لیے لائے تو نبیﷺنے فرمایا:تم نے اس بوڑھے کوتکلیف کیوں دی میں خود اس کے پاس چلاجاتا۔

اگر آج کے مسائل کا حل بدرجہ اتم توصرف رسول ﷺکی سیرت طیبہ میں ملےگا.اُسی کی طرف رجوع کرناہوگا۔کیوں کہ ہمارے نبیﷺکی حیات طیبہ میں ہمارے لیے بہترین نمونہ موجود ہے .محمد ﷺ کی 63سالہ زندگی میں اور
مبارک واقعات میں ہرملک ہرطبقہ کے لوگوں کے لیے بہترین نمونہ موجود ہیں..دنیامیں انسانی معاشرے ہمیشہ تعلیم و تربیت اور اخلاق حسنہ سے عروج اور استحکام حاصل کرتے ہیں۔ معاشرہ کے امن، خوشحالی اور کامیابی کا راز علم، عمل

اور اخلاق ہی میں پوشیدہ ہے۔ اسی طرح قیادتیں بھی علم، عمل اور اخلاق حسنہ سے تشکیل پاتے ہیں. اور ظہور پذیر ہوتے ہیں۔

آج کے مسائل کاحل سیرت طیبہ میں مل سکتاہے.اگر ہم سیرت طیبہ کامطالعہ شروع کریں اور وہ طریقے اپنائےجو ہمارے نبی ﷺ کے تھے .نہ کے غیروں کے آج مسلمان خوار و ذلیل اس لیے ہیں.ان کےبنیادی اسباب اپنے نبی ﷺ کے اقوال وافعال کوپس پشت ڈالنے کےہیں۔
۔آج ہم غریبوں سے دور بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اور نامور اور مالدار لوگوں سے قربت میں اپنا بھلاسمجھ بیٹھے ہیں۔ لیکن پھربھی سکون نام کا کوئی چیز نہیں۔ آئے دن بھیک مانگنے والوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہیں. اور تنگ دست ونادار لوگ کے بھیانک واقعات رونماہونے لگے۔
جب کسی قوم میں بے حیائی عام ہوئی ہے. تو طاعون اور طرح طرح کی بیماریاں ان میں پھیل جاتی ہیں .جو اس سے پہلے کبھی نہیں تھیں۔جب ناپ تول میں کمی شروع ہوجاتی ہے تو وہ قوم قحط سالی اور تنگی کے ساتھ ظالم حکمرانوں کے تسلط میں مبتلا ہوگی ۔جو قوم زکوٰة کی ادائیگی نہیں کرے گی اس پر بارش کم کردی جائے گی ۔جو لوگ عہد شکنی کریں گے تو اللہ غیر قوم کو ان پر مسلط کردیں گے۔جو قوم شراب پینے اور موسیقی ومیوزک سننے میں مبتلا ہوگی تو ان پر زلزلے آئیں گے. یہ اور اس طرح کی بے شمار احادیث دنیا میں گناہ کی سزا اور نقصانات پر دال ہیں۔بے حیائی بھی حدسے نکل چکی ہے:ایک زمانہ ہوتاتھا لوگ خطوط ،قاصد ، ٹیلیفون اور فیکس کے ذریعے رابطہ کرتے تھے،آج جہاں دنیا ترقی یافتہ بن چکی ہے وہاں بے حیائی کا ایک طوفان بھی بپا ہوچکاہے۔ بے حیائی دن بدن روبہ عروج ہوتی جارہی ہیں ،الیکٹرانک میڈیا سے پرنٹ میڈیاتک اور اس سے سوشل میڈیا تک پر انتہائی غلاظت پھیلائی جارہی ہے۔اس طوفان بتمیزی مچاہواہے۔رسول اکرم ﷺکے جوفرامیں ہےان کو سامنےرکھ کر اپنے بچوں ،بھائیوں اور گھر والوں سے اخلاق محمد ﷺ کے بیان کردہ اندازمیں سیرت طیبہﷺ کی تعلیم عام کی جائے، پردے کا اہتمام کرنا ناگزیر ہے.اور مرد اور عورت کی پردے کا اہتمام کیا جائے اور نظرو کی حفاظت کویقینی بنایا جائے۔
رسول کریم ﷺکی سیرت توہمیں یہ بتاتی ہیں کہ ۔مسلمان مسلمان کابھائی ہے۔افسوس سے کہنا پڑھتا ہے،کہ مسلمان آج گروہوں پارٹیوں اور شدید نااتفاقی کا شکار ہوچکاہے۔اگر مسلمان آپس میں جگڑوں اور باہمی چپقلش کا شکارہے .تو اس کا واحد حل سیرت طیبہ ﷺمیں موجود ہے ،آج تمام اسلامی ممالک بھی انتشار کا شکار ہوچکے ہیں ورنہ مسلمان جتنا مظلوم بن چکا ہے کسی زمانے میں یہ حکمران ہواکرتاتھا ،کیوں کہ اپنے نبی ﷺکی سیرت پر عمل پیرا تھا۔
والدین اور بزرگوں کی نافرمانی ،نبی اکرم پر جو قرآن نازل ہوا ہے اس میں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہے ۔ والدین کواُف تک نہ کہو۔اور بزرگوں کا ادب ۔بزرگوں کی عزت کا حکم ملا ہے کہ بڑوں کی عزت کروں اور چھوٹوں پر شفقت،جب نبیﷺ بچوں کےقریب سےگزرتا،تو السلام علیکم کہا کرتے،ان کے سر پر ہاتھ رکھتے اور انہیں گود میں اُٹھالیتے۔
رسول ﷺ نےنماز،حج ،روزہ،زکوۃ اور دیگرعبادات کی تلقین فرمائی ہے۔اور گناہوں سے باز رہنے اور گناہوں سے توبہ کاطریقہ بتلایا ہے،یہی اسباب ہیں, کہ آج قرآن وسنت کا راستہ ہم نے ترک کرلیا ہے اس لیے مسائل میں گیرے ہوئے ہیں.