ذیابیطس اور اس کی آگاہی — چوہدری محمد عرفان چھینہ


11006416_10206144739768363_7992942790679306508_n

نومبر میں پوری دنیا میں ذیابیطس کے بارے میں اگاہی کیلئے مختلف پروگرامز ترتیب دئیے جاتے ہیں اسی مناسبت سے آئیے دیکھتے ہیں کہ
ذیابیطس کیا ہے اور اس کے بارے میں اگاہی کتنی ضروری ہے
ہم جو خوراک کھاتے ہیں وہ بعد از ہضم مختلف نیوٹرینٹس کی شکل میں خون میں شامل ہو کر جسم کے ہر ہر حصے میں پہنچتی ہے ان نیوٹرینٹس میں سے گلوکوز کو مسلز تک رسائی کیلئے ایک ہارمون انسولین کی ضرورت ہوتی ہے یہ انسولین ہمارا لبلبہ تیار کرتا ہے انسولین مسلز میں موجود اپنے ریسیپٹرز چابی کے طور پر اثر انداز ہوتی ہے اور مسلز میں موجود گلوکوز کے داخلی دروازے کھل جاتے ہیں اور گلوکوز خون سے جسم میں پہنچ جاتا ہے اب اگر انسانی لبلبہ ۱) انسولین کم بنانا شروع کر دے
یا
۲) انسولین بالکل نہیں بنائے
یا
۳) انسولین اپنے ریسیپٹرز پر صیحیح طور پر اثر نہ کر سکے
تو ان وجوہات کی وجہ سے گلوکوز کے لیول خون میں بلند ہو جاتے ہیں اور اس حالت کو ذیابیطس کہتے ہیں ۔
ہر مریض میں ذیابیطس کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں اور اسی وجہ کو دیکھتے ڈاکٹر حضرات مختلف طریقہ علاج تجویز کرتے ہیں ۔
ذیابیطس کے مریض کو علاج کے ساتھ ساتھ پرہیز کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔ اور مریض کا یہ چیز سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اس بیماری کا مکمل علاج ابھی تک ممکن نہیں ہے اور اس کی صرف مینجمنٹ کر کے ہی بہتر زندگی گزاری جا سکتی ہے
اکثر ترقی یافتہ ممالک میں شوگر سپیشلسٹ کی معاونت کیلئے ڈائیابٹیز ایجوکیٹر ضرور موجود ہوتا ہے ڈاکٹر مریض کو ادویات تجویز کرتا ہے اور ڈائیابٹیز ایجوکیٹر مریض کو نسخہ، پرہیز، متوازن غذا اور ورزش کے بارے میں مکمل راہنمائی فراہم کرتا ہے پاکستان میں بھی اکثر ڈاکٹر حضرات کے پاس اتنا وافر وقت موجود نہیں ہوتا کہ اس لیے وہ صرف نسخہ تجویز کرنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے ایک ڈینش ارگنائزیشن “نووو نارڈسک” پاکستان میں”نووو کیئر” کے نام سے ایک پروگرام شروع کر چکی ہے اس رفاہ عامہ کے پروگرام کے تحت سو سے زیادہ ایجوکیٹر مختلف ہسپتالوں میں مریضوں کو مفت ایجوکیٹ کر رہے ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ اس پروگرام کے شروع ہونے سے آنے والے دنوں میں ذیابیطس کے خلاف جنگ میں کافی مدد ملے گی۔ایسے پروگرامز کی عوامی اور حکومتی دونوں سطح پر پذیرائی کرنی ہونی چاہیے۔
اکثر اوقات ذیابیطس کا مریض مختلف قسم کے عطائی ڈاکٹروں کے جھانسے میں آکر اپنا علاج معالجہ چھوڑ دیتا ہے جس کی وجہ سے وہ مختلف قسم کی پچیدگیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اس کی بیماری کنٹرول کرنا پھر کافی مشکل ہو جاتا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عطائی ڈاکٹروں سے علاج کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کی جائے۔
نصف سے زیادہ ذیابیطس میں مبتلا ایسے افراد ہیں جو اپنی بیماری کے بارے میں لاعلم ہیں
ایسے افراد جن کی فیملی میں کوئی فرد ذیابیطس میں مبتلا ہو یا جن کا وزن ایک مقررہ حد سے زیادہ ہے ان افراد کو چاہیے کہ گاہے بگاہے اپنے شوگر لیول چیک کرواتے رہیں


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *