اور بجلی کٹ گئی سے اقتباس—الیاس بابرمحمد


عابدہ حسین معروف پاکستانی سیاستدان ہیں ،امریکہ میں پاکستان کی سفیر بھی رہی
ہیں انکی حالیہ آنے والی کتاب ” POWER FAILURE ” کا اردو ترجمہ ” اور بجلی کٹ
گئی ” کے نام سے اکتوبر میں مارکیٹ میں آیا ہے اسی سے لکھاری کے قارئین کے لیے
کچھ دلچسب واقعات قسط وار شئیر کر رہا ہوں –

عابدہ حسین اپنی کتاب کے اولین باب میں محترمہ فاطمہ جناح سے اپنی ملاقات کا
لکھتی ہیں

” مس جناح سے ملاقات یورپ سے پاکستان واپسی کے بعد پہلا ایسا واقعہ تھا جس نے
میرے ولولوں پر اوس ڈالی – میں اواخر جولائی کی تیز ہواؤں والی صبح میں والدہ
کے ہمراہ طے شدہ وقت پر Mohatta پیلس پہنچی – میں نے باھر ہی دروازے پر کافی
دیر تک گھنٹی بجائی – آخر کار مس جناح نے خود ہی دروازہ کھولا – وہ ہمیں لے کر
ایک تاریک اور حبس زدہ سٹنگ روم آئیں – محترمہ نے میری ماں کو نام سے پکارتے
ہوئے کہا ” کشور کھڑکی کی چٹخنیاں کھول دو ، تم اور تمھاری بیٹی مجھ سے زیادہ
دراز قد اور صحت مند ہو ” –

ہم نے فورا” اس حکم کی تعمیل کی جیسے ہی ساگوان کی کھڑکی کے پٹ کھلے اور ہوا
اور روشنی اندر داخل ہوئی ، میں یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ وہ کتنی عمر رسیدہ
اور کمزور نظر آ رہی تھیں –
” چندی ( عابدہ کا پیار سے پکارے جانے والا نام ) ابھی ابھی سوئزر لینڈ اور
اٹلی سے اپنی تعلیم مکمل کر کے آئی ہے اور فخر کی شدید خوائش تھی کہ یہ آپکو
سلام کرنے آئے والدہ نے بڑی تعظیم سے کہا ” –

” بچے ذرا گھنٹی تلاش کرنا تاکہ میری بوڑھی بہری خادمہ آپ لوگوں کے لیے چائے
یا لیمو پانی لے آئے ، کشور تم دیکھ سکتی ہو کہ میرے صوفوں پر ڈھیلا ڈھالا
غلاف پڑا ہے کیونکہ میرے ہاں بہت کم مہمان آتے ہیں – ان دنوں وہ سب میری
سوتیلی بہن شیریں بائی سے ملنے جاتے ہیں کیونکہ وہ ایوب خان حکومت میں کچھ
روابط رکھتی ہے – اگر میرے بھائی نے یہ سب کچھ دیکھا ہوتا تو کیا وہ پاکستان
بنانے کے لیے اتنی انتھک کوشش کرتے ؟ کیا انہوں نے کبھی ایک بے آئین ملک کی
خوائش کی ہوتی ؟ جہاں انصاف نہ ہو اور چاپلوسی اور خوشامدی اتنے طاقتور بنے
ہوتے ، جہاں باضمیر اور معزز لوگ گم ہونے لگتے – پاکستان نے ایسا ہی روپ نے
اختیار کرنا تھا تو اسکا بنانا محض ایک احمقانہ غلطی تھی ” –

باب تین میں عابدہ حسین نے لاہور میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس میں
لیبیا کے صدر کی بیگم سے ملاقات کا کچھ یوں ذکر کیا ہے

” لنچ میں مجھے لیبیا کے صدر معمر قذافی کی تازہ ترین بٹھایا گیا – مادام
قذافی اطالوی زبان بولتی تھیں جو واضح طور پر میری اطالوی زبان سے زیادہ شکستہ
تھی ، اور وہ کافی مردانہ قسم کی خاتون بھی تھیں ، لہذا اس وقت مجھے حیرت نہ
ہوئی جب انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر کے باڈی گارڈ کی ٹیم کی ایک سرکردہ
رکن ہوا کرتی تھیں – البتہ میں اس بات کو سراہے بغیر نہ رہ سکی کی وہ صاف گو
اور کام کرنے والی خاتون پر نہایت فخر مند تھیں – انکا لباس بدنما تھا زعفرانی
پیلا ، مختصر ، گھٹنوں سے تھوڑا اوپر جسکے نیچے بھڑکیلے سفید سفید وینائل لانگ
بوٹ پہن رکھے تھے – میں نے بیگم بھٹو ( مسز ذوالفقار ) کو حیرت انگیز بوٹس کو
گھورتے ہوئے پکڑ لیا – جب میں ہنسی روکنے کی سرتوڑ کوشش کر رہی تھی انہوں نے
مجھے آنکھ ماری ” –

( جاری ہے)


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *