چھوٹی غفلت بڑا نقصان– ابوثمامہ احسن


15207939_343911405967558_1426955542_n

کسی بھی آزاد و خود مختار ریاست کے قیام میں تین شعبہ جات کی اہمیت محتاج بیاں نہیں. مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ. تمام اندرونی و بیرونی معاملات کے حل کے لیے تینوں شعبے اپنے زیلی اداروں کے زریعے اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کرتے ہیں. قوانین شہریوں کی جان ومال ،عزت و آبرو کے تحفظ کے لیے بنائے جاتے ہیں اور انتظامیہ انہیں نافظ کرتی ہے. کسی بھی معاشرے کو ہر قسم کے قوانین سے آزاد کردینے سے جرائم پر اختیار ختم ہو جاتا ہے. شہریوں کی عزت جان و مال کا تحفظ ناممکن ہو جاتا ہے. انتظامی شعبہ کے زیل میں کسی بھی ملک ، ریاست اور معاشرہ میں فورسز کی اہمیت مسلم ہے. جہاں زخیرہ ہوگا وہاں محافظ کی ضرورت ہوگی. محکمہ پولیس کی اہمیت کا انکار ممکن نہیں. اس سے قطع نظر کے قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہر انتظامی ادارے سے بڑھ کر پاک فوج کے شانہ بشانہ اسی ادارے نے قربانیاں دے کر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا.قربانیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جس کا اعتراف احاطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں. تاہم ہر ادارے میں موجود کچھ عناصر اس ادارے کی بدنامی کا باعث بنتے رہتے ہیں کیونکہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں. جولائی کی ایک خوبصورت شام راولپنڈی سے رخت سفر باندھا ہلکی ہلکی بارش میں زاتی گاڑی میں میرے ساتھ ڈیفنس کے ایک ادارے سے وابستہ ایک دوست محو سفر تھے. گھریلو ضرورت کے پیش نظر محنت و مشقت کی حلال کمائی سے جنریٹر لیا گھر کی طرف رواں دواں کوہالہ کے مقام پر پہنچا ناکہ بند تھا. پولیس کے جوان رات آٹھ بجے اپنی پوری جانفشانی سے محو کار تھے.اپنے فرائض منصبی میں بڑی تندہی سے شریک دیکھ کر کسی بھی زمہ دار شہری کی طرح دلی خوشی محسوس ہوئی. قلب ان کے احساس زمہ داری کا قائل ہوا. زبان ان کی تعریف میں محو تھی کہ اچانک شیشے پر دستک سنائی دی. شیشہ اتارا تو ایک سپاہی نے پیشہ ورانہ انداز میں ضروری کاغذات کی موجودگی کا پوچھا. جواب اثبات میں پا کر گاڑی کی جامہ تلاشی کا حکم نامہ جاری ہوا. پچھلی سیٹ پر رکھا جنریٹر ان کی توجہ کا مرکز بنا تو استفسار ہوا. کہاں سے لایا؟ کیسے لایا گیا؟ کتنے میں لایا گیا؟ خوشی ہوئی کہ اس قدر چھان بین ہی ہماری اس ریاست کے پرامن ہونے کی وجہ ہے کہ مظفرآباد کے اطراف و اکناف اور مضافات میں آج تک کوئی غیر معمولی واقعہ پیش نہیں آیا. سوچوں پر سکوت کا غلبہ تھا کہ اچانک نوجوان موصوف کی طرف سے جنریٹر لانے کی خوشی میں مٹھائی کھلانے کی فرمائش کی فہمائش ہوئی. اور نہ کھلانے کی پاداش میں مجرم قرار دیتے ہوئے انتہائی سزا کا حق دار قرار ديئے جانے کی پیش گوئی کی گئی. قانون کے احترام میں اور اس کے زبان زدعام اندھے پن سے بچنے کے لیے سو روپے کا نوٹ آگے بڑھایا تو بیرئیر اچانک کھل سا گیا گویا سو روپے کے نوٹ نے پوری چوکی میں جان ڈال دی ہو. ضمیر پہ اک بوجھ کہ آج بلا وجہ رشوت دے کر مرتشی بنا. اسی بوجھ تلے اگلا قدم بڑھایا. کبھی خیال آتا کہ سو روپے کے اس نوٹ نے میری جیب میں کچھ کمی نہ لائی اور اس غریب کا بھلا ہو گیا. اس کے چھوٹے چھوٹے بچے مہینے کی آخری تاریخ کے منتظر کب تلک بلکتے رہیں گے. ارباب اقتدار کے لیے ایک سوال گوشہ زہن میں مستقل رہا کہ ایسے کئی جنریٹر بھاری بھرکم تخریب کاری کا مواد لئے انتہائی کم داموں اس ناکے سے گزر سکتے ہیں. کم از کم دام تو بڑھا دئیے جائیں کہ انتہائی کم داموں بکنے کی تذلیل تو I ہو. کہیں اس انتہائی سستی غفلت سے ہم کسی انتہائی بیش قیمت چیز کا نقصان نہ کردیں


You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *